کربلا: حق و قربانی کی لازوال تاریخِ

تاریخِ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ دینِ حق کی سربلندی کے لیے بے شمار معرکے برپا ہوئے، جلیل القدر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اسلام کے پرچم کو سر بلند رکھا۔ بدر و اُحد سے لے کر حنین تک ہر میدان میں اہلِ ایمان نے اپنی وفاداری اور ایثار کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کی نظیر تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ مگر یہ ایک المیہ ہے کہ آج کا مسلمان اپنی ہی تاریخ سے بڑی حد تک ناواقف دکھائی دیتا ہے۔ اگر ابتدائی اسلامی جنگوں کے نام یا عظیم شخصیات کی قربانیوں کے بارے میں سوال کیا جائے تو اکثر خاموشی یا لاعلمی سامنے آتی ہے حالانکہ حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ جیسے عظیم شہید کی قربانی جن کا جسمِ مبارک بے حرمتی کا نشانہ بنا، ایک ایسا باب ہے جو ہر مسلمان کے دل میں تازہ رہنا چاہیے۔

اس کے باوجود یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ شہادتوں کی اس طویل داستان میں سانحۂ کربلا کو ایک منفرد اور لازوال مقام حاصل ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو وہ دوام نصیب ہوا جو دیگر شہادتوں کو نہ مل سکا؟ کیوں یومِ حسین آج بھی پوری دنیا میں غیر معمولی عقیدت و احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے؟ اس کا جواب امام عالی مقام کی قربانی کے مقصد میں پوشیدہ ہے۔ آپ کی جدوجہد کسی دنیاوی اقتدار، جاہ و حشمت یا ذاتی مفاد کے لیے نہ تھی، بلکہ یہ معرکہ دینِ مصطفوی ﷺ کے تحفظ، حق کے قیام اور باطل کے رد کے لیے تھا۔ یہی وہ اخلاص اور صداقت ہے جس نے کربلا کو رہتی دنیا تک زندہ کر دیا۔

کربلا کا ایک اور پہلو اسے دیگر معرکوں سے ممتاز کرتا ہے اور وہ یہ کہ یہاں مقابلہ صرف اسلام اور کفر کے درمیان نہ تھا بلکہ بظاہر مسلمان کہلانے والے افراد ہی حق کے مقابل صف آراء تھے۔ وہ نمازیں بھی ادا کرتے تھے، روزے بھی رکھتے تھے مگر اقتدار کی ہوس اور دنیاوی مفادات نے ان کی بصیرت کو سلب کر لیا تھا۔ اس حقیقت نے یہ واضح کر دیا کہ محض ظاہری عبادات انسان کو حق پر قائم رکھنے کے لیے کافی نہیں بلکہ اخلاص، صداقت اور حق کی پہچان بھی لازم ہے۔ کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہر وہ شخص جو بظاہر دیندار نظر آئے، ضروری نہیں کہ وہ حق کا علمبردار بھی ہو۔

اگر مقصدِ شہادت کو سمجھنا ہو تو ہمیں بعثتِ نبوی ﷺ کے بنیادی ہدف کو سامنے رکھنا ہوگا۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کرے۔ یہی وہ عظیم مشن تھا جس کے لیے حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی پوری حیاتِ طیبہ وقف کر دی۔ اسی مقصد کے لیے آپ نے تکالیف برداشت کیں، زخم کھائے اور آپ کے جاں نثار صحابہ نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پھر خلافتِ راشدہ کے ادوار میں اس مشن کو جاری رکھا گیا یہاں تک کہ ایک ایسا وقت آیا جب خلافت کے نام پر ایک ایسی قیادت سامنے آئی جو اسلامی اقدار سے متصادم تھی۔

ایسے نازک موقع پر امام حسین رضی اللہ عنہ نے حق کا علم بلند کیا اور واضح کر دیا کہ باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ایک سچے مسلمان کا شیوہ نہیں۔ آپ نے اپنی اور اپنے اہلِ بیت کی قربانی دے کر یہ پیغام دیا کہ اسلام کی بقا کے لیے ہر قیمت ادا کی جا سکتی ہے، مگر اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر آپ یزید کی بیعت قبول کر لیتے تو معاشرے میں برائی کو جواز مل جاتا اور دین کی اصل روح مجروح ہو جاتی۔ اسی لیے آپ نے شہادت کو قبول کیا مگر باطل کے سامنے جھکنا گوارا نہ کیا۔

محبتِ رسول ﷺ اور محبتِ اہلِ بیت درحقیقت ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے واضح فرمایا کہ حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے محبت، آپ ﷺ سے محبت ہے۔ یہی محبت ایمان کی بنیاد اور نجات کا ذریعہ ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہمیں صرف غم منانے کا نہیں بلکہ اپنے کردار کو سنوارنے کا درس دیتی ہے۔ آپ نے سجدے میں سر کٹا کر نماز کی اہمیت کو اجاگر کیا، لہٰذا جو شخص اپنے آپ کو سچا مسلمان کہتے ہیں اس پر لازم ہے کہ وہ نماز کی پابندی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے اور دین کے تقاضوں کو پورا کرے۔

آج کے دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کربلا کے پیغام کو محض ایک واقعہ سمجھ کر نہ گزار دیں، بلکہ اسے اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔ حق کا ساتھ دینا، باطل سے نفرت کرنا، عدل و انصاف کو فروغ دینا اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنا ہی اصل درسِ کربلا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نسلوں کو بھی یہی پیغام دیں تاکہ ان کے دلوں میں محبتِ اہلِ بیت راسخ ہو اور وہ سچائی کے راستے پر گامزن رہیں۔

آخر میں نوے ژوند ادبی ثقافتی اور فلاحی تنظیم اسلام آباد کی جانب سے محبت، ایثار، بھائی چارے اور باہمی احترام کا پیغام پیش کیا جاتا ہے کہ کربلا ہمیں اتحاد، صبر اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتی ہے۔ آئیں ہم سب مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں نفرت کی جگہ محبت، تفرقے کی جگہ یکجہتی اور ظلم کی جگہ انصاف کو فروغ حاصل ہو اور یہی امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی کا حقیقی ثمر ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے