اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کوئٹہ کی نصف آبادی کے قومی شناختی کارڈ بلاک کر دیے گئے ہیں۔
نادرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دعویٰ بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔ ادارے کے مطابق کسی بھی شہری کا قومی شناختی کارڈ اجتماعی یا بلاجواز بنیادوں پر بلاک نہیں کیا جاتا، بلکہ ہر معاملے کا انفرادی طور پر قانون اور متعلقہ ضابطوں کے مطابق جائزہ لیا جاتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی شہری کے ریکارڈ میں شہریت، شناخت یا خاندانی اندراج سے متعلق معتبر شواہد کی بنیاد پر تضاد سامنے آئے تو اس کیس کی مکمل جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔
نادرا کے مطابق ایسے تمام معاملات میں متعلقہ شہری کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور ضروری دستاویزات جمع کرانے کا مکمل موقع فراہم کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہی کسی فیصلے پر پہنچا جاتا ہے۔ نادرا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ شناختی کارڈز سے متعلق غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر یقین نہ کریں اور درست معلومات کے لیے صرف نادرا کے سرکاری ذرائع سے رجوع کریں۔