جدت کا نیا افق، طب کی بدلتی ردا اور میڈیکل سپرنٹینڈنٹ جنرل سرجن ڈاکٹر غیاث الدین کی مدبرانہ انتظامی قیادت

انسانی معاشرے کی بقا اور اس کے ارتقائی سفر میں وہ لمحے ہمیشہ تاریخ ساز ثابت ہوتے ہیں جب روایتی جمود کو توڑ کر جدید تکنیک اور انسانی ہمدردی کا ایک نیا امتزاج تخلیق کیا جائے۔ کراچی کے صنعتی منظرنامے کی دھندلاہٹ میں گھرا سائیٹ کا علاقہ جہاں اپنی بے ہنگم زندگی اور مشینوں کے شور کے لیے جانا جاتا ہے، وہیں حال ہی میں سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) کے زیر انتظام کلثوم بائی ولیکا سوشل سیکورٹی اسپتال نے ایک ایسا فکری اور عملی معجزہ برپا کیا ہے جو مابعد جدید طبی تاریخ کا ایک روشن باب بن چکا ہے۔ یہ محض ایک ورکشاپ کا انعقاد نہیں تھا، بلکہ محدود وسائل کے ماتم کدے سے نکل کر تخلیقی امکانات اور تکنیکی بالادستی کے ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔ یہ دراصل اس عزم کا ببانگِ دہل اعلان تھا کہ محنت کش طبقے کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کسی بھی بین الاقوامی معیار سے کم نہیں ہونی چاہئیں، اور اس علمی تحریک کے پیچھے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ جنرل سرجن ڈاکٹر غیاث الدین کی دوراندیش جراحی بصیرت اور انتظامی ریاضت کا گہرا پرتو نظر آتا ہے۔

کسی بھی پسماندہ یا ترقی پذیر معاشرے میں جب عوامی شعبے کے طبی اداروں کا ذکر آتا ہے، تو ذہن میں محرومی، نظم و ضبط کا فقدان اور فرسودہ آلات کی ایک تاریک تصویر ابھرتی ہے۔ لیکن کلثوم بائی ولیکا اسپتال کے شعبہ جنرل سرجری نے "ایڈوانسڈ پروکٹولوجی ورکشاپ” کے ذریعے اس فرسودہ تاثر کو یکسر پامال کر دیا۔ جدید پروکٹولوجی اور بالخصوص "ویڈیو اسسٹڈ اینل فسچولا ٹریٹمنٹ” (VAAFT) جیسے پیچیدہ اور کم سے کم جراحی مداخلت (Minimally Invasive Techniques) والے طریقہ کار پر عملی و نظری تربیت فراہم کرنا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جب قیادت کے پاس وژن ہو، تو وہ روایتی چاقو اور نشتر کے دور سے نکل کر لیزر ٹیکنالوجی اور لائیو سرجیکل ڈیمانسٹریشن کے ذریعے اپنے جونیئر معالجین کو براہِ راست آپریشن تھیٹر سے وڈیو لنک کے ذریعے علم کے نئے دریچوں سے روشناس کرا سکتی ہے۔ علمی و فکری سطح پر یہ جراحت کی دنیا میں ایک ایسے مثالی نمونے کی منتقلی ہے، جہاں نظریہ اور عمل ایک دوسرے کے ساتھ بغل گیر نظر آتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ متقی جیسے نامور مہمانِ اعزاز کی موجودگی اور پروفیسر ڈاکٹر شفقت اللہ اور پروفیسر ڈاکٹر ایم آصف قریشی جیسے اساتذہ کی فکری رہنمائی نے اس تقریب کو ایک طبی درسگاہ کا تقدس عطا کیا۔ معالجین نے نہ صرف نئی تکنیکوں کے خدوخال کو سمجھا بلکہ سوال و جواب کے سیشن میں ان گتھیوں کو بھی سلجھایا جو عام طور پر جدید جراحی کے دوران رکاوٹ بنتی ہیں۔ ڈاکٹر غیاث الدین اور ڈاکٹر سکندر کی انتظامی جابکدستی اور ڈائریکٹر سی اینڈ بی وسیم جمال کی فعال شرکت اس بات کا ثبوت تھی کہ جب تک انتظامی ڈھانچہ اور طبی ماہرین ایک ہی صفحے پر نہ ہوں، تب تک ایسے انقلابی اقدامات کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو اور میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر کامران اعوان کی سرپرستی نے اس پورے عمل کو وہ ادارہ جاتی استحکام بخشا، جس کی بنیاد پر مستقبل کے طویل مدتی منصوبے استوار کیے جاتے ہیں۔ یہ شیلڈز کی تقسیم محض اعزاز نہیں تھی، بلکہ یہ اس اعترافِ خدمت کا مظہر تھی جو معاشرے کے پسماندہ طبقات کی فلاح کے لیے دیانت داری سے کام کرنے والوں کا حق بنتا ہے۔

اگر اس پورے منظرنامے کا گہرا محققانہ اور تجزیاتی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہسپتال کی عمارت اور اس کا ماحول اب کسی نئی زندگی کا پتا دے رہا ہے۔ ماضی کے ملبے سے نکل کر تقریباً تمام شعبہ جات میں جو نمایاں بہتری اور مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، وہ دلی مسرت اور اطمینان کا باعث ہیں۔ تشخیصی خدمات کے معیار میں اضافہ، ڈیجیٹل ایکسرے کی مؤثر فعالیت اور صفائی ستھرائی کے وہ انتظامات جو عموماً نجی شعبے کے مہنگے ہسپتالوں کا خاصہ سمجھے جاتے تھے، اب یہاں کے روزمرہ کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ وسائل کی کمی کا رونا رونے کے بجائے اگر خلوصِ نیت، پیشہ ورانہ دیانت داری اور خدمتِ خلق کا سچا جذبہ موجود ہو، تو دھرتی کے بنجر ترین حصوں کو بھی گلزار بنایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر غیاث الدین کی قیادت میں ڈاکٹروں، ٹیکنالوجسٹس، نرسنگ اسٹاف اور پیرا میڈیکل عملے سے لے کر صفائی کے عملے تک، ہر فرد ایک ایسے مربوط سلسلے کی کڑی بن چکا ہے جہاں فرض شناسی محض ڈیوٹی نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ بن چکی ہے۔

سوشل سیکیورٹی کے اداروں کا بنیادی اور کلیدی فلسفہ یہی ہے کہ وہ طبقہ جو ملک کی معاشی ترقی کے لیے کارخانوں میں اپنا خون پسینہ بہاتا ہے، اسے اور اس کے خاندان کو ایک باعزت، بروقت اور معیاری طبی چھت فراہم کی جائے۔ کلثوم بائی ولیکا اسپتال نے اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کیا ہے کہ عوامی اداروں کا وقار اور مریضوں کا اعتماد خوش اخلاقی، وقت کی پابندی اور ہمدردانہ رویے ہی سے بحال کیا جا سکتا ہے۔ جب ایک عام مزدور ہسپتال میں داخل ہوتا ہے اور اسے جدید ترین لیزر ٹیکنالوجی کے ذریعے علاج کی سہولت میسر آتی ہے، تو وہ صرف جسمانی طور پر ہی شفایاب نہیں ہوتا بلکہ اس کا ریاستی اداروں پر ٹوٹا ہوا اعتماد بھی بحال ہوتا ہے۔ علمی و تربیتی پروگراموں کا یہ تسلسل برقرار رہنا چاہیے تاکہ انسانیت کی خدمت کا یہ سفر کبھی سست نہ ہو اور یہ ادارہ محنت کشوں کی فلاح و بہبود کا ایک حقیقی اور مثالی مرکز بن کر چمکتا رہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے