یاسر پیرزادہ صاحب کے اعتراضات کا جائزہ

علمی و فکری دنیا میں یہ اصول ہمیشہ سے مسلم رہا ہے کہ ہر شعبے کے فیصلے اس کے ماہرین ہی کیا کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے محترم یاسر پیرزادہ صاحب نے اپنے حالیہ کالم میں اس مسلمہ اصول سے ہٹ کر خود ہی شرعی دائرہ اختیار سنبھالنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے نہ صرف مختلف فقہی مسائل پر حتمی آراء قائم کیں، بلکہ قرآنِ مجید کی آیات اور احادیثِ نبویہ سے بھی اپنے مخصوص نظریات کے حق میں استدلال پیش کیا۔ ان کے کالم کا مطالعہ کریں تو یوں لگتا ہے کہ موصوف ایک ہی وقت میں جدید دانشوری اور منصبِ افتاء دونوں کو یکجا کرنا چاہتے ہیں، جو فکری دنیا میں ‘آدھا تیتر، آدھا بٹیر’ کے مصداق ہے۔ شریعت کے نازک مسائل کو اپنی ذاتی پسند و ناپسند کے سانچے میں ڈھالنے کی یہ کوشش علمی طور پر سراسر محلِ نظر ہے۔

پہلا اعتراض: ضبطِ ولادت (بچوں کی تعداد پر پابندی) اور رزق کا مسئلہ
بہرحال، ان کا پہلا فتویٰ، جس میں انہوں نے یہ کہا کہ دو سے زیادہ بچے پیدا کرنا قومی جرم اور شرعی طور پر ناپسندیدہ ہے، سراسر محلِ نظر ہے۔ وہ مفتیانِ کرام پر بھی گویا یہ دباؤ ڈال رہے ہیں کہ اس نوعیت کے فتوے دیے جائیں، حالانکہ قرآنِ مجید کی سورہ ہود کی آیت نمبر 6 میں واضح طور پر ارشاد ہے: "وَمَا مِن دَابَّةٍ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا”
ترجمہ: "اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔”

یاسر پیرزادہ صاحب ہم سے یہ مطالبہ تو کر رہے ہیں کہ شریعت کی روشنی میں دو بچوں سے زیادہ پیدا کرنے کو قومی جرم قرار دیا جائے، لیکن وہ قرآن کے اس واضح حکم کو نظر انداز کر دیتے ہیں، نیز نبی اکرم ﷺ کی احادیث کو بھی فراموش کر دیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی رائے کو شرعی حکم کا درجہ دے دیا جائے، حالانکہ نہ کسی فرد کی مرضی چلے گی اور نہ کسی گروہ کی؛ چلے گی تو صرف شریعت کی۔

قرآنِ مجید نے معاشی تنگی کے خوف سے اولاد کو قتل کرنے یا نسل کشی کے رویے کو جاہلیت کا فعل قرار دیا ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ﴾ (الاسراء: 31)۔ وسائل کی کمی کے خوف سے بچوں کی پیدائش کو "قومی جرم” کہنا اس قرآنی تصورِ رزق کی بنیاد ہی کو منہدم کر دیتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا واضح ارشاد ہے: "تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ” (سنن ابوداؤد: 2050) یعنی "ایسی عورتوں سے شادی کرو جو محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی ہوں، کیونکہ میں (قیامت کے دن) تمہاری کثرت کے ذریعے دوسری امتوں پر فخر کروں گا”۔ ایسے میں کثرتِ اولاد کو شرعی طور پر "ناپسندیدہ” کہنا صریحاً فرمانِ نبوی کے خلاف ہے۔

شریعت میں انفرادی سطح پر صحتِ عامہ یا ماں کی کمزوری کی بنیاد پر عزل (عارضی وقفے) کی گنجائش موجود ہے، لیکن اسے ایک عمومی قانون یا "قومی جرم” بنا کر پوری ریاست پر جبراً نافذ کرنا اسلامی قانون کے مقاصد (مقاصدِ شریعہ) کے منافی ہے، جس کا ایک اہم ستون "حفظِ نسل” (نسلِ انسانی کی بقا) ہے۔

مدارس میں بدفعلی کے واقعات اور دوہرا معیار
پھر موصوف یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مدارس میں بچوں کے ساتھ بدفعلی کے واقعات ہوتے ہیں، لیکن اس بارے میں علماء اور مفتیانِ کرام کا کوئی فتویٰ موجود نہیں۔

یہ بات درست نہیں۔ علماء کی کتابیں اس مسئلے کے احکام سے بھری پڑی ہیں، احادیثِ نبویہ میں اس نوعیت کے جرائم کے بارے میں واضح رہنمائی موجود ہے اور صحابۂ کرام کے فیصلے بھی ہمارے سامنے ہیں۔ پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اس بارے میں مفتیوں کا کوئی فتویٰ موجود نہیں؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس غلط فہمی کو دور کیا جائے اور موضوع کا علمی مطالعہ کیا جائے۔ علماء نے نہ کبھی ایسے مجرموں کو پناہ دی ہے اور نہ ہی ایسے جرائم کو جائز قرار دیا ہے۔ شریعت نے ان جرائم کے احکام واضح کر دیے ہیں، جبکہ سزا نافذ کرنا ریاست، حکومت اور عدالتوں کی ذمہ داری ہے، نہ کہ علماء یا مفتیانِ کرام کی۔ اس لیے ایسے جرائم کا ذمہ دار علماء کو قرار دینا انصاف پر مبنی طرزِ فکر نہیں۔

پھر یہاں یہ حقیقت بھی مدنظر رہے کہ اگر یاسر پیرزادہ صاحب کو واقعی بچوں کی معصومیت کا درد ہے اور وہ غیر جانبداری کی بنیاد پر اس مسئلے کی حساسیت کا احساس رکھتے ہیں، تو انہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس طرح کے ناپسندیدہ واقعات تو مدارس سے کہیں زیادہ دیگر عصری تعلیمی اداروں، جیسے کہ کالجز، یونیورسٹیز، اور سرکاری و نجی ہسپتالوں میں آئے روز رپورٹ ہوتے ہیں۔ ہماری ماؤں، بہنوں اور بچیوں کے ساتھ ان عصری اداروں میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر موصوف خاموش کیوں ہیں؟ وہ ان اداروں کے خلاف کب آواز اٹھائیں گے؟ ان کے سدِباب کے لیے عملی اقدامات کب کرائیں گے؟ صرف مدارس کو نشانہ بنانا اور دیگر تمام قومی و سماجی اداروں میں ہونے والی بدفعلیوں سے آنکھیں بند کر لینا صریحاً دوہرے معیار اور فکری بددیانتی کی دلیل ہے۔

اسلام میں بدفعلی اور جنسی زیادتی کے جرائم دنیا کے سنگین ترین جرائم میں شمار ہوتے ہیں۔ قرآنِ مجید نے قومِ لوط کے فعل کو بدترین خباثت قرار دیا اور احادیثِ نبویہ میں ایسے مجرموں کے لیے انتہائی سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں، جن سے تمام معتبر کتبِ فقہ مزین ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: "لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا” (جامع ترمذی: 1919) یعنی "وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے”۔ فقہائے کرام نے تعلیم و تربیت کے بہانے بھی بچوں پر کسی قسم کے جسمانی یا نفسیاتی تشدد کو یکسر ممنوع اور حرام قرار دیا ہے۔

اسلامی قانونِ سزا (تعزیرات و حدود) کے نفاذ کا اختیار صرف اور صرف ریاست، عدالت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ہے۔ مفتی کا منصب قانون کی شرعی وضاحت کرنا ہے، جبکہ مجرم کو گرفتار کرنا اور سزا دینا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے۔ اس لیے انتظامی ناکامی کا ملبہ علماء پر ڈالنا سراسر ناانصافی ہے۔

تیسرا اعتراض: قصاص اور دیت کے قانون پر تنقید
چوتھا اعتراض موصوف نے قصاص اور دیت کے قانون پر کیا ہے۔ ایک طرف وہ قصاص کا مطالبہ کرتے ہیں اور دوسری طرف قصاص اور دیت کے قانون ہی پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قصاص کا حکم بھی قرآنِ مجید کا ہے اور دیت کا حکم بھی قرآنِ مجید ہی نے دیا ہے۔ اگر کسی قانون کا غلط استعمال ہو جائے تو اس سے قانون باطل نہیں ہو جاتا، بلکہ اس کے غلط نفاذ کی اصلاح کی جاتی ہے۔ پھر کس بنیاد پر یہ مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ قرآن کے واضح احکام کے برخلاف فتوے دیے جائیں؟ شریعت کے احکام خواہشات کے تابع نہیں ہوتے۔
قصاص اور دیت دونوں قرآن کے قطعی احکام سے ثابت ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى﴾ (البقرہ: 178) اور دیت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ﴾ (النساء: 92)۔ ان قوانین پر اعتراض درحقیقت براہِ راست نصوصِ قرآنیہ پر اعتراض ہے۔

اصولِ قانون (Jurisprudence): دنیا کا کوئی بھی قانونی نظام اپنے غلط استعمال (Abuse of Law) کی وجہ سے ختم نہیں کیا جاتا۔ مثال کے طور پر، اگر تعزیراتِ پاکستان (PPC) کے تحت جھوٹے مقدمات درج ہوتے ہیں، تو کوئی عاقل یہ نہیں کہتا کہ تعزیراتِ پاکستان ہی کو ختم کر دیا جائے، بلکہ تفتیش اور نفاذ کے نظام کو بہتر کیا جاتا ہے۔
دیت کا قانون مقتول کے پسماندگان کی معاشی کفالت اور معاشرے میں خونی دشمنیوں کے خاتمے کا ایک الٰہی اور صلح جویانہ حل ہے، جسے جدید مغربی قوانین اب "Restorative Justice” (اصلاحی انصاف) کے نام سے اپنا رہے ہیں۔
چوتھا اعتراض: خواتین کی وراثت اور سماجی بائیکاٹ کا مطالبہ
اسی طرح وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے عورتوں کو وراثت میں ان کا حق نہیں دیا، ان کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے اور علماء اس بارے میں فتوے دیں۔

