ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے سندھ کے سیکڑوں بچے متاثر

کراچی: سندھ میں گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران ایچ آئی وی/ایڈز کے چار بڑے آؤٹ بریکس سامنے آ چکے ہیں، تاہم انفیکشن کنٹرول، محفوظ سرنجوں کے استعمال، بلڈ اسکریننگ، نجی کلینکس کی نگرانی اور غیر محفوظ طبی طریقہ کار کے خاتمے کے لیے مؤثر اور دیرپا حکمتِ عملی اب تک تشکیل نہیں دی جا سکی۔

سنہ 2016 میں لاڑکانہ میں ڈائیلیسس کے مریضوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی کا بڑا واقعہ سامنے آیا، جس کے بعد سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی اور متعلقہ نظام پر سنگین سوالات اٹھے۔ بعض بلڈ بینکس کے خلاف کارروائی بھی کی گئی، تاہم مستقل اصلاحات نہ ہو سکیں۔

اس کے بعد 2019 میں رتوڈیرو میں بچوں میں ایچ آئی وی کا ہولناک آؤٹ بریک سامنے آیا، جہاں ایک ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہوئے، جن میں 80 فیصد سے زیادہ بچے تھے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) سمیت بین الاقوامی اداروں نے اس واقعے کو غیر معمولی قرار دیا، جبکہ تحقیقات میں غیر محفوظ انجیکشن اور استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کو بنیادی وجوہات قرار دیا گیا۔

مئی 2026 میں خیرپور کے گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں بھی دو درجن سے زائد ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے کیسز سامنے آئے، جس سے ایک بار پھر سندھ میں بچوں میں وائرس کے پھیلاؤ پر تشویش بڑھ گئی۔

دوسری جانب کراچی کے کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں نومبر 2025 سے بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز رپورٹ ہونا شروع ہوئے، جو اب تک سامنے آ رہے ہیں۔ متعلقہ حکام نے اس معاملے میں غفلت کا اعتراف کرتے ہوئے بعض افراد کے خلاف کارروائی کی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف انفرادی کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ نظامی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

صحتِ عامہ کے ماہرین کے مطابق ان تمام بڑے آؤٹ بریکس میں ایک مشترکہ عنصر غیر محفوظ طبی طریقہ کار، خصوصاً استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، انفیکشن کنٹرول میں خامیاں اور نگرانی کے کمزور نظام ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہر بڑے سانحے کے بعد مؤثر اصلاحات نافذ کی جاتیں تو بعد کے کئی واقعات سے بچا جا سکتا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار پیش آنے والے یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وقتی اقدامات تو کیے گئے، مگر بنیادی اصلاحات اور مؤثر نگرانی کا نظام قائم نہیں ہو سکا، جس کے باعث ایچ آئی وی کا پھیلاؤ ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

رواں سال اپریل میں میڈیکل مائیکرو بایولوجی اینڈ انفیکشنز ڈیزیزز سوسائٹی آف پاکستان نے کراچی میں ایک وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں 2010 کے بعد ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد 4.3 گنا بڑھ چکی ہے، جبکہ ایڈز سے ہونے والی سالانہ اموات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

وائٹ پیپر کے مطابق ملک میں صرف 21 فیصد متاثرہ افراد کی تشخیص ہو رہی ہے، جبکہ محض 16 فیصد مریض علاج تک پہنچ پا رہے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے