کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ نور پر ہونے والا حالیہ تیزاب حملہ محض ایک فرد پر تشدد کا واقعہ نہیں بلکہ ہمارے قانونی نظام، سماجی رویوں اور اجتماعی ضمیر کے لیے ایک سنجیدہ سوال ہے۔ آخر سخت قوانین کے باوجود ایسے واقعات کیوں رونما ہوتے رہتے ہیں؟ کیا مسئلہ قانون کی کمزوری ہے یا معاشرے کی بے حسی؟
تیزاب گردی دنیا کے بدترین جرائم میں شمار ہوتی ہے۔ اس کا مقصد صرف جسمانی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ متاثرہ فرد کی شخصیت، اعتماد، مستقبل اور سماجی زندگی کو تباہ کرنا ہوتا ہے۔ متاثرہ شخص زندگی بھر جسمانی تکلیف، نفسیاتی اذیت اور معاشرتی مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیزاب گردی کو محض ایک فوجداری جرم نہیں بلکہ انسانی وقار پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔پاکستان میں تیزاب حملوں کی روک تھام کے لیے قوانین موجود ہیں اور ان میں سخت سزاؤں کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ تاہم قانون کی اصل طاقت اس کے نفاذ میں ہوتی ہے۔ اگر تفتیش میں تاخیر، استغاثہ کی کمزوری یا عدالتی کارروائی میں غیر ضروری طول پیدا ہو تو قانون کا خوف کمزور پڑ جاتا ہے۔ انصاف کی فراہمی جتنی یقینی اور بروقت ہوگی، جرائم کی روک تھام بھی اتنی ہی مؤثر ہوگی۔
لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ مسئلہ صرف قانون کا نہیں۔ ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، انتقامی سوچ، خواتین کے خلاف امتیازی رویے اور تشدد کو معمولی سمجھنے کا رجحان ایسے جرائم کی بنیاد بنتا ہے۔ جب کسی شخص کو یہ احساس ہو کہ وہ اپنی انا، غصے یا ذاتی دشمنی کی خاطر دوسرے انسان کی زندگی برباد کر سکتا ہے تو یہ صرف ایک فرد کی ناکامی نہیں بلکہ معاشرتی تربیت کی کمزوری بھی ہے۔ ایک اور اہم پہلو تیزاب اور دیگر خطرناک کیمیکلز کی دستیابی ہے۔ ان مادوں کی فروخت، ذخیرہ اور استعمال کے حوالے سے مؤثر نگرانی ناگزیر ہے۔ ریاستی اداروں کو اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ خطرناک کیمیکلز آسانی سے غلط ہاتھوں تک نہ پہنچ سکیں۔ تیزاب گردی کے متاثرین کو بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے لیے طبی علاج، پلاسٹک سرجری، نفسیاتی معاونت، قانونی امداد اور معاشی بحالی کے جامع پروگرام ناگزیر ہیں۔ ایک مہذب ریاست صرف مجرم کو سزا دینے پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ متاثرہ فرد کو دوبارہ باعزت زندگی گزارنے کے قابل بھی بناتی ہے۔
میڈیا، تعلیمی ادارے، مذہبی رہنما اور سول سوسائٹی بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ برداشت، احترامِ انسانیت، خواتین کے حقوق اور قانون کی پاسداری کے فروغ کے بغیر ایسے جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ ڈاکٹر ماہ نور کا واقعہ ایک بار پھر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر ہماری ترجیحات کیا ہیں۔ اگر قانون موجود ہے تو اس کا نفاذ مؤثر کیوں نہیں؟ اور اگر معاشرہ مہذب ہونے کا دعویدار ہے تو ایسے واقعات کے خلاف اجتماعی شعور اور مزاحمت کیوں کمزور ہے؟
تیزاب گردی کے خاتمے کے لیے صرف سخت قوانین کافی نہیں، بلکہ مؤثر نفاذ، فوری انصاف، سماجی اصلاح اور انسانی اقدار کے فروغ کی ضرورت ہے۔ جب تک ریاست اور معاشرہ مل کر اس ناسور کے خلاف متحد نہیں ہوں گے، تب تک ایسے واقعات ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑتے رہیں گے۔