ژوب مہمان پرندوں کی درناک چیخ ، انسانوں کی بے حسی اور "حکومت کی خاموشی”

ژوب کی فضاؤں میں ہر سال خزاں اور بہار کے موسم میں ایک دلکش مگر معنی خیز منظر دیکھنے کو ملتا ہے جب “کونج” جیسے نایاب مہمان پرندے دریائے ژوب کے کنارے پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ یہ منظر صرف حسنِ فطرت کی عکاسی نہیں بلکہ ایک قدیم اور حیران کن ہجرتی نظام کا حصہ ہے جو صدیوں سے جاری ہے۔

کونج دراصل ایک خوبصورت ہجرت کرنے والا پرندہ ہے جسے انگریزی میں Crane کہا جاتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے علاقوں میں جسے عام طور پر “کونج اور زانڑه” کہا جاتا ہے وہ زیادہ تر Demoiselle Crane ہوتی ہے جو اپنی خوبصورتی، نظم و ضبط اور طویل پرواز کے باعث دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔

ان پرندوں کا اصل وطن وسطی ایشیا، روس کے سرد علاقے خصوصاً سائبیریا، منگولیا اور قازقستان کے وسیع میدان ہیں۔ یہ عام طور پر کھلے میدانوں، دلدلی علاقوں اور جھیلوں کے قریب رہنا پسند کرتے ہیں جہاں انہیں خوراک اور پانی آسانی سے دستیاب ہوتا ہے۔

کونج دنیا کے مشہور ہجرتی پرندوں میں شامل ہے جو موسموں کے ساتھ اپنی رہائش تبدیل کرتی ہے۔ سردیوں میں یہ پاکستان، بھارت، ایران اور افغانستان جیسے گرم علاقوں کا رخ کرتی ہیں جبکہ گرمیوں میں واپس سائبیریا اور وسطی ایشیا جا کر افزائش نسل کرتی ہیں جہاں ان کے بچوں کی پرورش کے لیے موزوں ماحول میسر ہوتا ہے۔

ہزاروں سال سے یہ پرندے “انڈس فلائی وے” کے ذریعے ہجرت کرتے آ رہے ہیں۔ قدیم زمانے میں لوگ ان کی آمد کو موسم کی تبدیلی کی نشانی سمجھتے تھے اور ان کی پرواز کو قدرت کے ایک زندہ پیغام کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

یہ پرندے ہمالیہ جیسے بلند پہاڑوں کے اوپر سے پرواز کرتے ہیں، ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہیں اور V شکل میں اڑتے ہیں تاکہ توانائی بچا سکیں۔ یہ نظم، اتحاد اور اجتماعی حکمت عملی کی ایک بے مثال مثال ہیں۔

لیکن بدقسمتی سے ژوب کا یہی خوبصورت علاقہ عرصه سے ان نایاب پرندوں کے لیے ایک قتل گاہ بنا ہوا ہے جہاں ان کا بے دریغ اور غیر قانونی شکار جاری ہے اور انسان کی بے حسی اپنی انتہا کو چھوتی نظر آتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کونج پرندوں کا شکار اب ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے جہاں ایک جوڑی کی قیمت 20 ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک لگائی جاتی ہے۔ اس لالچ نے انسان کو اس قدر بے رحم بنا دیا ہے کہ وہ زندگی کی حرمت کو بھول چکا ہے۔

رات کی تاریکی میں جب یہ پرندے اپنے مخصوص ترنم میں آوازیں نکالتے ہوئے آسمان پر پرواز کرتے ہیں تو ایک عجیب سرور اور سکون کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ مجھے بچپن سے یاد ہے کہ ہم ژوب میں اپنے گھر کے صحن میں گرمیوں کی راتوں میں سوتے تھے۔ جونہی کونجوں کا موسم آتا تو رات کے سناٹے میں ان کی آوازیں فضا کو موسیقی میں بدل دیتی تھیں۔ ہم ایک قطار کے گزرنے کے بعد دوسری کا انتظار کرتے مگر اچانک کہیں سے فائر کی آواز گونجتی اور وہ خوبصورت ترتیب ٹوٹ کر ایک بے ترتیب شور میں بدل جاتی۔

یہ ظالم شاید یہ نہیں سوچتے کہ انہوں نے فائر تو اپنے گھر سے کیا مگر وہ معصوم پرندہ کہیں دور کسی ویران جگہ پر جا کر گرتا ہے اور ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔ یہ صرف ایک پرندے کی موت نہیں بلکہ فطرت کے حسن کا قتل ہے۔

مجھے ایک اور منظر یاد ہے جب ہم اپنی والدہ کے ساتھ اپنے ماموں کے گھر جاتے تھے جہاں ایک خوبصورت کونج کی جوڑی موجود تھی۔ جب میں پیار سے اس کے قریب جانے کی کوشش کرتا تو وہ غصے میں کاٹنے کو دوڑ پڑتی اور میں ڈر کر پیچھے ہٹ جاتا۔ مگر اس کے باوجود میرے دل میں اس کے لیے ہمدردی پیدا ہوتی کہ یہ آزاد فضا کا پرندہ اب قید میں کیوں ہے، اور کیسے بے گھر ہو گیا ہے۔

ایک واقعہ جو ہمارے آبائی شہر میں سنا گیا، دل کو ہلا دینے والا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار فائرنگ کے دوران ایک کونج کا بچہ زخمی ہو کر گر پڑا اور اس کا خاندان آگے بڑھ گیا۔ جسے کسی نے اٹھا کر مرہم پٹی کی اور پال لیا۔ وقت گزرتا گیا مگر واپسی کے موسم میں جب وہی پرندے دوبارہ ژوب کے آسمان سے گزرے تو اوپر سے آنے والی آوازوں کو سن کر وہ بچہ بھی جواب میں پکارنے لگا۔

کہا جاتا ہے کہ اس بچے کی ماں نے اس آواز کو پہچان لیا اور پورے جھنڈ کو چھوڑ کر آسمان سے نیچے اپنے بچے کی طرف لپکی۔ گھر والوں کے مطابق جب ماں اور بچہ ملے تو وہ منظر ناقابل بیان تھا مگر یہ خوشی کا لمحہ بھی دیرپا نہ ہو سکا اور دونوں اس جذباتی شدت میں اپنی جان ہار بیٹھے۔

یہ واقعہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ ایک سوال ہے کیا ہم واقعی انسان ہیں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ان بے زبان مخلوقات کے بھی جذبات ہوتے ہیں، ان کے بھی رشتے ہوتے ہیں اور وہ بھی دکھ محسوس کرتے ہیں؟

شکار اور ماحول کی خرابی کی وجہ سے کونج کی کچھ اقسام تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔ عالمی ادارے ان کی حفاظت کے لیے اقدامات کر رہے ہیں مگر مقامی سطح پر غفلت ان تمام کوششوں کو کمزور کر رہی ہے۔

محکمہ جنگلات کی بے حسی اور ضلعی انتظامیہ کی خاموشی اس المیے کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ژوب سے اپیل ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں اور اس ظلم کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

اگر آج ہم نے ان معصوم مہمانوں کی حفاظت نہ کی تو کل ژوب کا آسمان خاموش ہو جائے گا اور وہ سُریلی آوازیں جو کبھی راتوں کو زندگی بخشتی تھیں، ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی۔ یہ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم محافظ بنیں یا ظالم تاریخ کا حصہ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے