قاری عبدالکریم بخاری صاحب کی خدمت میں

اطلاع ہے کہ جمعیت علماء اسلام گلگت بلتستان کے امیر، محترم قاری عبدالکریم بخاری صاحب نے صوبائی سطح پر کارکنوں اور ذمہ داران کے اجلاسوں کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لاریب! یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ اس موقع پر ادب و احترام کے ساتھ ایک گزارش پیش کرنا چاہتا ہوں۔

راقم کے نزدیک گلگت بلتستان میں جمعیت علماء اسلام کی سب سے بڑی ضرورت تنظیمی وسعت سے پہلے نظریاتی اور فکری مضبوطی ہے۔ یہ میری سوچی سمجھی رائے ہیں جو نے پندرہ سال کے مشاہدے اور تجربات سے قائم کی ہے، حقیقت یہ ہے کہ جے یو آئی کے اکثر کارکن، حتیٰ کہ بعض بااثر عہدے دار اور انتخابی امیدوار بھی، جمعیت علماء اسلام کی تاریخ، نظریاتی اساس، آئینی جدوجہد، پارلیمانی کردار اور فکری روایت سے پوری طرح واقف نہیں بلکہ سچ کہا جائے تو نابلد ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ماضی میں جماعت کے بعض اہم رہنما، ارکان اسمبلی اور دیگر اہم ذمہ دار مختلف ادوار میں جماعت سے الگ ہوتے رہے اور جماعت کے کاز کو شدید نقصان بھی پہنچایا جو سب کو معلوم ہے۔

یہ کوئی راکٹ سائنس نہ کہ کسی بھی نظریاتی جماعت کی اصل طاقت اس کے کارکن ہوتے ہیں، اور کارکن اسی وقت مضبوط ہوتے ہیں جب ان کی فکری، نظریاتی اور تنظیمی تربیت باقاعدہ انداز میں کی جائے۔ اس لیے میری رائے میں محض روایتی اجلاسوں اور خطابات و تقاریر کے بجائے "ورکرز وژن ورکشاپ” کے عنوان سے کم از کم ایک ہفتے پر مشتمل جامع تربیتی پروگرام منعقد کیا جائے، جس میں گلگت بلتستان کے تمام اضلاع سے کارکنوں، یونٹ، تحصیل، ضلع اور صوبائی سطح کے ذمہ داران کو مرحلہ وار تربیت دی جائے۔

میرے ذہن میں درجنوں عنوانات و موضوعات ہیں جن کو ورکشاپ کا حصہ بنایا جاسکتا ہے تاہم کچھ عنوانات اور موضوعات آسانی اور تفہیم کے لیے عرض کر دیتا ہوں تاکہ قاری صاحب اور ان کی ٹیم ان پر سنجیدگی سے غور کریں اور کوئی عملی اقدام بھی کریں، ملاحظہ کیجیے۔

1۔ جمعیت علماء اسلام: تاریخ، نظریہ اور فکری شناخت

١… اکابرِ دیوبند سے آج تک جمعیت کا فکری سفر

٢… جماعت کا منشور، دستور اور نظریاتی تشخص

2۔ اسلام، دستورِ پاکستان اور پارلیمانی سیاست

١…دین، ریاست اور جمہوریت

٢…آئینِ پاکستان، اسلامی دفعات اور قانون سازی

٣…پارلیمانی سیاست میں جمعیت کا کردار

3۔ مولانا فضل الرحمن کی سیاسی فکر اور قومی وژن

١…اصول اور مصلحت کا توازن

٢…مذاکرات، مفاہمت اور قومی سیاست

٣…پارلیمنٹ سے عوام تک جدوجہد کا سفر

4۔ تنظیم، قیادت اور کارکن سازی

١…کارکن سے قائد تک کا سفر

٢…نظم، مشاورت اور تنظیمی اخلاق

٣…کردار سازی، برداشت اور اختلاف کا مہذب اسلوب

5۔ جدید سیاسی مہارتیں

١…انتخابی حکمتِ عملی

٢…مؤثر خطابت، عوامی رابطہ اور میڈیا

٣…سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال

6۔ قومی خدمت اور مستقبل کا وژن

١…نوجوان، تعلیم اور سماجی شعور

٢…خدمتِ خلق، گڈ گورننس اور قومی یکجہتی

٣…نظریاتی کارکن سے مؤثر قومی رہنما تک

میری تجویز ہے کہ یہ پروگرام روایتی جلسوں اور رسمی تقاریر تک محدود نہ رہے، بلکہ ہر موضوع کے لیے متعلقہ شعبے کے مستند ماہرین کو مدعو کیا جائے۔ ہر لیکچر تحقیقی مقالے کی بنیاد پر ہو، اور اس کے ساتھ گروپ ڈسکشن، کیس اسٹڈی، سوال و جواب، عملی مشقیں اور ورکنگ سیشن بھی شامل کیے جائیں تاکہ تربیت محض معلوماتی نہ رہے بلکہ عملی مہارت میں بھی تبدیل ہو۔

الحمدللہ! قاری عبدالکریم بخاری صاحب نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ملک کے بڑے شہروں میں علمی و دینی مراکز اور شخصیات کیساتھ گزارا ہے، اپنے مدارس کا بہترین نیٹ ورک رکھتے ہیں اور شاندار وسائل بھی ہیں، اور ساتھ ہی ملک بھر میں وسیع روابط بھی رکھتے ہیں اور گلگت بلتستان میں ایک مضبوط نظریاتی تحریک کی خواہش بھی ان کے دل میں موجزن ہے۔ گرمیوں کے اس موسم میں ملک کے ممتاز علماء، دانشور اور پارلیمانی ماہرین کو گلگت بلتستان مدعو کرنا بھی نسبتاً آسان ہے۔ معمولی انتظامات پر وہ تشریف لائیں گے۔

میری نظر میں اگر یہ منصوبہ اخلاص، منصوبہ بندی اور تسلسل کے ساتھ شروع ہو جائے تو یہ صرف ایک تربیتی پروگرام نہیں ہوگا، بلکہ گلگت بلتستان میں جمعیت علماء اسلام کے فکری مستقبل کی بنیاد ثابت ہوسکتا ہے۔ قاری صاحب! کارکنوں کی نظریاتی تربیت پر سرمایہ کاری ہی وہ خدمت ہے جو آنے والی نسلوں تک اپنے اثرات چھوڑے گی۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جمیعت علماء اسلام گلگت بلتستان کے امیر جناب قاری عبدالکریم بخاری صاحب اور جمعیت علماء اسلام گلگت بلتستان کی مرکزی قیادت کو اس عظیم ذمہ داری کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

احباب کیا کہتے ہیں؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے