بڑے شہروں کی ترقی کے ساتھ ایک مسئلہ تقریباً ہر ملک میں مشترک ہے ۔ ٹریفک جام۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نہ صرف لوگوں کا قیمتی وقت ضائع کرتی ہے بلکہ ایندھن کے استعمال، فضائی آلودگی اور معاشی نقصان میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ دنیا بھر کے شہر اس مسئلے کے حل کے لیے نئی ٹیکنالوجیز کی طرف بڑھ رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) اس تبدیلی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔
چین کا دارالحکومت بیجنگ اس سلسلے میں ایک دلچسپ مثال پیش کر رہا ہے۔ شہر کے ضلع ہائیدیان کے 19 اہم چوراہوں پر ایسے اسمارٹ ٹریفک سگنلز نصب کیے گئے ہیں جو روایتی ٹائمر کے مطابق نہیں چلتے بلکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے خود فیصلہ کرتے ہیں کہ کب سبز اور کب سرخ سگنل دینا ہے۔ یہ نظام سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد، رفتار اور ٹریفک کے بہاؤ کا مسلسل تجزیہ کرتا ہے اور اسی کے مطابق سگنلز کا دورانیہ تبدیل کر دیتا ہے۔
اس تبدیلی کا اثر شہریوں نے بھی محسوس کیا ہے۔ جہاں پہلے بعض مصروف چوراہوں پر گاڑیوں کو دو یا تین بار گرین سگنل کا انتظار کرنا پڑتا تھا، وہاں اب ایک ہی بار میں راستہ مل جاتا ہے۔ اس سے سفر کا وقت کم ہوا ہے اور ٹریفک کی روانی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
بیجنگ کا یہ منصوبہ دراصل "ڈوئل انٹیلیجنس پروگرام ” کا حصہ ہے جس کا آغاز دسمبر 2020 میں کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں مصنوعی ذہانت کے ساتھ ساتھ جدید کیمروں کا جال بھی شامل ہے۔ ملٹی کیمرہ اسپِلائسنگ ٹیکنالوجی مختلف زاویوں سے لی گئی تصاویر کو یکجا کر کے کسی بھی گاڑی یا ٹریفک خلاف ورزی کی مکمل تصویر تیار کرتی ہے۔ اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ درست معلومات حاصل ہوتی ہیں۔
دنیا بھر میں ٹریفک کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ تحقیقی اداروں کے مطابق بڑے شہروں میں روزانہ لاکھوں گھنٹے ٹریفک جام کی نذر ہو جاتے ہیں۔ بعض ترقی یافتہ شہروں میں ایک اوسط شہری سالانہ 50 سے 100 گھنٹے تک صرف ٹریفک جام میں گزار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسمارٹ سٹی منصوبوں میں ٹریفک مینجمنٹ کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔
چین کے علاوہ دیگر ممالک بھی مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ سنگاپور کو دنیا کے کامیاب ترین اسمارٹ شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہاں سینسرز، کیمروں اور ڈیجیٹل نظاموں کے ذریعے ٹریفک کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ اگر کسی سڑک پر گاڑیوں کا دباؤ بڑھ جائے تو سگنلز خود بخود اپنے اوقات تبدیل کر لیتے ہیں۔
برطانیہ کے شہر لندن میں بھی اے آئی پر مبنی ٹریفک نظام متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ مصروف علاقوں میں گاڑیوں کی روانی بہتر بنائی جا سکے۔ اسی طرح امریکہ کے کئی شہروں میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے سگنلز آزمائشی بنیادوں پر استعمال ہو رہے ہیں۔ بعض مطالعات کے مطابق ایسے نظام ٹریفک انتظار کے وقت میں 20 سے 40 فیصد تک کمی لا سکتے ہیں۔
اسمارٹ ٹریفک صرف وقت بچانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ماحولیات کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ جب گاڑیاں کم وقت تک رکی رہتی ہیں تو ایندھن کی کھپت کم ہوتی ہے اور کاربن کے اخراج میں بھی کمی آتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بڑے شہروں میں اے آئی پر مبنی ٹریفک نظام وسیع پیمانے پر نافذ ہو جائیں تو لاکھوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کیا جا سکتا ہے۔
مستقبل کے اسمارٹ شہروں میں ٹریفک سگنلز صرف گاڑیوں کو کنٹرول نہیں کریں گے بلکہ خودکار گاڑیوں، پبلک ٹرانسپورٹ، ایمرجنسی سروسز اور شہری انفراسٹرکچر کے ساتھ بھی مربوط ہوں گے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے سڑکیں زیادہ محفوظ، سفر زیادہ تیز اور شہروں کا ماحول زیادہ بہتر بنایا جا سکے گا۔
بیجنگ کا تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹریفک کے دیرینہ مسائل کا حل صرف نئی سڑکیں بنانے میں نہیں بلکہ ذہین ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی پوشیدہ ہے۔ مصنوعی ذہانت آج صرف کمپیوٹر اسکرینوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سڑکوں، چوراہوں اور شہروں کے انتظام میں بھی ایک خاموش مگر مؤثر انقلاب برپا کر رہی ہے۔