حافظ حفیظ الرحمن اور پڑی واٹر چینل

الیکشن 2026 میں حلقہ نمبر دو گلگت سے محترم جناب حافظ حفیظ الرحمن صاحب کامیاب قرار پائے۔ اس کامیابی پر انہیں دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کامیابی کو عوام کی خدمت، خطے کی ترقی اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائے۔

یہاں ایک بات ابتدا ہی میں واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں نے مضامین، آرٹیکل اور سیاسی تجزیے لکھنے کی پاداش میں میری زندگی اجیرن بنائی اور میرا کیریئر برباد کرنے کی کوشش کی، وہ اس تحریر کو سیاسی چشمے سے نہ دیکھیں۔ یہ نہ سیاسی حمایت میں لکھی گئی ہے، نہ مخالفت میں، اور نہ ہی یہ کوئی سیاسی تجزیہ ہے۔ یہ ایک خالص سماجی مسئلے پر مبنی گزارش ہے، جو ہزاروں انسانوں کی بنیادی ضرورت اور زندگی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

حافظ صاحب!

آپ جیت گئے، اور ماشاء اللہ خوب جیتے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے بعد آپ کی کامیابی میں پڑی بنگلہ کے عوام کے ووٹوں کا بھی نمایاں کردار ہے۔ آج انہی لوگوں کی طرف سے ایک فریاد آپ تک پہنچانا مقصود ہے۔

اس وقت پڑی بنگلہ ایک عجیب کرب اور آزمائش سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے لوگ پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ پینے کے پانی کے لیے لوگ دربدر ہیں۔ چند خوش نصیب گھرانوں کے پاس شاید بڑی ٹینکیوں میں ذخیرہ شدہ پانی موجود ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ نوے فیصد عام لوگوں کے پاس پینے تک کا پانی میسر نہیں۔ صاف پانی کا ایک ٹینکر جگلوٹ سے دس ہزار روپے میں منگوانا پڑتا ہے جبکہ نسبتاً گدلا پانی پانچ سے چھ ہزار روپے میں دستیاب ہوتا ہے جوکہ دریائے گلگت سے بھر کر لایا جاتا۔

دوسری طرف پڑی بنگلہ کی سرسبز کیاریاں، سبزیاں اور باغات پانی نہ ہونے کے باعث سوکھ چکے ہیں۔ چھوٹے درختوں کے پتے جھڑنے لگے ہیں اور اب بڑے درخت بھی اسی انجام کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کی شریان آہستہ آہستہ خشک ہوتی جا رہی ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ

"وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ” اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔

پانی صرف ایک سہولت نہیں بلکہ زندگی کا دوسرا نام ہے یعنی پانی ہی زندگی ہے۔ جب پانی ختم ہو جائے تو زندگی کا حسن، معیشت کی روانی اور عبادت کی آسانی، سب کچھ متاثر ہو جاتا ہے۔ وضو کے لیے پانی نہ ہو، پینے کے لیے پانی نہ ہو، کھیتی باڑی کے لیے پانی نہ ہو، تو انسان کی بے بسی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

جناب حافظ حفیظ الرحمن صاحب !

جس طرح آپ نے اپنے پہلے دور اقتدار میں شہید سیف الرحمن ٹیچنگ ہسپتال کو اولین ترجیحات میں شامل کرکے عملی شکل دی تھی، اسی طرح آج پڑی واٹر چینل آپ کی خصوصی توجہ کا منتظر ہے۔ میری عاجزانہ گزارش ہے کہ آپ وزیر اعظم شہباز شریف صاحب یا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ سمیت متعلقہ وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر اس منصوبے کے لیے ایک جامع اور مستقل سکیم پہلی فرصت میں لانے کی کوشش کریں۔ پلیز اس واٹر چینل کو اپنی پہلی ترجیح بنا دے۔

پڑی واٹر چینل کے مسائل اور اس کی اہمیت آپ اور آپ کی ٹیم سے پوشیدہ نہیں۔ یہ کوئی معمولی یا وقتی مسئلہ نہیں بلکہ ہزاروں انسانوں کی زندگی، زراعت اور مقامی معیشت کا سوال ہے۔

خدارا! پہلی فرصت میں اس مسئلے کو وقت دیجئے۔ باقی سکیمیں، منصوبے اور کام بھی ہوتے رہیں گے، لیکن اس وقت پڑی بنگلہ کے لوگ واقعی کربلائی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں، گلگت بلتستان جیسے لاکھوں چشموں، آبشاروں ، ندی نالوں، برفیلی چوٹیوں، جھیلوں اور درجنوں دریاؤں کے خطے میں کربلا کا منظر دیکھنا ہے تو پڑی بنگلہ کی گلیوں میں گھومیں۔ اندازہ ہوجائے گا کہ سینکڑوں مائیں بہنیں ایک بالٹی پانی کے لیے کتنی دربدر ہورہی ہیں ، سچ یہ ہے کہ پینے کے پانی سے لے کر وضو کے پانی تک کی قلت نے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ پوری مقامی معیشت اسی واٹر چینل سے وابستہ ہے اور اس کے بغیر علاقہ مسلسل زوال کی طرف بڑھ رہا ہے۔

جناب حافظ صاحب!

یہ مسئلہ کسی ایکسین، سیکرٹری یا چیف سیکرٹری کی سطح سے بڑھ کر ہے۔ یہ ایک میگا پراجیکٹ کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کے لیے مضبوط سیاسی عزم، اعلیٰ سطحی توجہ اور بڑے وسائل درکار ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالات میں آپ سے زیادہ مؤثر انداز میں اس مسئلے کو حل کرنے کی امید کسی اور سے وابستہ نہیں۔

رسول رحمت صلی اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛

"لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔”

آج اگر پڑی واٹر چینل کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو جائے تو یہ صرف ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں ہوگا بلکہ ہزاروں لوگوں کی دعاؤں، آسودگی اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کا ذریعہ بنے گا۔

حافظ صاحب! پڑی بنگلہ کے لوگوں کو اس مسلسل آزمائش اور قیامت خیز صورتحال سے نجات دلائیے۔ یہ لوگ سال بھر اسی واٹر چینل کے مسئلے میں خوار ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی امیدیں، دعائیں اور نظریں آپ کی طرف لگی ہوئی ہیں۔

اللہ تعالیٰ آپ کو اس خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور اس کام کو آپ کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے