کیا یہ واقعی شہ رگ ہے؟

قائدِ اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی "شہ رگ” قرار دیا تھا۔ گزشتہ اٹھہتر برسوں سے کشمیری عوام اسی یقین کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں کہ ان کی سرزمین پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ مگر آج جب ہم آزاد کشمیر کے موجودہ حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک بنیادی سوال ذہن میں ابھرتا ہے: اگر کشمیر واقعی شہ رگ ہے تو کیا اس کی تکلیف، محرومی اور بے چینی کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟

گزشتہ کئی دنوں سے آزاد کشمیر میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش، کاروباری سرگرمیوں کا تعطل، بازاروں اور دکانوں کی بندش، روزمرہ زندگی کی مشکلات اور عوامی بے چینی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایسے حالات میں حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر دونوں بے بس دکھائی دیتی ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ تمام نظریں کہیں اور سے آنے والے فیصلوں پر لگی ہوئی ہیں۔

ریاست میں سیکیورٹی اقدامات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ عام شہری خود کو غیر محفوظ اور بے اختیار محسوس کرنے لگے ہیں۔ رات گئے گھروں پر چھاپے، چادر اور چار دیواری کے تقدس سے متعلق شکایات اور عوامی اضطراب ایک ایسے ماحول کی نشاندہی کرتے ہیں جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ اگر عوام سے کیے گئے وعدے اور تحریری معاہدے موجود ہیں تو ان پر عمل درآمد حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ وعدوں کی پاسداری نہ صرف ریاستی وقار کا تقاضا ہے بلکہ عوامی اعتماد کی بنیاد بھی۔ جب معاہدے پورے نہیں ہوتے تو صرف اختلاف ہی نہیں بڑھتا بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔

جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے سنا جاتا ہے۔ عوامی مطالبات کو محض طاقت یا پابندیوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسائل کا مستقل حل مذاکرات، افہام و تفہیم اور سیاسی بصیرت سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ جب آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو مسائل ختم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

آزاد کشمیر میں جاری صورتحال کا ایک اور تشویشناک پہلو خوراک اور ادویات کی ممکنہ قلت ہے۔ اگر نقل و حمل، رسد اور کاروباری سرگرمیاں طویل عرصے تک متاثر رہیں تو اس کے براہِ راست اثرات عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ خوراک اور علاج انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات ہیں، لہٰذا ہر پالیسی اور ہر انتظامی اقدام میں سب سے پہلے عوامی فلاح کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق تحمل، دانشمندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے، عوامی شکایات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جو اعتماد سازی کا باعث بنیں۔ ریاست کی اصل طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں، اور مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جس کے شہری خود کو محفوظ، باعزت اور سنا ہوا محسوس کریں۔

آج جب پاکستان بین الاقوامی سطح پر امن، استحکام اور سفارتی کردار کے حوالے سے مثبت پہچان بنانے کی کوشش کر رہا ہے تو داخلی مسائل کے حل میں بھی اسی بصیرت اور تدبر کی ضرورت ہے۔ کسی بھی ریاست کی کامیابی کا پیمانہ صرف سرحدوں کا تحفظ نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے حقوق، وقار اور فلاح کا تحفظ بھی ہے۔

اگر کشمیر واقعی پاکستان کی شہ رگ ہے تو پھر اس کی آواز کو سننا، اس کے مسائل کو سمجھنا اور اس کے عوام کے جائز مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ کیونکہ شہ رگ کی تکلیف پورے جسم کو متاثر کرتی ہے، اور اس کی صحت ہی پورے وجود کی بقا اور استحکام کی ضمانت بنتی ہے۔یہ ورژن اخباری کالم اور سنجیدہ رائے کے مضمون کے معیار کے قریب ہے، جس میں جذبات کے ساتھ ساتھ زبان کی شائستگی، تسلسل اور استدلال کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے