انسان کی سوچ، خواہشات، خوف، ترجیحات اور فیصلے ہمیشہ محض ذاتی انتخاب کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے ایک پورا فکری، نفسیاتی اور سماجی نظام کام کر رہا ہوتا ہے۔ انسان جو سوچتا ہے، وہ کیوں سوچتا ہے؟ جو چاہتا ہے، وہ کیوں چاہتا ہے؟ جن چیزوں سے خوف محسوس کرتا ہے، ان سے کیوں ڈرتا ہے؟ یہ تمام سوالات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسانی ذہن کو صرف جسمانی طور پر نہیں بلکہ ذہنی اور فکری طور پر بھی تشکیل دیا جاتا ہے۔ تعلیم، میڈیا، ٹیکنالوجی، سماجی بیانیے اور فکری مباحث انسان کے شعور اور لاشعور دونوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور آہستہ آہستہ اس کی شخصیت، ترجیحات اور نظریات کو تشکیل دیتے ہیں۔
اسی فکری تشکیل کا نتیجہ ہے کہ ہمیں انگلش صحیح نہ بولنے پر شرم محسوس ہوتی ہے۔ ہم مہنگے لباس، قیمتی جوتے، بڑی گاڑی، خوبصورت گھر اور زیادہ پیسے کو کامیابی کی علامت سمجھتے ہیں۔ اچھی ملازمت نہ ملنے، مہنگے تعلیمی اداروں میں نہ پڑھ سکنے اور معاشرے میں عزت نہ ملنے پر احساسِ محرومی اور regret محسوس کرتے ہیں۔ ہم انگلش بولنے والے کو قابل، مہذب اور تعلیم یافتہ تصور کرتے ہیں جبکہ اپنی زبان بولنے والے کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹی کے طالب علم کو بااخلاق، روشن خیال اور اسکالر جبکہ مدرسے کے طالب علم کو شدت پسند، روایت پسند یا جاہل تصور کیا جاتا ہے۔ یہ تصورات فطری نہیں بلکہ مخصوص فکری بیانیوں کے ذریعے معاشرے میں پیدا کیے جاتے ہیں۔
ہم جدید دنیا کے مختلف تصورات اور نظاموں کو بھی اسی ذہنی تشکیل کے تحت قبول کرتے ہیں۔ ہم فیملی پلاننگ، پولیو کے قطرے، ٹیکس، جمہوریت، سیکولرازم، کمیونزم، جدید عدالتی نظام، معاشی نظام اور دفاعی نظام کو بغیر گہرے فکری تجزیے کے فائدہ مند سمجھ لیتے ہیں۔ ہم فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام جیسی ایپلیکیشنز کو زندگی کی بنیادی ضرورت تصور کرنے لگتے ہیں۔ ہم یورپ جانے کو کامیابی اور بہتر مستقبل کی علامت سمجھتے ہیں۔ وہاں کی تہذیب، اخلاق، روایات اور طرزِ زندگی کو معیاری مانتے ہیں جبکہ اپنی تہذیب اور روایات کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ جب ہم کسی قوم کو “ترقی یافتہ” کہتے ہیں تو درحقیقت لاشعوری طور پر خود کو “ترقی پذیر” اور کم تر تسلیم کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ احساسات اور ترجیحات محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم ذہنی و فکری تشکیل کا نتیجہ ہیں۔ ہمیں یہ باور کروایا گیا ہے کہ ہم جاہل، شدت پسند، پسماندہ اور ناقابل ہیں جبکہ کچھ اقوام کو مہذب، روشن خیال اور ترقی یافتہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ جب میں کسی زبان کو معیاری کہتا ہوں تو دراصل اپنی زبان کو غیر معیاری قرار دے رہا ہوتا ہوں۔ جب میں کسی تہذیب کو اعلیٰ کہتا ہوں تو اپنی تہذیب کو ادنیٰ مان رہا ہوتا ہوں۔ جب میں کسی قوم کے اخلاق کو بہترین کہتا ہوں تو لاشعوری طور پر اپنے معاشرے کو بد اخلاق تصور کر رہا ہوتا ہوں۔ یہی ذہنی غلامی کی سب سے خطرناک شکل ہے۔
