عوام ،احتجاج اور آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال

آزاد کشمیر میں گزشتہ پانچ سے چھ دنوں سے جو کچھ ہو رہا ہے، وہ پوری قوم کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ علاقہ دنیا سے کٹا ہوا محسوس ہو رہا ہے، جہاں عوام اپنے بنیادی حقوق، سیاسی خودمختاری اور معاشی بہتری کے لیے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں، لیکن حکومت ان کے مطالبات سننے کے بجائے پولیس اور رینجرز کی مدد سے ان سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابھی تک بارہ معصوم نوجوان شہید ہو چکے ہیں اور درجنوں سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں فیصلہ سازوں کی سوچ اور طرز عمل پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کے حالیہ انٹرویوز سے بھی یہ تاثر ملتا ہے کہ انہیں معاملات کی اصل صورتحال سے باخبر نہیں رکھا جا رہا، نہ ہی کسی اہم فیصلے میں انہیں شامل کیا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ سارا معاملہ، جس میں جانوں کا نقصان ہوا ہے، کہیں اور سے طے کیا جا رہا ہے۔ ایک اور پریشان کن تبدیلی یہ ہے کہ پہلے جہاں کشمیری بھارتی قونصل خانوں کے باہر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھایا کرتے تھے، اب وہی لوگ اپنے ہی علاقے میں اپنے حقوق کے لیے پاکستانی قونصل خانوں کے سامنے بھی احتجاج کر رہے ہیں ۔ یہ تبدیلی اپنے آپ میں بہت کچھ بیان کرتی ہے۔

آج جب پوری دنیا مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی میں ترقی کی منازل طے کر رہی ہے، ہمارے فیصلہ ساز اب بھی وہی پرانے طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ یا تو طاقت کے زور پر آوازیں دبانے کی کوشش کرتے ہیں، یا پھر احتجاج کرنے والوں پر غیر ملکی ایجنٹ ہونے یا دشمنوں کی سازش کا الزام لگا کر معاملے کو آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔ ماضی میں بھی ہم نے یہی منظر دیکھا ہے: خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں جب لوگ اپنے حقوق کے لیے اکٹھے ہوئے، انہیں بھی اسی طرح سازش کا نام دیا گیا اور طاقت کا استعمال کیا گیا۔ بلوچستان میں بھی کئی دہائیوں سے یہی رویہ اپنایا جا رہا ہے ۔جب بھی عوام نے اپنی آواز بلند کی، انہیں غیر ملکی قوتوں کا آلہ کار قرار دے کر ان کے مطالبات کو نظرانداز کر دیا گیا۔ نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے: وہاں مسائل نہیں حل ہوئے، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اور بڑھتے چلے گئے، اور قوم کے اندر عدم اعتماد کی فضا گہری ہوتی گئی۔

حقیقت تو یہ ہے کہ گزشتہ اٹھتر سالوں سے کشمیری اپنی تہذیب، امن پسندی اور قانون کی پاسداری کے لیے مشہور رہے ہیں۔ یہاں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، شہروں میں رات کے وقت بھی دکانوں سے سیکورٹی ہٹا دی جاتی ہے اور چوری جیسے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔ بیرون ملک مقیم لوگوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے معاشی حالات بھی کافی بہتر ہیں، لیکن اصل مسئلہ سیاست کا ہے۔ یہاں موروثی سیاست نے گہری جڑ پکڑ لی ہے، عوامی مسائل پر توجہ نہیں دی جاتی، اور ساری کوشش صرف اسمبلی تک پہنچ کر مراعات اور پروٹوکول سے لطف اندوز ہونے تک محدود رہتی ہے۔

ماضی کی تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے: 1970 کی دہائی سے لے کر اب تک آزاد کشمیر کے سیاسی نظام میں عدم استحکام ایک مستقل مسئلہ رہا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں تو چار وزیراعظموں کی تبدیلی اور چار نئی حکومتوں کا بننا کسی باشعور اور خودمختار قوم کے لیے کسی طور پر قابل قبول نہیں۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب بھی انتظامیہ بار بار تبدیل ہوتی ہے، ترقیاتی کام رک جاتے ہیں اور عوام کے مسائل اسی طرح لٹکتے رہتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے