بعض خطوط کبھی بھیجے نہیں جاتے، مگر عمر بھر پڑھے رہ جاتی ہے

ہمارے گھر کے قریب ایک غریب اور باوقار خاتون رہتی تھیں۔قسمت نے ان کے ساتھ بڑی بے رحمی کی تھی۔ان کے شوہر نے بے قصور ہونے کے باوجود انہیں طلاق دے کر دوسری شادی کر لی۔بے سہارا خاتون اپنے بھائیوں کے گھر آ گئیں اور وہیں اپنے ننھے بیٹے کے ساتھ زندگی گزارنے لگیں۔

وقت گزرتا گیا۔بیٹا جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا،اس نے مزدوری شروع کر دی۔شام کو جب وہ اپنی محنت کی کمائی سے گھر کا راشن یا کھانے کی کوئی چیز لے کر آتا تو ماں کی آنکھوں میں خوشی جھلک اٹھتی۔وہ دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرتی کہ اس کا بیٹا اس کے بڑھاپے کا سہارا بن رہا ہے. لیکن وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔آہستہ آہستہ بھائیوں کے رویے بدلنے لگے۔ ان کی باتوں اور انداز سے محسوس ہونے لگا کہ بہن اور اس کا بیٹا اب ان پر بوجھ بن چکے ہیں۔خوددار ماں نے خاموشی سے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنے بیٹے کو لے کر الگ زندگی گزارے گی۔

بیٹے،شہزاد، نے گاڑیوں کی مرمت کا کام سیکھ لیا، جبکہ ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرنے لگی۔دونوں نے محنت کو اپنا مقدر بنا لیا۔ وقت گزرا تو ماں نے اپنے ہی بھائی سے اپنے بیٹے کے لیے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا۔ بھائی نے رضامندی ظاہر کی اور ایک ہفتے کے اندر شادی بھی ہو گئی۔

مگر شاید تقدیر نے ابھی مزید امتحانات لکھ رکھے تھے۔ شادی کے بارہ سال گزر گئے مگر اولاد نہ ہوئی۔لوگ شہزاد کو دوسری شادی کا مشورہ دیتے،لیکن وہ اپنی بیوی سے بے حد محبت کرتا تھا۔ اس نے بہتر مستقبل کی امید میں بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کیا تاکہ محنت سے پیسہ کما کر اپنا کاروبار شروع کر سکے۔ یوں شہزاد روزگار کی خاطر دبئی چلا گیا۔

ادھر اس کی بیوی برسوں سے اولاد نہ ہونے کے طعنے سہہ رہی تھی۔ساس اور بہو کے درمیان تعلقات بھی کشیدہ ہوتے گئے۔روزمرہ کے جھگڑوں نے خالہ کی صحت پر گہرا اثر ڈالا۔وہ شدید بیمار ہو گئیں اور بستر سے لگ گئیں، مگر انہوں نے اپنی بیماری کی خبر اپنے بیٹے کو نہ دی تاکہ وہ پردیس میں پریشان نہ ہو۔ اسی دوران انہوں نے اپنے بھائیوں سے اپنی وراثت میں ملنے والے حصے کا مطالبہ کیا۔ یہ سن کر بھائی آگ بگولہ ہو گئے۔انہوں نے طعنہ دیتے ہوئے کہا:

ہم نے تمہیں پناہ دی، تمہارے بیٹے کو سہارا دیا، اور آج تم ہم سے اپنا حق مانگنے آئی ہو؟ بہت منت سماجت کے باوجود انہیں کچھ نہ ملا۔ وہ خالی ہاتھ اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ واپس لوٹ آئیں۔ دوسری طرف ان کی بہو، جو انہی بھائیوں کی بیٹی تھی، بھی اس بات پر ناراض رہنے لگی کہ اس کی ساس نے اس کے والد سے جائیداد میں حصہ کیوں مانگا۔ گھر میں روزانہ جھگڑے ہونے لگے، اور خالہ کی زندگی مزید اذیت ناک بن گئی. ایک دن وہ ہمارے گھر آئیں۔ آنکھوں میں آنسو اور دل میں درد لیے انہوں نے اپنے پردیسی بیٹے کے نام ایک خط لکھا۔

اس خط میں لکھا:

میرے پیارے بیٹے! میں بہت مشکل میں ہوں۔تمہاری بیوی کے ساتھ میرے تعلقات ٹھیک نہیں رہے، اور اب میری صحت بھی جواب دے چکی ہے۔ شاید میں زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ سکوں،اسی لیے یہ خط لکھ رہی ہوں۔اگر میں دنیا سے چلی جاؤں تو میرے حصے کی زمین ضرور حاصل کرنا، کیونکہ وہ میرا حق ہے۔ میرے بھائیوں نے مجھے بہت ذلیل کیا ہے،لیکن تم اپنے حق سے کبھی دستبردار نہ ہونا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ہمیشہ سلامت رکھے۔میری دعائیں اور نیک تمنائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گی۔

خط مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے گھر واپس پہنچیں،مگر دروازے کے قریب ہی اچانک زمین پر گر پڑیں۔ گھر میں موجود مہمان انہیں سنبھالنے کے لیے دوڑے،مگر وہ آخری سانسیں لے رہی تھیں۔ چند لمحوں بعد ان کی روح اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی. ان کے ہاتھ میں وہی خط تھا، جو ایک ماں کی آخری وصیت، آخری دعا اور آخری محبت کا امین تھا۔

مگر افسوس…

وہ خط کبھی اپنے اصل مخاطب، یعنی ان کے بیٹے، تک نہ پہنچ سکا. کچھ خطوط ڈاک کے راستے نہیں،تقدیر کے ہاتھوں گم ہو جاتے ہیں۔مگر ان کے لفظ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں،اور انہیں پڑھنے کے لیے کاغذ نہیں، ایک حساس دل چاہیے ہوتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے