دھتکارے گئے لوگوں کے لیے ایک بے باک دستاویز

ڈاکٹر رخشندہ پروین کی کتاب "1971 گمشدہ عشاق پاکستان اور شناخت کی موت” محض 46 کالموں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور جذباتی دستاویز ہے۔ یہ ان "محصور پاکستانیوں” یا بہاری برادری کے المیے کی کہانی ہے جنہیں صرف پاکستان سے محبت کرنے کے جرم میں بنگلہ دیش کے کیمپوں میں قید کر دیا گیا۔

یہ کتاب ایک بیٹی کا اپنے والد پروفیسر نظیر صدیقی کو خراجِ تحسین بھی ہے جن کا خاندان 1971 کے سانحے میں تہس نہس ہو گیا۔ ڈاکٹر رخشندہ لکھتی ہیں کہ ان کے والد نے اس دکھ کو ایسا محسوس کیا "جو شعور کی تہوں سے گزر کر روح تک جا پہنچا۔”

ڈاکٹر رخشندہ پاکستان کے لبرل اشرافیہ میڈیا اور نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کے سامنے براہِ راست آئینہ رکھتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں

ہم نے ڈھاکہ کے کیمپوں میں سسکتی نسلوں کے لیے کوئی خط نہیں لکھا۔ ہم نے اپنے ہی لوگوں کو وطن میں جلاوطن کیا دھتکارا متروک کیا۔وہ ان فیمنسٹ کی منافقت کو بے نقاب کرتی ہیں جو دوسری جگہوں پر تو بلند آواز ہیں لیکن بہاری خواتین کی عصمت دری اور نسل کشی پر خاموش رہتی ہیں۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو مخاطب کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں؛

ڈار صاحب آپ ڈھاکہ جا رہے ہیں۔ ہم سے بھی ملیں ہم عشاق پاکستان کی چوتھی نسل ہیں۔ ہمارا جرم صرف یہ تھا کہ ہم پاکستانی جھنڈے کے ساتھ کھڑے رہے۔

وہ ایم ایم عالم جیسے بہاری ہیرو کی کہانی بھی بیان کرتی ہیں جسے پاکستان نے بھلا دیا اور بنگلہ دیش کی آزادی کی یک طرفہ داستان پر سوال اٹھاتی ہیں۔

آخر میں یہ کتاب ایک بے باک ایماندار اور ضمیر بیدار کرنے والی دستاویز ہے۔ جیسا کہ مصنفہ خود کہتی ہیں

یہ مجموعہ اُن لوگوں کے لیے ہے جن کے ضمیر ابھی سوئے نہیں۔

یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو یقین رکھتا ہے کہ تاریخ کے بھولے ہوئے باب سب سے زیادہ پڑھے جانے کے مستحق ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے