فردوس جمال اور سچ کا مسئلہ

لوگ اکثر سچ اور بدتمیزی میں فرق نہیں کر پاتے۔ اگر کوئی شخص نرم لہجے میں جھوٹ بول دے تو معاشرہ اسے شائستگی سمجھ لیتا ہے، لیکن اگر کوئی تلخ لہجے میں سچی بات کہہ دے تو وہ فوراً گستاخ، بدتمیز، پاگل یا متکبر قرار پاتا ہے۔ شاید اسی لیے فردوس جمال جیسے لوگ ہمیشہ تنازعات میں گھرے رہتے ہیں۔ ان کے بارے میں رائے رکھنے والے دو حصوں میں تقسیم ہیں۔ ایک وہ جو انہیں حسد زدہ، جھگڑالو اور خود پسند سمجھتے ہیں، دوسرے وہ جو یہ مانتے ہیں کہ اس شخص نے کم از کم منافقت نہیں کی۔ اس نے وہی کہا جو اس نے محسوس کیا۔

اورنگزیب لغاری نے حال ہی میں فردوس جمال کے بارے میں جو بات کی، وہ دراصل پورے معاشرے کا نفسیاتی خاکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فردوس جمال زیادہ تر مواقع پر درست ہوتے تھے لیکن انہوں نے کبھی یہ نہیں سیکھا کہ بعض اوقات خاموش رہنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا جملہ ہے جس میں تعریف بھی چھپی ہوئی ہے، تنقید بھی۔ گویا مسئلہ سچ بولنے کا نہیں بلکہ ہر وقت سچ بولنے کا ہے۔ ہمارے معاشرے میں سچ صرف اسی وقت پسند کیا جاتا ہے جب وہ کسی کو تکلیف نہ دے۔ جیسے ہی سچ کسی بڑے نام، کسی مشہور چہرے یا کسی اجتماعی فریب کو چیرنے لگتا ہے، لوگ بے چین ہو جاتے ہیں۔

فردوس جمال نے اپنے ساتھی فنکاروں کے بارے میں جو رائے دی، اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر ایک سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ کیا ہر مشہور شخص واقعی اتنا عظیم ہوتا ہے جتنا اس کے مداح اسے بنا دیتے ہیں؟

ہمارے ہاں شہرت کو قابلیت سمجھ لیا جاتا ہے۔ اگر کوئی اداکار مقبول ہے تو ہم فوراً اسے لیجنڈ کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کسی اداکارہ کے کروڑوں فالورز ہیں تو ہم اس کی فنی صلاحیت پر سوال اٹھانے کو جرم سمجھتے ہیں۔ حالانکہ فن ایک الگ چیز ہے، شہرت ایک الگ چیز۔ ایک انسان بے حد مقبول ہو سکتا ہے لیکن فنی اعتبار سے کمزور بھی ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر میں بڑے بڑے نقاد اپنے عہد کے مشہور ترین فنکاروں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ اختلافِ رائے کو ہمیشہ فن کا حصہ سمجھا گیا، مگر ہمارے ہاں اختلاف کو ذاتی دشمنی بنا دیا جاتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی معاشرہ تعریف سننے کا عادی ہو چکا ہے۔ یہاں ہر شخص اپنے گرد مصنوعی احترام کا ایک حصار بنانا چاہتا ہے۔ سیاست دان اپنی تعریف چاہتے ہیں، اینکر اپنی تعریف چاہتے ہیں، شاعر اپنی تعریف چاہتے ہیں، اداکار بھی اپنی تعریف چاہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اس حصار میں ایک چھوٹا سا سوراخ بھی کر دے تو فوراً اسے گستاخ قرار دے دیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں سچ بولنے والے لوگ یا تو تنہا ہو جاتے ہیں یا متنازع۔ معاشرہ ان سے فائدہ تو اٹھاتا ہے مگر انہیں قبول نہیں کرتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فردوس جمال کے ناقدین بھی آخرکار یہی کہتے ہیں کہ وہ اکثر صحیح ہوتے ہیں۔ یعنی مسئلہ بات کی صداقت نہیں بلکہ اس کے انداز اور وقت کا ہے۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو حکمت کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہر سچ ہر وقت نہیں بولا جاتا۔ بعض اوقات خاموشی بھی شعور ہوتی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلسل خاموش رہنے والے معاشرے آخرکار منافقت کی پناہ گاہ بن جاتے ہیں۔

وہاں لوگ دل میں کچھ اور رکھتے ہیں، زبان پر کچھ اور۔ وہاں تعلقات خلوص سے نہیں بلکہ مصلحت سے چلتے ہیں۔

ہمارے ڈرامہ اور فلمی حلقوں میں بھی یہی مصلحت برسوں سے موجود ہے۔ سب ایک دوسرے کو عظیم قرار دیتے رہتے ہیں۔ ایوارڈ شوز میں تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو لیجنڈ، آئیکون اور سپر اسٹار کہا جاتا ہے، لیکن نجی محفلوں میں انہیں لوگوں کے بارے میں بالکل مختلف رائے دی جاتی ہے۔

فردوس جمال شاید ان چند لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نجی رائے کو عوامی رائے بنا دیا۔ یہی ان کا جرم بن گیا۔

بشریٰ انصاری نے کہا کہ کسی کو دوسروں کی تضحیک کا حق نہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے۔ کسی انسان کی بے عزتی نہیں ہونی چاہیے۔ مگر سوال پھر وہی ہے کہ کیا ہر تنقید تضحیک ہوتی ہے؟ اگر ایک سینئر فنکار کسی دوسرے فنکار کی اداکاری کو کمزور کہتا ہے تو کیا یہ لازماً ذاتی حملہ ہے؟ دنیا بھر میں فنکار تنقید سنتے بھی ہیں، برداشت بھی کرتے ہیں۔ صرف ہمارے ہاں اختلافِ رائے انا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

شاید فردوس جمال کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی زبان نہیں بلکہ ان کی بے خوفی ہے۔ وہ یہ حساب نہیں لگاتے کہ کون ناراض ہوگا، کون طاقتور ہے، کس کے مداح زیادہ تعداد میں ہیں۔ ایسے لوگ معاشروں میں ہمیشہ غیر آرام دہ سمجھے جاتے ہیں کیونکہ وہ اجتماعی خود فریبی کو توڑتے ہیں۔ وہ لوگوں کو آئینہ دکھاتے ہیں، انسان آئینہ صرف اسی وقت پسند کرتا ہے جب اس میں چہرہ خوبصورت لگے۔

لیکن اس پوری بحث میں ایک خطرناک پہلو بھی ہے۔ سچ بولنے کے نام پر بدتہذیبی، تحقیر اور ذاتی حملوں کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اختلاف اگر احترام کھو دے تو پھر وہ تنقید نہیں رہتا، محض انا بن جاتا ہے۔ شاید فردوس جمال کی زندگی اسی کشمکش کی مثال ہے۔ ایک ایسا شخص جو بہت سی باتوں میں درست ہو سکتا ہے، مگر اپنے لہجے اور رویے کی وجہ سے اپنی ہی بات کو کمزور کر دیتا ہے۔

آخر میں سوال یہ نہیں کہ فردوس جمال صحیح تھے یا غلط۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ سچی رائے برداشت کرنے کے قابل ہے؟ اگر نہیں، تو پھر ہم ہمیشہ تعریفوں کے ہجوم میں جیتے رہیں گے، جہاں ہر شخص دوسرے کو عظیم کہتا رہے گا، دل ہی دل میں اس سے اختلاف بھی کرتا رہے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے