مقدس ایام: تلخ زبانیں، ایک لمحۂ فکریہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

کبھی کبھی انسان کچھ مناظر دیکھ کر سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم کس راستے پر نکل پڑے ہیں۔ دل میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہی وہ دین ہے جو ہمیں اخلاق، محبت اور برداشت کا درس دیتا ہے؟

ہر سال محرم الحرام آتا ہے تو ہمیں تاریخ کے بڑے واقعات، قربانی، صبر اور دین کے لیے دی گئی عظیم مثالیں یاد کرنی چاہئیں لیکن افسوس کہ انہی بابرکت ایام میں سوشل میڈیا پر ایسی بحثیں شروع ہو جاتی ہیں جن میں علم کم اور غصہ زیادہ نظر آتا ہے، دلیل کم اور گالی زیادہ۔

اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ ایک پوڈکاسٹ میں کسی شیعہ عالم سے سوال و جواب کے دوران ایک تاریخی شخصیت کا ذکر ایسے انداز میں آیا جسے اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک نامناسب سمجھا گیا۔ بس پھر کیا تھا فیس بک کی دیواریں پر وہ کچھ دیکھنے لگیں جو شاید لغت کی کتابوں نے بھی نہ دیکھا ہو۔ دونوں مسالک کے کچھ پیروکار ایسی "علمی” گفتگو میں مشغول ہو گئے جس میں گالی پہلے آئی، حوالہ بعد میں۔

میں یہ مناظرے دیکھتا رہا اور سوچتا رہا۔ میں نے ان تبصروں میں حدیث کے حوالوں کے انبار بھی دیکھے۔ افسوس یہ ہے کہ بہت سے حوالے یا تو سیاق و سباق سے کاٹے گئے تھے یا مکمل تحقیق کے بغیر پیش کیے جا رہے تھے۔ جذبات میں کوئی کتاب کھول کر نہیں بیٹھتا، بس وہی لکھ دیتا ہے جو پہلے سے ذہن میں بیٹھا ہو۔

آخر ایسے حساس موضوعات کو خاص انہی ایام میں ہی کیوں چھیڑا جاتا ہے؟ یہ سوال ہر ذی شعور کو سوچنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا

"اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔”

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ

"بے شک مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں، پس اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ۔”

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ

"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”

لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ

"مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا۔”

یہ آیات اور احادیث ہمیں دوسروں سے پہلے اپنے آپ کو دیکھنے کا موقع دیتی ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہماری گفتگو لوگوں کو اللہ کے قریب کر رہی ہے یا ایک دوسرے سے دور؟

اسلامی تاریخ بہت وسیع اور حساس موضوع ہے۔ اسے چند سوشل میڈیا پوسٹوں یا جذباتی تقریروں سے نہیں سمجھا جا سکتا۔

ابتدائی اسلامی تاریخ کے واقعات کو سمجھنے کے لیے تحقیق اور احتیاط ضروری ہے۔ ابتدائی دور میں باقاعدہ تاریخی تصنیف کا انداز بعد کے ادوار میں زیادہ نمایاں ہوا، اس لیے ان روایات کو سمجھتے وقت اہلِ علم نے ہمیشہ احتیاط کی تاکید کی ہے۔

تاریخ الطبری، الکامل فی التاریخ، البدایہ والنہایہ اور انساب الأشراف جیسی کتابیں اسلامی تاریخ کے اہم مصادر ہیں، لیکن ان میں موجود روایات کو سیاق و سباق اور تحقیق کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم نے تاریخی روایات کو پرکھنے کے اصول قائم کیے۔ جدید دور میں بعض غیر مسلم محققین نے بھی ان واقعات کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کی ہر بات سے اتفاق ضروری نہیں، لیکن مختلف زاویوں سے تاریخ کو سمجھنا علمی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج ہم کتابیں کم اور کلپس زیادہ دیکھتے ہیں، پوری بات جانے بغیر رائے قائم کر لیتے ہیں۔

اس فتنے کی جڑ کہاں ہے؟ دو طرح کے لوگ اس آگ کو ہوا دیتے ہیں۔

پہلے وہ ٹی وی چینلز ہیں جو ریٹنگ کی بھوک میں مختلف مسالک کے نمائندوں کو ایک اسٹوڈیو میں بٹھا کر حساس مسائل پر بحث کراتے ہیں۔ انہیں مذہب سے محبت نہیں، انہیں نمبر چاہئیں۔ کیمرے بند ہوں تو یہی لوگ چائے پر مل کر بیٹھتے بھی ہیں، لیکن جب اسکرین روشن ہوتی ہے تو لاکھوں دلوں میں نفرت کا بیج بویا جاتا ہے۔

اور پھر یہ نئے دور کے پوڈکاسٹرز ہیں جن کے پاس نہ جانے کہاں سے انہی ایام میں ایسے سوالات آ جاتے ہیں جو سننے میں جرات مندانہ لگتے ہیں، مگر بعض اوقات معاشرے میں مزید تلخی پیدا کر دیتے ہیں۔

اللہ ان تمام علماء اور اہلِ قلم کو بھی ہدایت دے جو ایسے حساس معاملات پر گفتگو کرتے وقت ماحول اور وقت کی نزاکت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ بات کسی ایک طرف کے لیے نہیں، بلکہ سب کے لیے ہے۔

ایک بات غور سے سنیے

کیا کبھی کسی سنی نے کسی شیعہ سے لین دین صرف اس بنیاد پر بند کیا کہ یہ شیعہ ہے؟ کیا کبھی کسی شیعہ نے کسی سنی سے تعلق صرف اس وجہ سے توڑا کہ یہ اہلِ سنت سے ہے؟

جواب ہے: نہیں۔

بازار میں دونوں ساتھ بیٹھتے ہیں، محلے میں ساتھ رہتے ہیں، خوشیوں اور غموں میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ اتحاد عوامی سطح پر آج بھی زندہ ہے، لیکن چند اسکرینوں کے پیچھے کچھ آوازیں اسے کمزور کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔

اسفارِ حسینؑ ؛ قسط ۸ -یومِ عاشور: خطباتِ حسینؑ اور شہادتِ کربلا

پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی نے جو نقصان پہنچایا ہے، اس کا حساب آسان نہیں۔ ہر بار اس کا شکار وہ عام انسان بنا جس کا ان جھگڑوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

اصل بات یہ ہے کہ آخرت کے فیصلے اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ کسی کے ایمان، نیت اور انجام کا آخری فیصلہ ہمارا کام نہیں۔

اگر کسی کو کسی تاریخی شخصیت یا کسی واقعے کے بارے میں اعتراض ہے تو اسے علمی انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے، لیکن ہم کسی کے دل کے قاضی نہیں ہیں۔

گالی کبھی دلیل نہیں ہوتی نہ عقل کی نظر میں، نہ شریعت کی نظر میں۔ جب انسان کے پاس دلیل کمزور پڑ جائے تو وہ اکثر گالی کا سہارا لیتا ہے، اور یہی اس کی اپنی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔

اس سارے شور کا سب سے بڑا نقصان ایک سادہ لوح انسان کو ہوتا ہے جو نہ عالم ہے نہ محقق بس ایک عام مسلمان جو اللہ کو مانتا ہے، رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتا ہے اور امن کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔

وہ جب یہ گالیاں پڑھتا ہے، الزامات سنتا ہے اور نفرت آمیز گفتگو دیکھتا ہے تو دل میں ایک چنگاری ضرور گرتی ہے، چاہے وہ خود نہ چاہے۔

اور یہی سب سے بڑا ظلم ہے ایک ایسے انسان کے ساتھ جو بے قصور ہے اور جس کا اس پوری بحث سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا:

کیا ہم اپنے بچوں کو دین کی محبت سکھا رہے ہیں یا دوسروں سے نفرت؟

اہلِ بیتؓ سے محبت ہو، صحابۂ کرامؓ کا احترام ہو یا تاریخ کے کسی معاملے پر رائے ہو ، ہر بات علم، ادب اور انصاف کے ساتھ ہونی چاہیے۔

اختلاف رہے گا ، لیکن احترام بھی رہ سکتا ہے۔

دلیل دی جا سکتی ہے ، مگر گالی ضروری نہیں۔

بات کی جا سکتی ہے ، مگر دل توڑنا دین نہیں۔

ہم سب اللہ کو مانتے ہیں، نبی کریم ﷺ کو مانتے ہیں، قرآن کو مانتے ہیں۔ ہم سب کو ایک دن اسی اللہ کے سامنے جانا ہے اکیلے، اپنے اعمال کے ساتھ۔

اس وقت حساب یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے فیس بک پر کتنے حوالے شیئر کیے، کتنے مناظرے جیتے یا کتنے لوگوں کو غلط ثابت کیا۔

یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اللہ کے بندوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت، برداشت، انصاف اور حسنِ اخلاق عطا فرمائے۔ ہمارے دلوں سے نفرت نکالے اور ہمیں ایسی بات کرنے کی توفیق دے جو لوگوں کو قریب کرے، دور نہ کرے۔

آمین یا رب العالمین

حوالہ جات

۱۔ قرآن کریم: سورۃ آل عمران، آیت: ۱۰۳

۲۔ قرآن کریم: سورۃ الحجرات، آیت: ۱۰

۳۔ صحیح البخاری، کتاب الإیمان، حدیث نمبر: ۱۰؛ صحیح مسلم، کتاب الإیمان، حدیث نمبر: ۴۰

۴۔ جامع ترمذی، کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر: ۱۹۷۷

۵۔ تاریخ الطبری ؛ محمد بن جریر الطبری (وفات: ۳۱۰ھ)، دارالتراث، بیروت

۶۔ الکامل فی التاریخ ؛ علی بن الاثیر (وفات: ۶۳۰ھ)، دار صادر، بیروت

۷۔ البدایۃ والنہایۃ ؛ حافظ ابن کثیر (وفات: ۷۷۴ھ)، دارالفکر، بیروت

۸۔ انساب الأشراف؛ البلاذری (وفات: ۲۷۹ھ)، دارالفکر، بیروت

۹۔ ولفرڈ میڈلونگ: محمدؐ کے بعد خلافت ابتدائی خلافت کا تحقیقی مطالعہ؛ کیمبرج یونیورسٹی پریس، ۱۹۹۷ء

۱۰۔ ہیو کینیڈی: نبیؐ اور خلافت کا دور؛ لانگ مین پریس، ۲۰۰۴ء

۱۱۔ فریڈ ڈونر: محمدؐ اور اہلِ ایمان اسلام کی ابتدا؛ ہارورڈ یونیورسٹی پریس، ۲۰۱۰ء

۱۲۔ سنن ابی داود، کتاب الأدب، حدیث نمبر: ۴۸۰۰؛ ریاض الصالحین للنووی، باب المناہی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے