تاریخ کی کتابوں میں سینکڑوں ایسے حکمرانوں کے نام درج ہیں جنہوں نے سونے کے تاج پہنے،عالی شان محل بنوائے اور اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔ لیکن وقت کی دھول نے ان کے نام اور نشان تک مٹا دیے۔ اس کے برعکس، تاریخ کے افق پر ایک ایسا نام بھی چمک رہا ہے جس نے کبھی ریشم کے لباس نہیں پہنے، جس کے کرتے پر چودہ پیوند لگے تھے، جو چٹائی پر سوتا تھا، لیکن اس کی عدل و انصاف کی دھاک سے قیصر و کسریٰ کے محلات لرز اٹھتے تھے۔ وہ نام اسلام کے دوسرے خلیفہ، امیر المو¿منین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ہے، جن کا طرزِ حکمرانی چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی انسانیت کے لیے روشنی کا سب سے بڑا مینار ہے۔
حضرت عمر فاروقؓ کا دورِ حکومت ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اقتدار کوئی عیش و عشرت کا لائسنس نہیں، بلکہ ایک ایسی بھاری امانت ہے جس کا ایک ایک ذرہ قیامت کے دن عدالتِ الٰہی میں جوابدہی کا تقاضا کرے گا۔ آج کی دنیا مادی طور پر بہت ترقی کر چکی ہے۔ ہمارے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی ہے، شاندار عمارتیں ہیں اور حکومت چلانے کے لیے بڑے بڑے الیکٹرانک نظام موجود ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود دنیا بھر کے عام انسان ذہنی سکون، سچے انصاف اور حقیقی امن کے لیے ترس رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا یہ بھول چکی ہے کہ نظام سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں، بلکہ دلوں میں خدا کے خوف اور قانون کی بالادستی سے چلتے ہیں۔
فاروقی نظامِ حکومت کی سب سے پہلی اینٹ ”غیر جانبدارانہ انصاف“تھی۔ جہاں قانون کے ترازو میں کسی کا عہدہ، خاندان یا دولت نہیں دیکھی جاتی تھی۔ غسانی قبیلے کے مغرور بادشاہ جبلہ بن ایہم کا واقعہ رہتی دنیا تک کے لیے ایک ایسا سبق ہے جو معاشرے کو زندگی بخشتا ہے۔ طوافِ کعبہ کے دوران جب ایک غریب بدو کا پاو¿ں اس کی چادر پر آیا، تو بادشاہ نے اسے تھپڑ مار دیا۔ جب یہ مقدمہ خلیفہ کی عدالت میں آیا، تو انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فیصلہ دیا کہ یا تو بادشاہ اس غریب سے معافی مانگے یا پھر بدلے میں تھپڑ کھانے کے لیے تیار ہو جائے۔ بادشاہ نے حیرت سے کہا کہ ”میں حاکم ہوں اور یہ ایک عام دیہاتی!“، تو فاروقِ اعظمؓنے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو کائنات کے ہر آئین کی روح ہونا چاہیے: ”اسلام نے تم دونوں کو برابر کر دیا ہے“۔ یہ وہ انصاف تھا جس نے ایک غریب کے دل میں یہ یقین پیدا کیا کہ ریاست اس کی ڈھال ہے۔
حضرت عمر فاروقؓ صرف ایک عادل حاکم ہی نہیں تھے، بلکہ وہ ایک دور اندیش منتظم بھی تھے۔ انہوں نے بائیس لاکھ مربع میل سے زیادہ رقبے پر پھیلی سلطنت کو چلانے کے لیے جو محکمے بنائے، وہ آج کی جدید ریاستوں کے لیے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دنیا میں پہلی بار محکمہ پولیس کا قیام، جیلوں کا نظام، فوج کے لیے مستقل دفاتر، زمینوں کی پیمائش اور مال گزاری کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنے کا نظام انہوں نے ہی شروع کیا۔ انہوں نے ملک میں انسانوں کی گنتی (مردم شماری) کروائی تاکہ ریاست کو معلوم ہو کہ کس علاقے میں کتنے لوگ رہتے ہیں اور ان کی بنیادی ضرورتیں کیا ہیں۔ یہ سارے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ایک پائیدار نظام جذباتی نعروں پر نہیں، بلکہ ٹھوس منصوبہ بندی اور مضبوط اداروں پر قائم ہوتا ہے۔فلاحی ریاست کا جو تصور آج یورپ فخر سے پیش کرتا ہے، اس کی اصل بنیاد مدینہ کی گلیوں میں رکھی گئی تھی۔ حضرت عمر فاروقؓ نے ”بیت المال“ کو عوام کی امانت سمجھا اور تاریخ میں پہلی بار بچوں، بیواو¿ں، معذوروں اور بوڑھوں کے لیے ماہانہ وظیفے مقرر کیے۔ ان کا یہ عزم کہ ”اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا تو اس کا حساب عمر سے ہوگا“، دراصل اس احساسِ ذمہ داری کی معراج ہے جو کسی بھی حاکم کو راتوں کو سونے نہیں دیتا۔ وہ خود راتوں کو بھیس بدل کر گلیوں کا چکر لگاتے، مستحقین کا حال معلوم کرتے اور کئی بار انہوں نے خود اپنی پیٹھ پر آٹے کی بوریاں اٹھا کر غریبوں کے گھروں تک پہنچائیں۔ یہ وہ طرزِ عمل تھا جس نے حاکم اور عوام کے درمیان محبت کا ایسا رشتہ استوار کیا جس کی مثال تاریخِ انسانی دینے سے قاصر ہے۔
سادگی اور سخت احتساب طرزِ فاروقی کا وہ رخ ہے جو دلوں کو چھو لیتا ہے۔ جب آپ بیت المقدس کی چابیاں وصول کرنے کے لیے شام روانہ ہوئے، تو پوری دنیا نے وہ حیرت انگیز منظر دیکھا کہ غلام اونٹ پر سوار تھا اور وقت کا خلیفہ اونٹ کی نکیل پکڑے پیدل چل رہا تھا، کیونکہ باری کے اصول کے مطابق اس وقت خادم کی سواری کا وقت تھا۔ آپ نے اپنی ذات اور اپنے خاندان پر سرکاری خزانے کے استعمال پر سخت پابندیاں لگا رکھی تھیں اور اپنے گورنروں کے اثاثوں پر کڑی نظر رکھتے تھے۔ اس شفافیت نے معاشرے سے کرپشن اور اقربا پروری کا جڑ سے خاتمہ کر دیا تھا۔آج دنیا بھر کے معاشرے جن معاشی بحرانوں، اخلاقی گراوٹ اور بے چینی کا شکار ہیں، ان کا واحد حل اسی”عمر لائ“ اور فاروقی ماڈل کو اپنانے میں ہے۔ یہ ماڈل ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر نیت سچی ہو، دل میں خدا کا خوف ہو اور اقتدار کو امتیاز کے بجائے ایک امتحان سمجھا جائے، تو وسائل کی کمی کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ دنیا کو اگر دوبارہ امن کا گہوارہ بنانا ہے، تو ہمیں کتابوں سے نکل کر ان سنہرے اصولوں کو اپنے نظام کا حصہ بنانا ہوگا، کیونکہ تاریخ کا یہ ابدی سبق کل بھی سچ تھا اور آج بھی سچ ہے۔