بین الاقوامی سیاست کے طویل اور پرپیچ منظرنامے میں بعض تنازعات ایسے بھی رونما ہوتے ہیں جنہیں سفارتی موشگافیوں، عارضی مفاہمتوں اور وقتی معاہدات کے ذریعے وقتی طور پر موقوف تو کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کے پس منظر میں کارفرما تاریخی، نظریاتی، سیاسی اور تزویراتی محرکات کا استیصال کیے بغیر ان کے لیے کسی پائیدار اور دیرپا استحکام کی ضمانت فراہم نہیں کی جا سکتی۔
اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مابین جاری کشمکش بھی اسی نوع کے پیچیدہ اور کثیرالجہتی تنازعات میں شمار ہوتی ہے، جس کی بنیادیں محض جوہری پروگرام، اقتصادی تعزیرات یا علاقائی نفوذ و اثرورسوخ تک محدود نہیں بلکہ تقریباً نصف صدی پر محیط فکری، نظریاتی، سیاسی اور سلامتیاتی اختلافات کی تہوں میں پیوست ہیں۔ یہی سبب ہے کہ موجودہ مرحلے پر جب جنگ بندی، مذاکرات اور ممکنہ مفاہمتی خاکوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے تو تہران کی ترجیح کسی نئی "ڈیل” کے حصول سے کہیں بڑھ کر ایک ایسے جامع اور پائیدار تصفیے کی جستجو معلوم ہوتی ہے جو تنازع کے بنیادی اسباب و علل کو ہی رفع کر دے۔
ایرانی زاویۂ نگاہ کے مطابق موجودہ بحران کو صرف یورینیم کی افزودگی، بین الاقوامی معائنہ جاتی نظام یا جوہری نگرانی کے تناظر میں محدود کر دینا حقیقتِ حال کی ادھوری اور سطحی تعبیر ہوگی۔ تہران کا استدلال یہ ہے کہ انقلابِ اسلامی کے فوراً بعد سے اسے مسلسل سیاسی دباؤ، اقتصادی محاصرہ، سفارتی تنہائی اور متنوع نوعیت کے سلامتیاتی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایرانی قیادت کے نزدیک اصل قضیہ اس کے جوہری پروگرام سے زیادہ اس کی خودمختار خارجہ حکمتِ عملی، خطے میں اس کے کردار اور اس کی انقلابی و نظریاتی شناخت سے متعلق ہے، جبکہ جوہری تنازع محض ایک ایسا مظہر ہے جو بعد کے ادوار میں اس وسیع تر اختلاف کے ایک نمایاں عنوان کے طور پر سامنے آیا۔
اگر تاریخی پس منظر کا عمیق مطالعہ کیا جائے تو 1979ء کے انقلاب کے بعد ایران اور مغربی دنیا کے مابین تعلقات مسلسل تناؤ اور بداعتمادی کی سمت گامزن رہے۔ مسئلۂ فلسطین پر تہران کا غیرمبہم اور غیرمصالحانہ مؤقف، اسرائیل کے ساتھ اس کی اصولی عدم موافقت، اور خطۂ مشرقِ وسطیٰ میں مختلف مزاحمتی تحریکوں کی سیاسی و اخلاقی تائید نے اس فاصلے کو مزید وسعت عطا کی۔ ایرانی حکام اس امر پر اصرار کرتے ہیں کہ حزب اللہ، حماس اور انصار اللہ (حوثی تحریک) جیسی قوتیں کسی بیرونی منصوبہ بندی کی پیداوار نہیں بلکہ مخصوص تاریخی، سیاسی اور سماجی حالات کا فطری نتیجہ ہیں، اگرچہ ایران نے ان کی سیاسی اور اخلاقی حمایت ضرور کی، جس کے نتیجے میں بعد ازاں انہیں ایرانی نفوذ کے دائرے میں شمار کیا جانے لگا۔
جوہری پروگرام کے باب میں بھی ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی تمام سرگرمیوں کا مقصد توانائی، طب، صنعت اور دیگر سویلین شعبوں میں پرامن استعمال ہے، نہ کہ عسکری مقاصد کا حصول۔ اسی تناظر میں ایرانی سپریم لیڈر کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کو شرعاً ناجائز قرار دینے والا فتویٰ تہران کے سرکاری مؤقف کی فکری بنیاد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ 2015ء میں طے پانے والا جوہری معاہدہ اس امر کی دلیل سمجھا گیا کہ ایران بین الاقوامی نگرانی اور محدود افزودگی کے ایک متفقہ فریم ورک کو قبول کرنے پر آمادہ تھا۔ تاہم بعد ازاں امریکہ کی جانب سے اس معاہدے سے علیحدگی نے ایرانی سیاسی و فکری حلقوں میں اس تصور کو مزید تقویت دی کہ مغربی طاقتوں کے ساتھ طویل المدتی اعتماد اور قابلِ پیش گوئی تعلقات کا قیام ایک نہایت دشوار مرحلہ ہے۔
حالیہ عسکری بحران نے اس پورے منظرنامے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ شدید اقتصادی دباؤ، سلامتیاتی خطرات، عسکری حملوں اور سفارتی تنہائی کے باوجود نہ صرف اس کا ریاستی ڈھانچہ برقرار رہا بلکہ داخلی سطح پر اس کی مزاحمتی صلاحیت اور سیاسی استحکام میں مزید اضافہ ہوا۔ ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ تہران خود کو اب محض دفاعی پوزیشن میں موجود ایک فریق کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے مؤثر اور بااعتماد کردار کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے جو مستقبل کے کسی بھی مذاکراتی عمل میں نسبتاً زیادہ مضبوط اور فیصلہ کن شرائط کے ساتھ شریک ہو۔
دوسری جانب امریکہ کے لیے بھی مشرقِ وسطیٰ میں کسی نئی اور وسیع جنگ کا امکان ہمیشہ سے ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی فیصلہ رہا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے تجربات نے واشنگٹن کو یہ ادراک عطا کیا ہے کہ اس خطے کے پیچیدہ تنازعات میں براہِ راست عسکری مداخلت کے نتائج اکثر ابتدائی تخمینوں اور تزویراتی توقعات سے یکسر مختلف برآمد ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر حالیہ سفارتی اشاروں اور سیاسی بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکی قیادت کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی عمل کو ترجیح دینا چاہتی ہے، بشرطیکہ خطے میں امریکی مفادات اور افواج براہِ راست خطرے سے دوچار نہ ہوں۔
موجودہ مرحلے پر ایران جن مطالبات کو بنیادی اہمیت دیتا ہے، ان میں اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، منجمد مالی اثاثوں کی بحالی، علاقائی خودمختاری کے اصول کا احترام اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کی نئی تعبیر شامل ہے۔ تہران کا استدلال یہ ہے کہ اگر تنازع کے بنیادی اسباب برقرار رہیں تو کوئی بھی نیا معاہدہ محض ایک عارضی وقفۂ سکون سے زیادہ حیثیت نہیں رکھے گا، جبکہ حقیقی اور پائیدار امن کے لیے اعتماد سازی، باہمی احترام، تزویراتی توازن اور اجتماعی علاقائی سلامتی کے نئے تصورات ناگزیر ہیں۔
درحقیقت موجودہ صورتِ حال کو محض جنگ اور سفارت کاری کی روایتی عینک سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ اس وسیع تر سوال کا امتحان ہے کہ آیا عالمی طاقتیں اور علاقائی ریاستیں وقتی مفاہمتوں اور محدود مفادات کے تبادلے پر اکتفا کریں گی یا وہ ایک ایسے جامع سیاسی و سلامتیاتی فریم ورک کی تشکیل کی جانب پیش قدمی کریں گی جو مستقبل کے تنازعات کے سرچشموں کو ہی کمزور کر دے۔ اگر آنے والے ایام میں فریقین کسی ایسے راستے پر متفق ہو جاتے ہیں جو صرف طاقت کے توازن کی بجائے باہمی خدشات، تحفظات اور سلامتیاتی تقاضوں کے منصفانہ ازالے پر استوار ہو، تو یہ پیش رفت نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نئے تاریخی باب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
بصورتِ دیگر تاریخ ایک مرتبہ پھر یہی سبق دہرائے گی کہ معاہدات وقتی سکون اور محدود استحکام تو فراہم کر سکتے ہیں، مگر امنِ مستحکم اور استقرارِ دائم صرف اسی وقت جنم لیتا ہے جب تنازع کے ظاہری مظاہر نہیں بلکہ اس کی فکری، سیاسی اور تاریخی جڑوں کا ادراک کر کے ان کا موثر تدارک کیا جائے۔