واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں عارضی وقفے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جسے رواں سال 8 اپریل کے بعد ایک روز میں سب سے بڑی گراوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت میں 11.3 فیصد کمی کے بعد یہ 85.87 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل تقریباً 7 فیصد سستا ہو کر 82.61 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا۔
رپورٹس کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں یہ نمایاں کمی امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفے کے بعد سامنے آئی، جس کے نتیجے میں عالمی سرمایہ کاروں کے سپلائی میں ممکنہ تعطل سے متعلق خدشات کم ہوئے۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے ایرانی حکومت کی درخواست پر ایران کے خلاف حملے روک دیے ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نئی جنگ بندی پر اتفاق نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے باعث عالمی توانائی منڈی میں وقتی استحکام پیدا ہوا ہے، تاہم آئندہ صورتحال کا انحصار دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