John Joseph Saunders ایک معروف برطانوی مؤرخ تھے جنہوں نے اسلامی تاریخ کو سادہ مگر تجزیاتی انداز میں پیش کیا۔ ان کی مشہور کتاب A History of Medieval Islam اسلامی دنیا کی ابتدائی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک اہم ماخذ سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف واقعات بیان نہیں کرتی بلکہ ان اسباب کو بھی واضح کرتی ہے جن کی وجہ سے اسلام تیزی سے پھیلا۔
میرے خیال میں سانڈرز کی تحریر اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم تاریخ کو صرف عقیدت یا ردِ عمل کے طور پر نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھیں۔ وہ یہ اشارہ دیتے ہیں کہ بڑی تاریخی تبدیلیاں ہمیشہ کئی عوامل کے ملاپ سے پیدا ہوتی ہیں۔
ساتویں صدی میں اسلام کے ظہور کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس وقت کے عالمی حالات کو دیکھیں۔ اس دور میں دو بڑی طاقتیں، یعنی Byzantine Empire اور Sasanian Empire، ایک دوسرے کے خلاف طویل جنگوں میں مصروف تھیں۔ ان جنگوں کو Byzantine–Sasanian Wars کہا جاتا ہے۔ یہ جنگیں کئی دہائیوں تک جاری رہیں اور دونوں سلطنتوں کو اندر سے کمزور کر گئیں۔ اگر غور کیا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ جنگیں صرف دو سلطنتوں کے درمیان نہیں تھیں بلکہ پورے خطے کے توازن کو بگاڑ رہی تھیں۔
جے جے سانڈرز کے مطابق یہی کمزوری اسلام کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ بنی۔ جب عرب مسلمانوں نے اپنی فتوحات کا آغاز کیا تو انہیں کسی مضبوط اور منظم مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ شام اور مصر جیسے علاقوں میں لوگ پہلے ہی اپنی حکومتوں سے تنگ تھے، کیونکہ ان پر بھاری ٹیکس لگائے جاتے تھے اور مذہبی اختلافات بھی موجود تھے۔ میرے نزدیک یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ کوئی بھی نئی طاقت اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب پرانی طاقتیں اپنے عوام کا اعتماد کھو چکی ہوں۔ اسی لیے بعض جگہوں پر مسلمانوں کو صرف فاتح کے طور پر نہیں بلکہ ایک نئی اور نسبتاً بہتر طاقت کے طور پر دیکھا گیا۔
سانڈرز تجارتی راستوں کی اہمیت پر بھی خاص زور دیتے ہیں۔ اسلام سے پہلے تجارت کے بڑے راستے سمندر کے ذریعے تھے، جو بحرِ ہند سے ہوتے ہوئے بحیرہ احمر تک جاتے اور وہاں سے بحیرہ روم تک پہنچتے تھے۔ عرب تاجر ان راستوں میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ ہندوستان اور جنوب مشرقی ایشیا سے آنے والا سامان یمن تک آتا، پھر وہاں سے مکہ، مدینہ اور شام کے راستے آگے جاتا۔ یہ ایک ایسا نظام تھا جو صدیوں سے قائم تھا، لیکن جنگوں نے اسے متاثر کر دیا۔
جب رومی اور فارسی سلطنتوں کے درمیان جنگیں ہوئیں تو یہ سمندری راستے غیر محفوظ ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں زمینی راستوں کی اہمیت بڑھ گئی۔ عرب کے اندر سے گزرنے والے راستے، خاص طور پر مکہ اور مدینہ کے ذریعے، زیادہ استعمال ہونے لگے۔ میرے خیال میں یہی وہ مقام ہے جہاں عرب ایک حاشیائی خطہ ہونے کے بجائے ایک مرکزی کردار ادا کرنے لگا۔ تاریخ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو خطہ کل تک نظرانداز تھا، وہ اچانک عالمی اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
مکہ اس دور میں ایک اہم تجارتی شہر بن چکا تھا۔ یہاں کے لوگ دور دور تک سفر کرتے اور تجارت کرتے تھے۔ اس وجہ سے عرب کے مختلف قبائل کے درمیان رابطہ بڑھا اور ایک قسم کی معاشی اور سماجی ہم آہنگی پیدا ہوئی۔ جب اسلام کا پیغام آیا تو وہ انہی راستوں کے ذریعے پھیلا جن کے ذریعے تجارت ہوتی تھی۔ تاجر، مسافر اور قبائل نہ صرف سامان بلکہ خیالات بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے تھے۔ میرے نزدیک یہ بات بہت اہم ہے کہ نظریات ہمیشہ تنہائی میں نہیں پھیلتے بلکہ انسانی روابط کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں۔
سانڈرز کے مطابق اسلام نے عرب قبائل کو متحد کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اسلام سے پہلے عرب معاشرہ قبائلی تقسیم کا شکار تھا اور آپس میں لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔ اسلام نے ان سب کو ایک دین اور ایک مقصد کے تحت جوڑ دیا۔ اس اتحاد نے مسلمانوں کو ایک مضبوط قوت بنا دیا جو عرب سے باہر نکل کر بڑی سلطنتوں کا مقابلہ کر سکتی تھی۔ اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ صرف مذہبی اتحاد نہیں تھا بلکہ ایک سماجی انقلاب بھی تھا۔
یہ اتحاد صرف سیاسی نہیں بلکہ مذہبی اور اخلاقی بھی تھا۔ اسلام نے انصاف، برابری اور ایک خدا کی عبادت کا پیغام دیا، جس نے لوگوں کو متاثر کیا۔ اس سے مسلمانوں کے اندر ایک نیا جذبہ پیدا ہوا اور وہ ایک منظم طاقت بن گئے۔ میرے خیال میں کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو ایک اخلاقی بنیاد بھی فراہم کرے، اور اسلام نے یہی کام کیا۔
جب مسلمان عرب سے باہر نکلے تو انہیں ایسے علاقے ملے جو پہلے ہی کمزور ہو چکے تھے۔ اس کے علاوہ، تجارتی راستے ان کی مدد کر رہے تھے، جس سے سفر اور رابطہ آسان ہو گیا۔ اس طرح مسلمان تیزی سے مختلف علاقوں میں پھیل گئے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ رفتار صرف فوجی طاقت کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ حالات کی موافقت بھی اس میں شامل تھی۔
سانڈرز یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اسلام کا پھیلاؤ صرف تلوار کے زور پر نہیں ہوا۔ اگرچہ جنگیں ہوئیں، لیکن مسلمانوں نے مفتوحہ علاقوں میں نرمی اور لچک کا مظاہرہ کیا۔ مقامی لوگوں کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت دی گئی، صرف ٹیکس لیا جاتا تھا۔ اس پالیسی نے لوگوں کی مزاحمت کو کم کیا اور نئے نظام کو قبول کرنا آسان بنا دیا۔ میرے نزدیک یہی وہ پہلو ہے جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ کسی بھی سلطنت کی پائیداری کا دارومدار اسی حکمت عملی پر ہوتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام اپنی فطرت میں اتنا لچکدار ثابت ہوا کہ اس نے مختلف تہذیبوں کے مفید عناصر کو اپنے اندر جذب کر لیا۔ مثال کے طور پر مسلمانوں نے Byzantine Empire کے انتظامی نظام سے فائدہ اٹھایا، Sasanian Empire کی ثقافتی روایات کو اپنایا، اور Ancient Greece کی فلسفیانہ روایت کو بھی سمجھ کر اپنے علمی نظام میں شامل کیا۔ لیکن یہ سب کچھ اندھا دھند نہیں تھا؛ بلکہ اسے اسلامی اصولوں کے مطابق ہم آہنگ (reconcile) کیا گیا۔ میرے خیال میں یہی لچک اسلامی تہذیب کی اصل طاقت تھی، جس نے اسے نہ صرف پھیلنے بلکہ قائم رہنے اور ترقی کرنے کے قابل بنایا۔
وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے ایک وسیع سلطنت قائم کر لی، جو مغرب میں اسپین سے لے کر مشرق میں ہندوستان تک پھیل گئی۔ اس سلطنت میں تجارت، ثقافت اور علم کو فروغ ملا۔ پرانے تجارتی راستے مزید مضبوط ہوئے اور نئے راستے بھی قائم ہوئے۔ اگر ہم اس پورے عمل کو دیکھیں تو یہ صرف فتوحات کی کہانی نہیں بلکہ ایک تہذیبی تشکیل (civilizational formation) کی داستان ہے۔
آخر میں، جے جے سانڈرز کا یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ اسلام کا پھیلاؤ کئی عوامل کا نتیجہ تھا۔ رومی اور فارسی سلطنتوں کی کمزوری، تجارتی راستوں کی تبدیلی، عرب کا جغرافیائی مقام، اور اسلام کی متحد کرنے والی قوت یہ سب مل کر اس تاریخی عمل کا حصہ بنے۔ میرے خیال میں سانڈرز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہمیں ایک متوازن تصویر دکھاتے ہیں، جہاں نہ صرف ایمان بلکہ حالات بھی اپنی پوری طاقت کے ساتھ کارفرما نظر آتے ہیں۔ اسی توازن کے ذریعے ہم تاریخ کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