سائنسدان رات کے وقت سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرنے میں کامیاب

سورج کی توانائی کو بجلی پیدا کرنے والے ماحول دوست ذریعہ قرار دیا جاتا ہے مگر اس کی بھی ایک حد ہے۔

جب رات کی تاریکی چھاتی ہے تو سولر پینلز بجلی پیدا کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں جس کے باعث کئی بار ضرورت کے وقت توانائی دستیاب نہیں ہوتی۔

مگر سائنسدانوں نے اس کا ایک منفرد حل تلاش کیا ہے اور سورج سے پیدا ہونے والی توانائی کو رات میں بھی استعمال کرنا ممکن بنایا ہے۔

جرنل ایڈوانسڈ انرجی میٹریلز میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ چینی ماہرین نے لکڑی کی اندرونی ساخت کو ری ڈیزائن کرکے اسے مسام دار اسفنج میں تبدیل کیا تاکہ وہ سورج کی روشنی کو جذب کرکے حرارت کا ذخیرہ کرسکے۔

اس تدوین شدہ لکڑی کو سورج کی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، یہاں تک کہ رات کے وقت بھی ایسا ممکن ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اس طریقہ کار سے سولر پاور کی سب سے بڑی کمزوری پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

ابھی رات کی تاریکی میں سورج کی روشنی سے بجلی کا حصول ممکن نہیں، مگر چینی سائنسدانوں کے مطابق ان کے نئے طریقہ کار سے سورج غروب ہونے کے بعد بھی ماحول دوست توانائی کو استعمال کیا جاسکے گا۔

ابھی اس مقصد کے لیے بیٹری کو استعمال کیا جاتا ہے جس میں دن بھر پیدا ہونے والی بجلی ذخیرہ ہوتی ہے مگر وہ کافی مہنگی ہوتی ہے۔

چینی سائنسدانوں نے اس نئے طریقہ کار کے لیے مختلف میٹریلز کی تہوں کے امتزاج کی بجائے ہلکے وزن کی نرم لکڑی کو استعمال کیا جس کی ساخت قدرتی طور پر ایسی ہے جسے آسانی سے تدوین کیا جاسکتا ہے۔

بالسا ووڈ نامی یہ لکڑی حرارت کا ذخیرہ کرنے کے لیے بھی اچھی ہوتی ہے۔

مگر لکڑی کی یہ قسم قدرتی طور پر سورج کی روشنی کو پلٹا دیتی ہے اور پانی کو جذب کرتی ہے تو اسی وجہ سے ماہرین نے اس کے اندر موجود ایک پیچیدہ مالیکیول کو نکالا جس کے بعد وہ لکڑی روشنی جذب کرنے کے قابل ہوگئی۔

اس کے بعد محققین نے لکڑی کی اندرونی سطح کو تبدیل کرکے اس میں سیاہ فاسفورسین کی بہت پتلی شیٹس کا اضافہ کیا جو روشنی کو جذب کرنے اور برقی عمل کے اہم ہوتا ہے۔

پھر اس میں ایسے نانو ذرات کا اضافہ کیا گیا جو سورج کی روشنی پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور ہائیڈرو کاربن مرکبات کو لکڑی کی سطح کا حصہ بنایا گیا۔

آخر میں لکڑی کی اندرونی شریانوں میں stearic ایسڈ کا اضافہ کیا گیا تاکہ وہ گرم ہونے پر سورج کی روشنی کا ذخیرہ کرسکے اور ٹھنڈا ہونے پر اس کا اخراج کرسکے۔

محققین نے اس لکڑی کو تدوین کرنے کے بعد جانچا اور رات کی روشنی میں بجلی کے حصول میں کامیاب ہوگئے۔

تحقیق کے مطابق اس لکڑی نے 91.2 فیصد سورج کی روشنی کو حرارت میں تبدیل کیا اور بجلی پیدا کی۔

محققین کے مطابق یہ بجلی بہت زیادہ پائیدار ہے اور عرصے تک اس کی کارکردگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔

انہوں نے بتایا کہ ابھی یہ نتائج ابتدائی ہیں اور اس حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ثابت کیا جاسکے کہ بڑے پیمانے پر اس لکڑی کو سورج سے حاصل ہونے والی توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اگر ان کی کوششیں کامیاب ثابت ہوئیں تو رات کے وقت بھی سورج سے بجلی کا حصول ممکن ہو جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے