بحیثیتِ مومن ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر جن حالات سے گزر رہے ہیں، وہ نہایت دلخراش اور تکلیف دہ ہیں۔ بحیثیتِ انسان ایسے حالات سے متاثر ہونا ایک فطری امر ہے۔ مگر جس طرح انسان کو پیاس لگے اور اس کے قریب پانی موجود نہ ہو تو وہ پانی کی تلاش میں جستجو اور کوشش کرتا ہے، اسی طرح برائیوں کے طوفان میں بھی نیکی کی تلاش کرنا انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔
جس طرح پیاس کی حالت میں انسان مایوس نہیں ہوتا بلکہ حتیٰ المقدور پانی کی تلاش میں اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لاتا ہے، اسی طرح ظلم و جبر کے ماحول میں مایوس ہو کر بیٹھ جانا بھی انسانی فطرت نہیں۔ انسان کبھی ظلم، جبر اور برائی پر قناعت نہیں کر سکتا؛ وہ لازماً حالات کی بہتری کے لیے جدوجہد کرتا رہتا ہے۔
یہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب معاشروں میں ظلم و ستم، ناانصافی اور حیوانیت عام ہو چکی ہوتی ہے، تب بھی ایسے لوگ اٹھتے ہیں جو حالات کا رخ موڑ دیتے ہیں اور ظلم و جبر کے ماحول میں رہتے ہوئے عدل و انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ بالآخر ان کی محنت رنگ لاتی ہے اور معاشرے میں ظلم و جبر کی جگہ عدل و انصاف کا بول بالا ہو جاتا ہے۔
قرآنِ حکیم میں حضرت یوسفؑ کے خرید و فروخت کے واقعے سے شاید یہی سبق ملتا ہے کہ اگر معاشرہ آپ کو غلام سمجھتا رہے، یہاں تک کہ بظاہر آپ کی سرِعام خرید و فروخت بھی ہو، تب بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ ظلم پر مبنی نظام کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کرنی چاہیے۔ حضرت یوسفؑ کے واقعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ حقیقی معنوں میں نظام کی تبدیلی کے لیے اٹھتے ہیں اور اس مقصد کے لیے مطلوبہ کردار اختیار کرتے ہیں، ان کے اخلاق و کردار میں ایسی کشش پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ دلوں کو نرم کر کے لوگوں کو عدل و انصاف کے پیغام کی طرف مائل کر دیتے ہیں۔
اگرچہ ظلم کے خاتمے اور عدل کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا انسانی فطرت کا حصہ ہے، لیکن چونکہ عدل انسانی زندگی کی سب سے قیمتی نعمتوں میں سے ایک ہے، اس لیے اس کے قیام کے لیے قیمتی چیزوں، مثلاً مال، جان، وقت، احساسات اور جذبات کی قربانی بھی ناگزیر ہوتی ہے۔
انسانی نفسیات میں عدل محض ایک خواہش نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل درست ہے کہ انسان عدل کے قیام کے معاملے میں ہمیشہ کے لیے مایوس ہو کر گوشہ نشین نہیں ہو سکتا۔ ہر دور میں انسانوں کا ایک یا ایک سے زیادہ گروہ ضرور موجود رہا ہے، اور آئندہ بھی موجود رہے گا، جو عدل کے قیام کے لیے جدوجہد کرتا رہے گا۔
لہٰذا حالات کو دیکھ کر مایوس ہونا چونکہ انسانی فطرت کے خلاف ہے، اس لیے ہمیں بھی پورے اعتماد، اخلاص اور استقامت کے ساتھ عدل کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھنی چاہیے، خواہ ظاہری حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ ایک دن ضرور ایسا آئے گا جب دل ہمارے پیغامِ عدل کے لیے نرم ہوں گے، لوگ ہمارا ساتھ دیں گے، بشرطیکہ ہم پورے اخلاص، اعتماد اور حسنِ کردار کے ساتھ اس مقصد کے لیے اٹھیں اور اپنے کردار کا مسلسل سیرتِ یوسفیؑ کی روشنی میں جائزہ لیتے رہیں۔