عرض یہ ہے کہ عورتوں کے وراثتی حقوق قرآنِ مجید نے واضح کر دیے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے ان کی عملی تعلیم دی ہے اور چودہ سو برس سے علماء کرام مسلسل اس حکم کو بیان کرتے آ رہے ہیں۔ اگر کہیں ان احکام پر عمل نہیں ہو رہا تو یہ شریعت کی تعلیمات کا قصور نہیں، بلکہ عمل کرنے والوں کی کوتاہی ہے۔

اگر سماجی اصلاح کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اس کے لیے ہر صاحبِ حیثیت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ علماء کی ایک بڑی تعداد اپنی بیٹیوں، بہنوں اور دیگر وارث خواتین کو شرعی حق دیتی ہے اور لوگوں کو بھی اسی کی تلقین کرتی ہے۔ قانون نافذ کرنا اور حقوق دلانا ریاست اور عدالتی نظام کی ذمہ داری ہے، جبکہ علماء کی ذمہ داری قرآن و سنت کے احکام بیان کرنا ہے، اور وہ یہ ذمہ داری صدیوں سے ادا کرتے آ رہے ہیں۔

اسلام میں وراثت کے احکام اتنے اہم ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں انسانوں کی آراء پر نہیں چھوڑا، بلکہ خود تفصیل سے قرآن میں بیان فرمایا (سورۃ النساء: آیت 11، 12 اور 176) اور انہیں "فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ” (اللہ کی طرف سے فرض کردہ) قرار دیا۔ ان احکام کی خلاف ورزی کرنے والے کے لیے سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔

مفتی کا فتویٰ ایک "اخلاقی اور شرعی رہنمائی” ہوتا ہے، کوئی "اجرائی ڈگری” نہیں۔ کسی ظالم سے جبراً حق دلوا کر مظلومہ کے نام جائیداد منتقل کرنا عدالتِ وقت اور پولیس کا کام ہے۔ اگر عدالتی نظام کمزور ہے، تو اس کا ملبہ علماء پر ڈالنا سنگین فکری مغالطہ ہے۔

شریعت میں سماجی بائیکاٹ (ہجر) ایک انتہائی قدم ہے جو معاشرتی فتنہ روکنے کے لیے مخصوص حالات میں اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کا عمومی نفاذ اور اس کی حدود طے کرنا بھی نظمِ اجتماعی (ریاست) یا معتبر فقہی جرائد کا کام ہے، نہ کہ ہر فرد اپنی مرضی سے سڑک پر کھڑے ہو کر فیصلے صادر کرنا شروع کر دے۔

یاسر پیرزادہ صاحب! آپ کا بس تو صرف علماءِ کرام پر چل گیا، اور آپ نے تمام تر ملامت کا رخ مفتیانِ عظام کی طرف موڑ دیا۔ لیکن آپ یہ بنیادی حقیقت کیسے فراموش کر گئے کہ عملی اقدامات کرنا، قوانین کا نفاذ اور مجرموں کو کٹہرے میں لانا حکومت اور عدالتوں کا کام ہے، جو کہ ان کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ جب اس ملک میں قوانین بھی موجود ہیں اور ان جرائم کے خلاف شرعی فتاویٰ جات بھی پہلے سے دستاویزی شکل میں موجود ہیں، تو پھر عملدرآمد کی ناکامی کا سارا ملبہ محراب و منبر پر ڈالنے کا کیا جواز ہے؟ اصل کمزوری انتظامی اور عدالتی نظام کی ہے، لیکن آپ نے کمالِ ہوشیاری سے ریاستی اداروں کی اس ناکامی کا ذمہ دار بھی علماء کو ٹھہرا دیا، جو کہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔

مجموعی طور پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یاسر پیرزادہ صاحب کا مقصد کوئی سنجیدہ علمی تحقیق نہیں، بلکہ پسِ پردہ علماءِ کرام کے خلاف اپنے مخصوص فکری تعصب اور دیرینہ تحفظات کا اظہار ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ‘فتویٰ اور افتاء’ کے نازک موضوع کو محض ایک فکری ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے، تاکہ قرآن و سنت کی من پسند تاویلات کے ذریعے اپنے فکری اضطراب کو ایک علمی و تحقیقی بحث کا لبادہ اوڑھا سکیں۔
دین، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا نام ہے۔ فتوے کسی فرد کی پسند، ناپسند، خواہش یا دباؤ کے تحت نہیں دیے جاتے، بلکہ صرف قرآن و سنت، اجماع اور معتبر فقہی اصولوں کی روشنی میں صادر کیے جاتے ہیں۔ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن شرعی احکام پر گفتگو کرتے وقت مسلمہ اصولوں اور متعلقہ دائرہ کار کو ملحوظِ خاطر رکھنا ناگزیر ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے