یار، لوگوں کا اس بات پر بڑا زبردست بلکہ دھواں دار اتفاق ہے کہ "مولانا صاحب کو معافی مانگ لینی چاہیے۔”
تو
"مولانا صاحب، پلیز معافی مانگ لیں… کچھ نہیں ہوگا!”
ویسے ہمارے سماج میں معافی ایک عجیب و غریب چیز ہے۔ غلطی ثابت ہو یا نہ ہو، دلیل مضبوط ہو یا کمزور، آخرکار مشورہ یہی ملتا ہے۔
"بھائی! معافی مانگ لو، جان چھڑاؤ۔”
میرا ذاتی تجربہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ میں نے تو کئی دفعہ چھوٹے چھوٹے جملوں اور الفاظ پر بھی معافی مانگا ہے۔ اب ہر بچونگڑے سے الجھ تو نہیں سکتا نا!
ایک کالم پر تو باقاعدہ تحریری معافی مانگی وہ بھی ادبی انداز میں ، لیکن "ان” کا دل پھر بھی نہیں بھرا، بلکہ مزید نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم اللہ کے کرم سے سب اچھا رہا ۔ آخر اللہ بھی تو ہے نا جی!
تب سے مجھے اچھی طرح معلوم ہوگیا کہ بعض لوگوں کے نزدیک معافی کا مطلب معاملہ ختم ہونا نہیں، بلکہ معاملے کا "سیکنڈ سیزن” شروع ہونا ہوتا ہے! تاکہ وہ اپنی انا اور دل کا بغض نکال سکیں۔ ویسے یہ کہانی پھر سہی!
مولانا صاحب! ہم آپ کی طرح جگر والے تو نہیں، فوراً معافی مانگ کر گزارہ کر لیتے ہیں۔ اور آپ اگر معذرت کے دو بول بول دیں تو کیا خوب رہے گا۔
ویسے ایک تجویز ہے، پاکستان میں ایک مستقل ادارہ قائم ہونا چاہیے، "قومی ادار معافیات”۔ یہاں مختلف قسم کی معافیاں دستیاب ہوں۔
ہلکی پھلکی معافی
مشروط معافی
غیر مشروط معافی
اگر کسی کو پھر بھی اطمینان قلبی نہ ہو تو
"دوبارہ معافی”
اور ضدی اور انا پرست لوگوں کے لیے
"سالانہ تجدید معافی”!
البتہ ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے ہاں معافی مانگنے سے زیادہ لطف یار لوگوں کو معافی منگوانے میں کیوں آتا ہے؟ آخر کیا ملتا ہوگا معافیاں منگوا کر! انا کو تسکین، یا کچھ اور………..
بعض حضرات تو ایسے اطمینان سے کہتے ہیں۔
"بس ایک معافی مانگ لیں…”
جیسے معافی نہیں، گلی کی دکان سے آدھا کلو چینی منگوا رہے ہوں۔
بہرحال، مولانا صاحب!
اگر دو لفظ "مجھے افسوس ہے” کہنے سے دل جڑتے ہیں، تعلقات بچتے ہیں، حالات بہتری کی طرف جاتے ہیں، اور فتنہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور صاحبان جبہ و دستار بھی راضی ہوتے ہیں تو یہ سودا مہنگا نہیں۔
لیکن ایک عاجزانہ گزارش معاف کرنے والوں سے بھی ہے، جب کوئی معافی مانگ لے تو اس کی تصدیق شدہبرسید بھی جاری کر دیا کریں، اور "قومی اداره معافیات ” میں اسکا ریکارڈ بھی رکھا جائے، تاکہ اگلے دن پھر یہ مطالبہ نہ اٹھے کہ
"ایک اور معافی باقی ہے!”
معافیاں اتنا طول نہ پکڑیں کہ کہیں ہم ترقی کرتے کرتے
"معافستان”
نہ بن جائیں۔!