میں ماہر نفسیات نہیں۔ ایک سامنے کا مشاہدہ عرض ہے۔ ہم کم عمر ہوتے ہیں تو دنیا بہت بڑی معلوم ہوتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی سبزی، کریانے اور منیاری کی دکانوں میں گھرا چند فٹ چوڑا بازار کشادہ شاہراہ محسوس ہوتا ہے، ہمارے ماں باپ بہت بڑے، طاقتور اور تحفظ کا نشان معلوم ہوتے ہیں۔ یہ تو بعد میں زندگی کی تلخیاں ہمیں سمجھاتی ہیں کہ ماں باپ اور بڑی بہن تو ساہیوال سے لاہور جانے والی سڑک پر اپنی گاڑی میں ریاست کے بے ننگ و نام کارندوں کی بندوقوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ ریاست مدینہ (جدید) کا ضعیف العقیدہ حاکم تب خلیج کی کسی صحرائی ریاست میں خاک پھانکنے گیا تھا۔ وہاں سے پیام بھیجا کہ واپس آ کر مثالی انصاف کروں گا ۔ واپس آ کر قرطبہ کا قاضی روحانی شعبدے بازی میں کھو گیا۔ تین اور پانچ برس کی وہ معصوم بچیاں یاد نہ رہیں جو ایک پیٹرول پمپ پر بیٹھی پتھرائی آنکھوں سے اپنے ماں باپ اور بڑی بہن کی بے جان لاشیں دیکھ رہی تھیں۔ بے حس ریاست میں بچوں کیلئے سائبان کی یہی حقیقت ہوتی ہے۔
اسلامیہ کالج گورونانک پورہ سے مغرب کی جانب کوئی پانچ سو گز دور تھا۔ ہر روز بزرگوں کی انگلی پکڑے اسلامیہ کالج میں سیر کے لیے جانا ہمارا معمول تھا۔ پرنسپل احمد حسن ملک کے دفتر کے عین سامنے ایک سرسبز باغیچہ تھا جس میں چاروں طرف چنبیلی، گیندے، گل مہر کی کیاریوں میں ہزاروں پھول بہار دیتے تھے۔ قریبی بستیوں سے سینکڑں لوگ یہاں سیر کرنے آتے تھے۔ کالج کی مرکزی روش کی آخری حد پر ایک اکھاڑہ تھا جہاں نوجوان کسرت کرتے تھے۔ اکھاڑے کے کنارے بیٹھے کچھ بوڑھے باآواز بلند اپنے پٹھوں کو داؤ پیچ بھی بتاتے تھے۔ مشرقی جانب گھنٹہ گھر جانے والی سڑک دودھ دہی کی دکانوں، تازہ سبزیوں اور چائے کے ڈھابوں کا ایک مانوس منظر تھی۔ یہاں دارے والی مسجد کے سائے میں ہر صبح ایک سفید ریش بزرگ سڑک کنارے کرسی بچھا کر بیٹھتے تھے۔ مئی 74 کے فسادات کے بعد یہ بزرگ کبھی نظر نہیں آئے۔ سڑک کے پار ان کی بیٹی کا آہنی جنگلے والا کلینک جلا کر راکھ کر دیا گیا تھا۔ موسم گرما کی اس رات آگ کے شعلے ہماری چھت سے نظر آتے تھے اور دواؤں کی شیشیاں دھماکوں سے پھٹ رہی تھیں۔ مسجد سے متصل اس متمول گھر کا اثاث البیت جواں سال صاحبان ایمان کئی روز تک لوٹتے رہے۔ ایک پست قامت جوان کو سلائی مشین اور ایک مجاہد کو برف میں مشروبات ٹھنڈا کرنے کا بکس اٹھا کر بھاگتے میں نے خود دیکھا۔ کالج کے سبزہ زار میں کچھ محنتی طالب علم کتابیں اٹھائے انہماک سے مطالعے میں غرق بھی نظر آتے تھے۔ یقینا ً انہوں نے بعد ازاں تعلیمی کامیابی کے سہارے اچھی ملازمتیں پائی ہوں گی۔
نصابی کتابوں سے امتحانی کامیابی ملتی ہے، علم اور شعور کا دروازہ نہیں کھلتا۔گوجرانوالہ بنیادی طور پر تہذیب اور تمدن کیلئے پہچان نہیں رکھتا۔ دلیل کی بجائے دست و بازو کی آزمائش اور بسیار خوری کی شہرت رکھتا ہے۔ 1941ءکی مردم شماری میں ضلع گوجرانوالہ کی آبادی 9لاکھ 12ہزار تھی۔ غیر مسلم شہری 2 لاکھ 70 ہزار تھے۔ گوجرانوالہ کے 54 فیصد مسلم شہریوں نے غیر مسلموں پر ایسے منظم حملے کیے کہ تقسیم کے بعد یہاں ہندو اور سکھ نسخے میں ڈالنے کو نہیں ملتے تھے۔ یہ بربریت شہرکے مزاج میں اتر گئی تو 1953ءمیں متحدہ پاکستان کے عظیم سیاسی رہنما حسین شہید سہروردی پر گوجرانوالہ ریلوے اسٹیشن پر پتھر برسائے گئے۔ 1965ء کے صدارتی انتخاب کے دوران اس شہر میںایک کتیا کے گلے میں فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لالٹین لٹکا کر جلوس نکالا گیا ۔ جلوس کی قیادت امیر کالاباغ کا ایک لاڈلا کر رہا تھا ۔ یہی تین یا شاید چار برس کی عمر ہوگی، ابا کی انگلی پکڑے عید گاہ کی طرف بڑھنے کا ایک لمحہ دل میں کہیں ٹھہر گیا ہے۔ ابا نے ایک بازو پر نیا دھلا ہوا کھیس اٹھا رکھا تھا۔ ارادہ یہ تھا کہ عید گاہ میں صفیں ختم ہوگئیں تو اپنا کھیس بچھا کر عید کی نماز پڑھی جائے گی۔ عید کی یہ نماز اسلامیہ کالج کے میدان میں پڑھی جاتی تھی۔ دوست خواہ مخواہ عقائد کی بحث میں دلیل گھسیٹ لاتے ہیں، عقیدوں سے وابستگی تو ماں کی لوری اور باپ کی انگلی کے راستے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ کشمیری مہاجروں کے کیمپ کے سامنےسے گزرتے ہوئے اور برساتی پانی سے بھرے چھوٹے چھوٹے گڑھے پھلانگتے عید گاہ کے سبز میدان تک پہنچے تو دائیں ہاتھ کچھ نہایت بدنما عمارتیں تھیں، کچھ ظالموں نے کالج کی زمین پر قبضہ کر کے کارخانے بنا لئےتھے۔ جب بھی اسلامیہ کالج کے قریب سے گزرتے تو بتایا جاتا کہ کالج انتظامیہ نے ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ کھیل کے میدان میں کسی جلدی مرض کی طرح پھیلی ہوئی یہ ناجائز عمارتیں آنکھ پر گراں گزرتی تھیں۔ ہماری نسل کالج سے تعلیم پا کر رخصت ہوگئی۔ یہ تجاوزات قائم رہیں۔ کوئی پچیس برس بعد کالج کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہوا۔ مادر علمی کی کشش میں پنجوں کے بل اچک کر قد آدم چار دیواری کے پار جھانکا، دائیں طرف بد ہیئت کارخانے بدستور درسگاہ کے سینے پر مونگ دل رہے تھے۔ خیال آیا کہ یہ کسی زور آور کا مجرمانہ قبضہ نہیں، ناانصافی نے ہماری خوشی کے منطقے پر تجاوزات کھڑی کر رکھی ہیں۔
گوجرانوالہ کا اسلامیہ کالج 1918ءمیں گورونانک خالصہ کالج کے نام سے قائم ہوا۔ روایت تھی کہ 1947 ءمیں کچھ لوگ خالصہ کالج کو آگ لگانے پہنچے تو قصبے کے ایک استاد عبداللّٰہ صاحب نے تختہ سیاہ پر اسلامیہ کالج لکھ کر کالج کے گیٹ سے لٹکا دیا اور فسادیوں سے کہا کہ اب یہ اسلامیہ کالج ہوگیا ہے، اسے آگ نہ لگائی جائے۔ کئی عشرے بعد درویش اس کالج میں تعلیم پانے پہنچا تو عبداللّٰہ صاحب پروقار بڑھاپے کی منزلوں میں تھے۔ کالج کی پرشکوہ دیواروں میں استاد محترم کی ریش مبارک کا نور جھلکتا تھا۔ عبداللّٰہ صاحب کو گوجرانوالہ کا سرسید کہا جاتا تھا۔ علم تہذیب کی بنیاد ہے۔ ایک ان دیکھا تعلق رفتگان کو آنے والوں سے جوڑتا ہے۔ زندگی کا چلن متعین کرتا ہے۔ خوش نصیبی تھی کہ ان آنکھوں نے عبداللّٰہ صاحب ، افتخار ملک اور تطہیر کاظمی صاحب سے شفقت پائی۔ جھوٹ کیوں بولا جائے، چوہدری فضل حسین، پروفیسر جاوید اقبال، پروفیسر رفیق احمد اور دیگر اساتذہ سے ڈانٹ بھی کھائی۔ استاد کی تادیب شفقت ہی کی ایک صورت ہوتی ہے۔
بشکریہ جنگ