پاکستان کی سرزمین پر شہداء کا احترام کبھی کسی سیاسی جماعت، ادارے یا حکومت کی جاگیر نہیں رہا۔ یہ پوری قوم کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ اس ملک کے ہزاروں سپاہیوں، پولیس اہلکاروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں اور عام شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کیں تاکہ آنے والی نسلیں امن کا سانس لے سکیں۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی قومی سطح کا مذہبی رہنما ایسا بیان دے جس سے یہ تاثر پیدا ہو کہ تنخواہ لینے والا فوجی اگر دورانِ ڈیوٹی جان دے تو اس کی قربانی کو غیر معمولی حیثیت نہیں دی جانی چاہیے، تو اس پر عوامی ردِعمل آنا ایک فطری امر ہے۔ الفاظ صرف ادا نہیں کیے جاتے، ان کے اثرات بھی معاشروں میں دیر تک گونجتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن ملک کے ایک سینئر سیاست دان اور مذہبی رہنما ہیں۔ ان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ لاکھوں لوگ سنتے ہیں، اس لیے ان پر یہ ذمہ داری بھی دوسروں سے کہیں زیادہ عائد ہوتی ہے کہ وہ حساس قومی معاملات پر غیر معمولی احتیاط کا مظاہرہ کریں۔ اگر کسی بیان سے شہداء کے اہلِ خانہ کو یہ احساس ہو کہ ان کے پیاروں کی قربانی کو ایک ملازمت یا تنخواہ کے ترازو میں تولنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو یقیناً یہ ایک قابلِ افسوس صورتحال ہے۔
تاریخِ اسلام پر نظر ڈالی جائے تو یہ مؤقف مزید کمزور دکھائی دیتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کے دور میں مسلمانوں نے اپنی جانیں اللہ کی راہ میں قربان کیں۔ بعد ازاں حضرت عمرؓ نے اسلامی ریاست کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے لیے بیت المال سے فوجیوں اور دیگر خدمات انجام دینے والوں کے لیے وظائف اور باقاعدہ مالی نظام قائم کیا۔ اس کے باوجود کسی صحابی، کسی تابعی یا کسی معتبر فقیہ نے یہ اصول بیان نہیں کیا کہ مالی معاوضہ لینے والا اگر میدانِ جنگ میں جان دے تو اس کی شہادت کا درجہ مشکوک ہو جاتا ہے۔ اسلام میں معیار تنخواہ نہیں بلکہ نیت، اخلاص اور حق پر قائم رہنا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار صرف ایک ملازمت نہیں کرتے بلکہ وہ ایسی ذمہ داری نبھاتے ہیں جس میں ہر لمحہ موت ان کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ سرحدوں پر کھڑا سپاہی ہو، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والا افسر ہو یا کسی چیک پوسٹ پر تعینات جوان، وہ گھر سے نکلتے وقت اس یقین کے ساتھ نہیں نکلتا کہ شام کو ضرور واپس آئے گا۔ اس کی تنخواہ اس کے خاندان کے اخراجات پورے کر سکتی ہے، مگر اس کی جان کی قیمت ہرگز نہیں بن سکتی۔
اگر صرف تنخواہ لینا ہی کسی قربانی کی عظمت کو کم کر دیتا ہے تو پھر یہی منطق ہر سرکاری شعبے پر لاگو ہونی چاہیے۔ کیا جج تنخواہ لیتا ہے؟ کیا ڈاکٹر تنخواہ لیتا ہے؟ کیا استاد تنخواہ لیتا ہے؟ کیا پولیس افسر تنخواہ لیتا ہے؟ اگر ان میں سے کوئی اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے جان دے تو کیا اس کی قربانی کو بھی محض ملازمت کا حصہ قرار دے دیا جائے؟ یقیناً ایسا استدلال نہ عقلی طور پر درست ہے اور نہ ہی اخلاقی طور پر قابلِ قبول۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری سیاست میں اکثر ایسے بیانات سامنے آ جاتے ہیں جو وقتی سرخیاں تو بنا لیتے ہیں مگر قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ مذہبی قیادت سے قوم کی توقع یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے دل جوڑے، زخموں پر مرہم رکھے اور ایسے مواقع پر امت اور قوم کو متحد کرے، نہ کہ ایسے جملے ادا کرے جن کی وضاحتیں بعد میں دینی پڑیں۔
اگر مولانا فضل الرحمٰن کا مقصد وہ نہیں تھا جو عوام نے سمجھا، تو انہیں بلا تاخیر نہایت واضح اور دوٹوک انداز میں اپنی بات کی وضاحت کرنی چاہیے۔ ایک بڑے رہنما کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ ہر حال میں اپنے الفاظ کا دفاع کرے، بلکہ اس میں ہے کہ اگر اس کے بیان سے غلط فہمی پیدا ہوئی ہے تو وہ اسے دور کرے اور شہداء کے اہلِ خانہ کے جذبات کا احترام کرے۔
اس ملک میں اختلافات بہت ہیں، سیاست بھی ہوگی اور تنقید بھی۔ لیکن ایک لکیر ایسی ہے جس کے دونوں طرف پوری قوم کو ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، اور وہ لکیر پاکستان کے شہداء کا احترام ہے۔ جن لوگوں نے اپنی جانیں اس وطن کی سلامتی کے لیے قربان کیں، ان کے بارے میں گفتگو کرتے وقت ہمیں اپنے سیاسی اختلافات، ذاتی پسند و ناپسند اور وقتی مفادات سے بلند ہو کر سوچنا ہوگا۔ شہداء کی عظمت کو تنخواہ کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا، کیونکہ جان کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا، اور وطن پر قربان ہونے والوں کی قیمت کبھی تنخواہ نہیں ہوتی۔