دنیا جس رفتار سے ترقی کر رہی ہے، اسی رفتار سے اس کے رنگ بھی مدھم پڑتے جا رہے ہیں۔ ایک ایسا زمانہ بھی تھا جب زندگی صرف سہولتوں سے نہیں بلکہ رنگوں سے پہچانی جاتی تھی۔ گھروں کی دیواریں، کپڑوں کے انتخاب، بازاروں کی رونقیں اور فطرت کے مناظر ہر جگہ ایک زندہ دلی اور رنگا رنگی محسوس ہوتی تھی۔ مگر آج رفتہ رفتہ یہ دنیا “ایستھیٹک” کے نام پر بےرنگی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
اگر ہم مغربی معاشروں کو دیکھیں تو وہاں گھروں کے اندرونی ڈیزائن میں سفید، بیج اور پیسٹل کلرز کا رجحان واضح طور پر بڑھ چکا ہے۔
minimalism اور aesthetic living کے نام پر ہر چیز کو سادگی اور یکسانیت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ اب دیواروں پر چمکتے سرخ، نیلے، پیلے یا سبز رنگ کم ہی نظر آتے ہیں۔ امیر طبقے کے گھروں میں بھی ایک خاص طرح کی “خاموش سادگی” غالب آ چکی ہے، جو خوبصورتی تو رکھتی ہے مگر زندگی کی توانائی کم کر دیتی ہے۔
یہ رجحان صرف گھروں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہماری روزمرہ زندگی اور لباس تک پھیل چکا ہے۔ آج کل زیادہ تر لوگ سفید، بیج اور ہلکے پیسٹل رنگوں کے کپڑوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ پہلے جو کپڑے پھولدار، شوخ اور رنگوں سے بھرپور ہوتے تھے، وہ اب “زیادہ” یا “اوور” محسوس کیے جانے لگے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے انسان نے اپنی شخصیت سے بھی رنگ چھین لیے ہوں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی رنگوں کی یہ کمی ترقی ہے یا صرف ایک ذہنی رجحان؟ حقیقت یہ ہے کہ رنگ صرف خوبصورتی نہیں بلکہ انسانی ذہن پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔ مختلف رنگ ہماری سوچ، موڈ اور جذبات کو متاثر کرتے ہیں۔ سرخ رنگ توانائی اور جذبہ پیدا کرتا ہے، پیلا خوشی اور امید کی علامت ہے، سبز رنگ ذہنی سکون اور توازن دیتا ہے، جبکہ نیلا ذہن کو ٹھنڈک اور استحکام فراہم کرتا ہے۔
اگر ہم فطرت پر نظر ڈالیں تو یہ ہمیں رنگوں کی اصل حقیقت سمجھاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو بے شمار رنگوں سے مزین کیا ہے۔ ہر پھول، ہر پرندہ، ہر منظر ایک الگ رنگ اور الگ خوبصورتی رکھتا ہے۔ سبز درخت، نیلا آسمان، رنگ برنگے پھول، اور سمندری مخلوقات یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ رنگ زندگی کا حصہ ہیں، اس کی زینت ہیں، اس کی روح ہیں۔
بدقسمتی سے ہم انسان اس قدرتی حسن سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم نے خود ایک ایسی دنیا تخلیق کر لی ہے جو آہستہ آہستہ یک رنگی اور بےجان ہوتی جا رہی ہے۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو وہ وقت دور نہیں جب انسان اپنی زندگی سے جذباتی اور بصری دونوں طرح کے رنگ کھو دے گا، اور ایک ایسی زندگی میں قید ہو جائے گا جو خوبصورتی سے زیادہ تکرار اور بوریت پر مبنی ہوگی۔
یہ رنگ صرف دیکھنے کے لیے نہیں ہیں، یہ جینے کے لیے ہیں۔ یہ ہماری خوشی، ہماری ذہنی صحت اور ہماری تخلیقی صلاحیتوں کا حصہ ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دوبارہ ان رنگوں کو اپنی زندگی میں جگہ دیں اپنے گھروں میں، اپنے لباس میں، اور اپنے رویّوں میں بھی۔
کیونکہ جب رنگ ختم ہوتے ہیں تو صرف منظر نہیں بدلتا، بلکہ زندگی کا احساس بھی مدھم پڑ جاتا ہے.