آج “ترقی یافتہ” اور “ترقی پذیر” جیسے الفاظ صرف معاشی اصطلاحات نہیں بلکہ فکری بیانیے بن چکے ہیں۔ ان اصطلاحات کے ذریعے بعض قوموں کو مثالی اور بعض کو کمتر ثابت کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً کمزور قومیں خود کو دوسروں کے مقابل ناقابل سمجھنے لگتی ہیں۔ وہ اپنے مسائل سے تنگ آکر ہجرت کو حل سمجھتی ہیں اور اپنی صلاحیتیں انہی طاقتوں کو مضبوط کرنے میں لگا دیتی ہیں جو پہلے ہی ان پر فکری غلبہ قائم کیے ہوئے ہوتی ہیں۔ اس طرح ایک قوم اپنی افرادی قوت، ذہانت اور صلاحیتیں کھو کر مزید کمزور ہو جاتی ہے۔
تعلیمی نظام، میڈیا اور ٹیکنالوجی کبھی مکمل طور پر نیوٹرل نہیں ہوتے۔ یہ ہمیشہ ان لوگوں کی فکر، ترجیحات اور نظریات کے مطابق تشکیل دیے جاتے ہیں جو انہیں تخلیق اور کنٹرول کرتے ہیں۔ اسی لیے نوآبادیاتی طاقتوں نے مسلم دنیا کے نظامِ تعلیم سے نظریاتی اور فکری پہلوؤں کو نکالنے کی کوشش کی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اسلام صرف عبادات کا مذہب نہیں بلکہ ایک انقلابی فکری نظام بھی ہے۔ قوموں کو پہلے فکری طور پر غلام بنایا جاتا ہے، پھر وہ سیاسی، معاشی اور تہذیبی طور پر آسان شکار بن جاتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کا کوئی معاشرہ مکمل یا Perfect نہیں ہوتا۔ ہر معاشرے میں مسائل، کمزوریاں اور تضادات موجود ہوتے ہیں، مگر طاقتور قومیں اپنے مسائل کے باوجود اپنی تہذیب، اپنی فکر اور اپنے نظام پر اعتماد رکھتی ہیں۔ اس کے برعکس کمزور قومیں دوسروں کی نقل کرتے کرتے اپنی شناخت کھو دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یورپ کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو ناقابل سمجھتے ہیں اور اپنے نظریات، اپنی اقدار اور اپنی ضروریات کے مطابق متبادل نظام ڈیزائن کرنے کے بجائے دوسروں کے نظاموں کو ہی آخری سچ مان لیتے ہیں۔
لہٰذا مسائل کا حقیقی حل صرف ہجرت، نقل یا احساسِ کمتری میں نہیں بلکہ فکری آزادی حاصل کرنے میں ہے۔ ہمیں اپنی سوچ، اپنی اخلاقیات، اپنی روایات، اپنی ترجیحات اور اپنی تہذیب کو سمجھنے اور قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی حقیقی شناخت معلوم کرنی ہوگی، اپنی منزل متعین کرنی ہوگی اور اس منزل تک پہنچنے کے لیے اپنا راستہ خود بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا، حقیقی اور نظریاتی دشمن کو پہچاننا ہوگا اور ہر فکری، تعلیمی، معاشی اور تہذیبی محاذ پر اپنا مؤقف مضبوط کرنا ہوگا۔
آج مسلم دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ایک “سائیکالوجیکل ریولوشن” یعنی ذہنی و فکری انقلاب کی ہے۔ کیونکہ جب قوموں کے ذہن بدل جاتے ہیں تو زمینی انقلاب خود بخود جنم لینے لگتا ہے۔ ایک مضبوط امت پہلے اپنے شعور میں زندہ ہوتی ہے، پھر اپنے نظام، اپنی معیشت، اپنی سیاست اور اپنی تہذیب میں طاقتور بنتی ہے۔