تعلیم اور بیٹی: ایک خواب یا ادھوری حسرت؟

کہتے ہیں کہ اگر آپ ایک مرد کو تعلیم دیتے ہیں تو آپ صرف ایک فرد کو تعلیم دیتے ہیں، لیکن اگر آپ ایک عورت کو تعلیم دیتے ہیں تو آپ ایک پوری نسل کو سنوار دیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ آج کے جدید دور میں بھی، جہاں ہم مریخ پر کمندیں ڈالنے کی باتیں کرتے ہیں، ہمارے معاشرے کے کئی گھروں میں بیٹی کی تعلیم ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

کسی بھی ترقی پذیر معاشرے میں بیٹیاں وہ بنیاد ہیں جن پر مستقبل کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ لیکن جب ہم اپنے دیہاتوں اور پسماندہ علاقوں کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو منظر کچھ مختلف نظر آتا ہے۔ وہاں آج بھی بیٹی کو "پرایا دھن” سمجھ کر اس کی تعلیم پر سرمایہ کاری کرنا "ضائع” سمجھا جاتا ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جب ہم ایک بیٹی سے قلم چھین کر اسے کچن کی چولہا چکی تک محدود کر دیتے ہیں، تو ہم دراصل ایک آنے والی نسل سے اس کی بہترین معلمہ چھین لیتے ہیں؟

بیٹیوں کی تعلیم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ صرف غربت نہیں، بلکہ وہ سوچ ہے جو سمجھتی ہے کہ "لڑکی نے پڑھ کر کون سی نوکری کرنی ہے”۔ یہ سوچ اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف معاشی خوشحالی نہیں بلکہ شعور کی بیداری ہے۔ ایک پڑھی لکھی ماں ہی اپنے بچوں کی بہتر پرورش کر سکتی ہے، انہیں صحت کے اصول سکھا سکتی ہے اور انہیں ایک اچھا شہری بنا سکتی ہے۔

حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل میڈیا اور موبائل جرنلزم نے اس حوالے سے ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ آج کی بیٹی اگر اسکول نہیں جا پا رہی تو وہ انٹرنیٹ کے ذریعے علم کے سمندر تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اور معاشرہ مل کر بیٹیوں کے لیے ایسا محفوظ ماحول فراہم کریں جہاں وہ بغیر کسی خوف کے اپنی تعلیمی پیاس بجھا سکیں۔

ہمارے مذہب اور قانون، دونوں نے علم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض کیا ہے۔ تو پھر ہم کون ہوتے ہیں ان کے خوابوں پر پہرے بٹھانے والے؟ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں۔ بیٹی کو صرف جہیز دینے کے بجائے اسے تعلیم کا زیور دیں، کیونکہ جہیز تو وقت کے ساتھ پرانا ہو جاتا ہے، مگر تعلیم کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑتی۔

یاد رکھیے، جس گھر میں بیٹی کے ہاتھ میں کتاب ہوتی ہے، اس گھر کا مستقبل ہمیشہ روشن ہوتا ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے: کیا ہم اپنی بیٹیوں کو صرف خواب دیکھنے دیں گے یا ان خوابوں کو حقیقت بنانے میں ان کا ساتھ دیں گے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے