نواز شریف سکولز آف ایمیننس، تعلیمی مساوات اور بدلتا ہوا پنجاب

کسی بھی قوم کی ترقی کا اصل پیمانہ اس کے بلند و بالا محلات، وسیع شاہراہیں یا جدید ترین انفراسٹرکچر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے سرکاری اسکولوں کا معیارِ تعلیم ہوتا ہے۔

تعلیم وہ واحد ہتھیار ہے جو معاشرے میں موجود طبقاتی تقسیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان، اور بالخصوص پنجاب میں ایک طویل عرصے سے دوہرا تعلیمی نظام رائج رہا ہے۔ ایک طرف وہ مراعات یافتہ طبقہ ہے جو مہنگے ترین نجی اداروں میں بین الاقوامی معیار کی تعلیم حاصل کرتا ہے، اور دوسری طرف عام آدمی کا بچہ ہے جو بنیادی سہولیات سے محروم سرکاری اسکولوں میں اپنا مستقبل تلاش کرنے پر مجبور ہے۔ اس تعلیمی خلیج نے نہ صرف معاشرتی عدم مساوات کو جنم دیا بلکہ ملک کی بڑی افرادی قوت کو مقابلے کی دوڑ سے باہر کر دیا۔تاہم موجودہ دور میں پنجاب کے تعلیمی منظر نامے پر ایک ایسی تبدیلی دستک دے رہی ہے جو آنے والی نسلوں کا مقدر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حکومتِ پنجاب کا ”نواز شریف سکولز آف ایمیننس“ کا منصوبہ اسی سلسلے کا ایک انقلابی سنگِ میل ہے۔

یہ منصوبہ محض چند اسکولوں کی عمارتوں کی رنگ و روغن یا مرمت کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکمل ”ایجوکیشن ماڈل“ ہے جس کا مقصد سرکاری شعبے میں وہ تمام سہولیات فراہم کرنا ہے جو اب تک صرف اشرافیہ کے لیے مخصوص سمجھی جاتی تھیں۔ اس منصوبے کا آغاز ہی اس عزم کی علامت ہے کہ اب غریب کا بچہ بھی وہی خواب دیکھ سکے گا جو ایک امیر کا بچہ دیکھتا ہے۔”نواز شریف سکولز آف ایمیننس“ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا جدید ترین انفراسٹرکچر ہے۔

روایتی کلاس رومز کی جگہ اب وہاں اسمارٹ کلاس رومز لے رہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ڈیزائن کیے گئے نقشوں میں جدید سائنس لیبارٹریز، کمپیوٹر لیبز اور خاص طور پر روبوٹکس لیبز کو شامل کیا گیا ہے۔ آج کی دنیا ”فورتھ انڈسٹریل ریولوشن“ کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈیٹا سائنس کے بغیر ترقی کا تصور ممکن نہیں ہے۔ ان اسکولوں میں ڈیجیٹل لرننگ سسٹم کو متعارف کروانا اس بات کی ضمانت ہے کہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ عالمی مقابلے کی دوڑ میں پیچھے نہیں رہیں گے۔

صرف عمارتیں بنا دینے سے تعلیمی انقلاب نہیں آتا، بلکہ اصل تبدیلی نصاب اور تدریس کے طریقے میں ہوتی ہے۔ ان اسکولوں کا نصاب اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ طلبہ میں ”رٹہ ازم“ کے بجائے تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتیں پیدا کرے۔ یہاں اساتذہ کو صرف معلومات منتقل کرنے والا نہیں بلکہ ایک”مینٹور“ کے طور پر تربیت دی جا رہی ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ان اسکولوں کے انتظامی امور کو بہتر بنایا گیا ہے تاکہ بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے اور تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔پاکستان میں طبقاتی تقسیم کی ایک بڑی وجہ تعلیمی پس منظر ہے۔ ایک ہی ملک میں دو مختلف معیار کے لوگ پیدا ہو رہے تھے جن کی سوچ اور مواقع بالکل الگ تھے۔ نواز شریف سکولز آف ایمیننس شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان اس تعلیمی خلیج کو ختم کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ جب ایک عام محنت کش کا بچہ اسی معیار کی لیب میں تجربہ کرے گا جہاں ایک بڑے بزنس مین کا بچہ کرتا ہے، تو اس میں وہ خود اعتمادی پیدا ہوگی جو اسے معاشرے کا ایک فعال اور معزز شہری بنائے گی۔ یہ منصوبہ سماجی انصاف کی ایک عملی شکل ہے۔

حکومتِ پنجاب کا یہ عزم کہ اس ماڈل کو پورے صوبے کے ہر ضلع تک پھیلایا جائے گا، بلاشبہ ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے۔ تاہم اس طرح کے بڑے منصوبوں کو دیرپا بنانے کے لیے کچھ چیلنجز بھی درپیش ہوتے ہیں۔

سب سے اہم چیلنج اسکولوں کے فعال ہونے کے عمل میں تیزی لانا اور سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر اس منصوبے کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔ تعلیمی پالیسیوں میں تسلسل ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر سنگاپور، جاپان اور فن لینڈ جیسے ممالک نے ترقی کی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکولوں کی مانیٹرنگ کا ایک ایسا خودکار نظام وضع کیا جائے جہاں کارکردگی کی بنیاد پر جزا و سزا کا عمل جاری رہے۔ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کو ایک مستقل عمل بنایا جائے تاکہ وہ بدلتے ہوئے عالمی تعلیمی رجحانات سے ہم آہنگ رہ سکیں۔

”نواز شریف سکولز آف ایمیننس“ محض ایک عمارت یا ایک سرکاری پراجیکٹ کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ”نئے تعلیمی عہد“ کا پیش خیمہ ہے۔ یہ اس سوچ کی عکاسی ہے کہ معیاری تعلیم کسی مخصوص طبقے کی مراعات نہیں بلکہ ہر پاکستانی بچے کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ اب پنجاب کا تعلیمی نظام بدل رہا ہے۔ اگر یہ سفر اسی جوش اور شفافیت کے ساتھ جاری رہا، تو وہ دن دور نہیں جب پنجاب کے سرکاری اسکول معیارِ تعلیم میں نجی اداروں کو پیچھے چھوڑ دیں گے اور ہماری اگلی نسل ایک روشن، متحد اور پڑھے لکھے پاکستان کی وارث ہوگی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے