زندگی بعض اوقات ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوتی ہے جہاں خوشیوں کے خواب اچانک غم کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، اور انسان کے بنائے ہوئے منصوبے تقدیر کے ایک معمولی سے اشارے کے سامنے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ کراچی سے کوئٹہ کی طرف روانہ ہونے والا ایک خوشگوار خاندانی سفر بھی اسی تلخ حقیقت کی ایک دردناک مثال بن کر رہ گیا، جہاں مسکراہٹوں کی جگہ آہیں، امیدوں کی جگہ ماتم، اور خوابوں کی جگہ ایک ناقابلِ بیان سناٹا چھا گیا۔
علی مرتضیٰ جمیل اپنی اہلیہ اور دو کمسن بیٹیوں کے ہمراہ چند خوشگوار دن گزارنے اور اپنے قریبی دوست احسن خان سے ملاقات کے لیے کوئٹہ روانہ ہوئے تھے۔ یہ سفر ان کے لیے صرف ایک سفر نہیں تھا بلکہ خوشیوں، یادوں اور نئے تجربات کی ایک حسین امید تھا۔ ان کے ذہن میں بلوچستان کی خوبصورت وادیاں، پہاڑوں کے دلکش مناظر اور پرسکون فضا کا تصور تھا۔ بچوں کی معصوم خواہشیں اور اہلیہ کی خاموش مسکراہٹیں اس سفر کو مزید خوشگوار بنا رہی تھیں۔
بلوچستان کی سرزمین ہمیشہ سے اپنی قدرتی خوبصورتی، وسیع و عریض میدانوں اور پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔ یہی خوبصورتی اس خاندان کے دل میں بھی ایک یادگار سفر کی امید جگا رہی تھی۔ مگر انہیں کیا خبر تھی کہ یہ سفر خوشیوں کی نہیں بلکہ ایک ایسی ناقابلِ تلافی جدائی کی داستان میں بدل جائے گا جس کا درد وقت بھی کم نہیں کر سکے گا۔
جمعے اور سنیچر کی درمیانی رات ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں وہ المناک لمحہ پیش آیا جس نے ایک گھر کے چراغ ہمیشہ کے لیے بجھا دیے۔ مبینہ طور پر راستہ بھٹک جانے کے باعث ان کا سامنا نامعلوم مسلح افراد سے ہوا۔ اچانک فائرنگ شروع ہوئی، گولیاں چلیں، چیخیں بلند ہوئیں، اور چند لمحوں میں خوشیوں سے بھرا ایک قافلہ بکھر گیا۔ اس اندوہناک واقعے میں علی مرتضیٰ جمیل موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ان کی اہلیہ زخمی ہو گئیں۔
دو کمسن بیٹیاں اس ہولناک منظر میں محفوظ رہیں، مگر ان کی آنکھوں نے جو کچھ دیکھا، وہ شاید زندگی بھر ان کے ذہنوں سے محو نہ ہو سکے۔ وہ سفر جو قہقہوں سے شروع ہوا تھا، چند لمحوں میں ایک ایسی خاموش چیخ میں بدل گیا جس کی بازگشت ہر دل کو جھنجھوڑ رہی ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک فرد کی موت نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کے خوابوں کے بکھرنے کی داستان ہے۔ وہ گھر جہاں سفر کی تیاریوں کے دوران خوشی کی گہما گہمی تھی، اب وہاں سناٹے، آنسو اور خاموشی کا راج ہے۔ وہ راستہ جو تفریح اور خوشی کی علامت سمجھا جا رہا تھا، اب خوف اور بے یقینی کی تصویر بن چکا ہے۔
مرحوم کے قریبی دوست احسن خان اس سانحے پر شدید رنجیدہ ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے سفر سے قبل مرحوم کو خاص طور پر رات کے وقت سفر سے منع کیا تھا، مگر حالات اور وقت کی مجبوری نے اس احتیاط کو نظر انداز کر دیا۔ ان کا یہ کہنا کہ اگر انہیں معلوم ہوتا تو وہ کبھی اس سفر کی اجازت نہ دیتے، دراصل اس اجتماعی بے بسی کی عکاسی کرتا ہے جو ایسے واقعات کے بعد ہر حساس دل میں پیدا ہوتی ہے۔
دوسری جانب مرحوم کے والد کا دردناک بیان اس سانحے کی شدت کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ ایک باپ کی آنکھوں سے نکلنے والے الفاظ کہ اگر وہاں جان و مال محفوظ نہیں تو لوگوں کو وہاں جانے سے روک دیا جائے، صرف ایک ذاتی دکھ نہیں بلکہ پورے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہیں۔ یہ سوال آج ہر باشعور شہری کے ذہن میں گونج رہا ہے کہ کیا ہم نے واقعی اپنے لوگوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا ہے؟
بلوچستان ایک ایسا خطہ ہے جو قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ اس کی وادیاں، پہاڑ، صحرا اور وسیع میدان دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے امن و امان کے مسائل نے اس خطے کی خوبصورتی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اگر سیاح خوف کے سائے میں سفر کریں، اگر راستے غیر محفوظ ہوں، اور اگر شہریوں کو اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو تو پھر ترقی اور سیاحت کے تمام دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔
یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں بلکہ ایک قومی المیہ ہے۔ جب کسی ملک کے شہری غیر محفوظ ہوں تو وہاں ترقی کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔ ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں ہر شخص کو یہ یقین ہو کہ وہ گھر سے نکلے گا تو محفوظ واپس لوٹے گا۔ جب یہ یقین ٹوٹ جائے تو معاشرتی ڈھانچہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔
اسلام ہمیں انسانی جان کی حرمت کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے کہ "جس نے ایک جان کو قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا”۔ یہ تعلیم ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ انسانی جان کی قیمت کسی بھی مادی فائدے سے کہیں زیادہ ہے۔ مگر افسوس کہ جب یہ تعلیمات عملی زندگی سے دور ہو جائیں تو معاشرہ بے حسی اور تشدد کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے واقعات کے بعد متاثرہ خاندان صرف ایک فرد کو نہیں کھوتا بلکہ پوری زندگی بدل جاتی ہے۔ ایک ماں زخمی حالت میں اپنے شوہر کی میت دیکھتی ہے، دو بیٹیاں اپنے باپ کے سائے سے محروم ہو جاتی ہیں، اور ایک گھر ہمیشہ کے لیے اجڑ جاتا ہے۔ یہ وہ زخم ہیں جو وقت کے ساتھ بھی مکمل طور پر مندمل نہیں ہوتے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی ادارے شہریوں کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ شاہراہوں پر سیکیورٹی کو مضبوط کیا جائے، حساس علاقوں میں نگرانی بڑھائی جائے، اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے شہریوں کا اعتماد بحال ہو۔ لیکن صرف ریاستی اقدامات کافی نہیں، ایک ذمہ دار معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں ہر فرد انسانی جان کی حرمت کو اپنی ذمہ داری سمجھے۔
میڈیا، تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر نئی نسل کو امن، برداشت، قانون کی پاسداری اور انسانی احترام کی تعلیم دی جائے تو ایسے واقعات میں کمی ممکن ہے۔ معاشرے کی اصل طاقت اس کے قوانین نہیں بلکہ اس کے اخلاق ہوتے ہیں۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ زندگی کتنی نازک اور غیر یقینی ہے۔ انسان اپنے سفر کا آغاز تو کر سکتا ہے، مگر اس کی تکمیل اس کے اختیار میں نہیں ہوتی۔ اسی لیے ہر لمحے کو احتیاط، احساس اور ذمہ داری کے ساتھ گزارنا ضروری ہے، لیکن اجتماعی تحفظ کے بغیر انفرادی کوششیں اکثر ناکافی ثابت ہوتی ہیں۔
آخر میں یہ سانحہ ایک سوال چھوڑ جاتا ہے کہ کیا ہم واقعی ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو سکے ہیں جہاں انسان بلا خوف و خطر سفر کر سکے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں اپنی ترجیحات، اپنے نظام اور اپنے رویوں پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور زخمی اہلیہ کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے۔ آمین۔
یہ سفر جو خوشیوں سے شروع ہوا تھا، ایک ایسی خاموش داستان میں بدل گیا جس کا درد وقت کے ساتھ بھی کم نہیں ہو سکتا۔