انسانی تاریخ میں بعض ایجادات نے زندگی کا انداز ہی بدل کر رکھ دیا۔ طباعت، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے بعد سوشل میڈیا ایک ایسی طاقت بن کر سامنے آیا ہے جس نے دنیا کو حقیقی معنوں میں ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج چند لمحوں میں ایک خبر، ایک تصویر، ایک ویڈیو یا ایک تحریر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہے۔
علم کا حصول آسان ہوا، فاصلے سمٹ گئے اور اظہارِ رائے کے بے شمار مواقع پیدا ہوئے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک اہم سوال بھی جنم لیتا ہے: کیا سوشل میڈیا واقعی ایک نعمت ہے یا یہ ہمارے لیے ایک آزمائش بن چکا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا نہ تو بذاتِ خود نعمت ہے اور نہ آزمائش، بلکہ اس کا استعمال ہی اسے نعمت یا آزمائش بناتا ہے۔ چاقو سے پھل بھی کاٹا جا سکتا ہے اور کسی کو نقصان بھی پہنچایا جا سکتا ہے۔یہی مثال سوشل میڈیا پر بھی صادق آتی ہے۔ اگر اسے خیر، علم، دعوت، اصلاح، خدمتِ خلق اور شعور بیدار کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ایک عظیم نعمت ہے، لیکن اگر اسے جھوٹ، نفرت، فحاشی، غیبت، بہتان، کردار کشی اور وقت کے ضیاع کا ذریعہ بنا لیا جائے تو یہی سہولت ایک بڑی آزمائش میں تبدیل ہو جاتی ہے۔قرآنِ کریم مسلمانوں کو ہر معاملے میں ذمہ داری، احتیاط اور تحقیق کا درس دیتا ہے۔ اللّٰه تعالٰی فرماتے ہیں:”اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم لاعلمی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دو، پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے۔”(سورۃ الحجرات: 6)
یہ آیتِ کریمہ آج کے ڈیجیٹل دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر لمحہ ہزاروں خبریں، تصاویر اور ویڈیوز گردش کرتی رہتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ تحقیق کیے بغیر ہر پیغام کو آگے بڑھا دیتے ہیں۔ جھوٹی خبریں، جعلی تصاویر اور من گھڑت ویڈیوز لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ جاتی ہیں، جس سے نہ صرف افراد بلکہ اداروں اور پورے معاشرے کو نقصان پہنچتا ہے۔ ایک ذمہ دار مسلمان کی شان یہی ہے کہ وہ ہر خبر کی تصدیق کرے اور غیر مصدقہ معلومات کو پھیلانے سے اجتناب کرے۔اسلام زبان کی حفاظت پر بھی غیر معمولی زور دیتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:”جو شخص اللّٰه تعالٰی اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔”(صحیح بخاری: 6018، صحیح مسلم: 47)
اگرچہ یہ ارشاد زبان کے بارے میں ہے، لیکن موجودہ دور میں اس کا اطلاق ہماری تحریروں، تبصروں، پوسٹوں اور پیغامات پر بھی ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر لکھا گیا ہر لفظ ہماری شخصیت، اخلاق اور ایمان کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایک نامناسب تبصرہ، توہین آمیز جملہ یا جھوٹا الزام نہ صرف کسی کی عزت کو مجروح کر سکتا ہے بلکہ آخرت میں جواب دہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔بدقسمتی سے سوشل میڈیا نے غیبت، بہتان، کردار کشی اور نفرت انگیز گفتگو کو بھی آسان بنا دیا ہے۔ کسی شخص کی ذاتی زندگی پر تبصرہ کرنا، اس کی خامیاں تلاش کرنا، بے بنیاد الزامات لگانا یا اس کی عزت کو مجروح کرنا اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ قرآنِ کریم میں اللّٰه تعالٰی نے غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دے کر اس گناہ کی سنگینی واضح فرمائی ہے۔
یہ مثال ہر صاحبِ ایمان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ دوسروں کی عزت و آبرو کی حفاظت بھی عبادت ہے۔سوشل میڈیا کا ایک بڑا نقصان وقت کا ضیاع بھی ہے۔ لاکھوں افراد روزانہ کئی کئی گھنٹے غیر ضروری ویڈیوز، فضول مباحث، بے مقصد تفریح اور لایعنی مواد دیکھنے میں گزار دیتے ہیں۔ قیمتی وقت، جو علم حاصل کرنے، عبادت کرنے، والدین کی خدمت، اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے، مطالعہ کرنے یا معاشرے کی بھلائی میں صرف ہونا چاہیے، وہ اسکرین کے سامنے ضائع ہو جاتا ہے۔
ایک کامیاب مسلمان وہی ہے جو اپنے وقت کی قدر پہچانے، کیونکہ زندگی کا ہر لمحہ اللّٰه تعالٰی کی عطا کردہ امانت ہے۔اس کے باوجود سوشل میڈیا کے مثبت پہلوؤں سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ آج دینی تعلیمات، قرآنِ کریم کی تلاوت، احادیثِ مبارکہ کی تشریح، آن لائن تعلیم، رفاہی سرگرمیاں، خون کے عطیات، قدرتی آفات میں امدادی مہمات، گمشدہ افراد کی تلاش اور علمی مواد کی ترویج میں سوشل میڈیا نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اگر اس طاقت کو حکمت، دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔والدین کی ذمہ داری بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو صرف موبائل فون یا انٹرنیٹ فراہم کر دینا کافی نہیں، بلکہ انہیں یہ بھی سکھانا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا کا صحیح استعمال کیا ہے، کس قسم کے مواد سے بچنا چاہیے، کن لوگوں سے رابطہ رکھنا چاہیے اور اپنی نجی معلومات کو کس طرح محفوظ بنانا چاہیے۔
اگر تربیت کے اس پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہی سہولت مستقبل میں اخلاقی، تعلیمی اور معاشرتی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔اسی طرح نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی شناخت، عزت، کردار اور وقت کی حفاظت کریں۔ انہیں ایسی سرگرمیوں سے دور رہنا چاہیے جو ان کے دین، اخلاق یا مستقبل کو نقصان پہنچا سکتی ہوں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ انٹرنیٹ پر لکھی گئی ہر بات، شیئر کی گئی ہر تصویر اور پوسٹ کیا گیا ہر تبصرہ ایک مستقل ریکارڈ بن جاتا ہے، جو کبھی بھی انسان کی شخصیت کا تعارف بن سکتا ہے۔علماء، اساتذہ، صحافیوں اور اہلِ قلم پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو اصلاح، تعلیم، دعوت اور شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بنائیں۔
اگر اہلِ حق اس میدان سے کنارہ کش ہو جائیں تو جھوٹی معلومات، گمراہ کن افکار، فتنہ انگیز نظریات اور اخلاق باختہ مواد زیادہ تیزی سے پھیلنے لگتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حق بات کو حکمت، حسنِ اخلاق اور مضبوط دلائل کے ساتھ عام کیا جائے۔اللّٰه تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں:”اور جس بات کا تمہیں علم نہ ہو، اس کے پیچھے نہ پڑو۔ بے شک کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں پوچھا جائے گا۔”(سورۃ الإسراء: 36)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان اپنی ہر بات اور ہر عمل کے بارے میں جواب دہ ہے۔ سوشل میڈیا پر لکھی جانے والی ہر سطر، ہر تبصرہ اور ہر پیغام بھی اسی جواب دہی کا حصہ ہے۔رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”(صحیح بخاری: 10، صحیح مسلم: 40)
آج کے دور میں "ہاتھ” میں موبائل فون بھی شامل ہے، جس کے ذریعے ایک لمحے میں کسی کی عزت اچھالی جا سکتی ہے یا کسی کی دل آزاری کی جا سکتی ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آن لائن کردار کو بھی اتنا ہی پاکیزہ رکھے جتنا اپنی عملی زندگی کو۔آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کرنے کی دوڑ میں بعض افراد اخلاقی حدود کو بھی پامال کر دیتے ہیں۔ زیادہ "ویوز”، "لائکس” اور "فالوورز” کی خواہش میں ایسی ویڈیوز، تصاویر اور تحریریں شائع کی جاتی ہیں جو اسلامی اقدار کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اخلاقی بگاڑ بھی پیدا کرتی ہیں۔ حالانکہ ایک مسلمان کی اصل کامیابی لوگوں کی تعریف نہیں بلکہ اللّٰه تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔قرآنِ کریم میں اللّٰه تعالیٰ فرماتے ہیں:”انسان کوئی بات زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان، ہر وقت تیار رہتا ہے۔”(سورۃ ق: 18)
یہ آیت ہمیں احساس دلاتی ہے کہ جس طرح زبان سے نکلنے والا ہر لفظ محفوظ کیا جا رہا ہے، اسی طرح سوشل میڈیا پر لکھی جانے والی ہر تحریر، ہر تبصرہ اور ہر پیغام بھی ہمارے اعمال کا حصہ ہے۔رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:”عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے۔”(جامع ترمذی: 2459)
یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایک مؤمن ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھاتا ہے۔ وہ وقتی جذبات، شہرت یا لوگوں کی پسندیدگی کے لیے ایسا کوئی عمل نہیں کرتا جو اللّٰه تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بن جائے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو صرف جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنا ہی نہ سکھائیں بلکہ اس کے صحیح، ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال کی تربیت بھی دیں۔ تعلیمی ادارے، والدین، علماء، اساتذہ، صحافی اور اہلِ قلم سب کو مل کر ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں سوشل میڈیا علم، کردار، شعور، دعوت اور خیر کا ذریعہ بنے، نہ کہ انتشار، نفرت اور بے راہ روی کا۔
اگر ہم ہر پیغام بھیجنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ کیا یہ بات اللّٰه تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہے؟ کیا اس سے کسی کی عزت مجروح تو نہیں ہوگی؟ کیا یہ خبر درست اور مستند ہے؟ اور کیا اس سے معاشرے میں خیر پھیلے گی؟ تو یقیناً سوشل میڈیا ہمارے لیے رحمت، اصلاح اور بھلائی کا ذریعہ بن جائے گا۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ نعمت ہے اور نہ آزمائش، بلکہ اس کا صحیح یا غلط استعمال ہی اس کی حقیقت کا تعین کرتا ہے۔ اگر ہماری پوسٹ، ویڈیو، تحریر یا تبصرہ کسی کی اصلاح، تعلیم، حوصلہ افزائی یا بھلائی کا سبب بنے تو یہ ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بن سکتا ہے، اور اگر یہی ذرائع جھوٹ، غیبت، بہتان، فتنہ یا گناہ کا وسیلہ بن جائیں تو یہی ہمارے خلاف گواہی بھی دیں گے۔
آئیے! عہد کریں کہ ہم سوشل میڈیا کو محض تفریح اور وقت گزاری کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک امانت اور ذمہ داری سمجھ کر استعمال کریں گے۔ ہر خبر کی تحقیق کریں گے، اپنی زبان اور قلم کی حفاظت کریں گے، وقت کی قدر کریں گے اور اپنے آن لائن کردار کو بھی اتنا ہی پاکیزہ بنائیں گے جتنا اپنی عملی زندگی کو بنانا چاہتے ہیں۔ یہی اسلام کی تعلیم ہے، یہی ایک ذمہ دار مسلمان اور باکردار شہری کا شیوہ ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو سوشل میڈیا کو آزمائش کے بجائے ایک حقیقی نعمت بنا سکتا ہے۔