کوئلہ کانوں کے مزدور: آخر کب تک اپنی جانیں قربان کرتے رہیں گے؟

گزشتہ رات بلوچستان کے علاقے سورینج، کوئٹہ کے قریب ایک کوئلہ کان میں میتھین گیس بھر جانے کے باعث ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم 34 مزدور جاں بحق ہوگئے، جبکہ متعدد مزدور کان کے اندر پھنس گئے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں، اس لیے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ سانحہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسے تسلسل کا حصہ ہے جو ہر سال پاکستان کے محنت کش طبقے سے قیمتی جانیں چھین لیتا ہے۔

پاکستان کی کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدور ایسے حالات میں روزگار حاصل کرتے ہیں جہاں ایک معمولی غفلت یا حفاظتی انتظامات کی کمی چند لمحوں میں درجنوں خاندانوں کی خوشیاں اجاڑ دیتی ہے۔ زہریلی گیس، ناقص وینٹی لیشن، حفاظتی آلات کی عدم دستیابی، غیر معیاری کانیں اور مؤثر نگرانی کا فقدان وہ بنیادی عوامل ہیں جو ہر سال قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہر حادثے کے بعد صرف تعزیتی بیانات، امدادی اعلانات اور تحقیقات کے وعدے کیے جاتے ہیں، تاہم عملی صورتحال میں کوئی بنیادی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آتی۔

ان المناک سانحات کا سب سے زیادہ بوجھ ضلع شانگلہ کے عوام برداشت کرتے ہیں۔ تقریباً ہر سال شانگلہ کے نوجوانوں کی میتیں بلوچستان اور دیگر علاقوں کی کوئلہ کانوں سے ان کے آبائی علاقوں کو واپس پہنچتی ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ قدرتی وسائل، خوبصورتی اور باصلاحیت نوجوانوں سے مالا مال یہ ضلع آج بھی غربت، بے روزگاری اور بنیادی ترقیاتی سہولیات کی کمی کا شکار ہے۔ روزگار کے محدود مواقع کے باعث نوجوان اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کوئلہ کانوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ مسئلہ صرف شانگلہ تک محدود نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات پر بھی ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ آخر کیوں ایک ایسا ضلع، جس نے ملک کو تعلیم یافتہ افراد، سرکاری افسران، اور محنت کش فراہم کیے، آج بھی اپنے نوجوانوں کے لیے محفوظ اور باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ناکام ہے؟ اگر مقامی سطح پر صنعتوں کی ترقی، معدنی وسائل کی جدید کاری، سیاحت، زراعت اور فنی تعلیم کے مؤثر منصوبے شروع کیے جائیں تو ہزاروں نوجوان خطرناک کانوں میں کام کرنے پر مجبور نہ ہوں۔

اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کوئلہ کانوں کے لیے ایک جامع مائن سیفٹی اینڈ ورکرز پروٹیکشن قانون نافذ کریں، جس کے تحت ہر کان میں جدید گیس ڈیٹیکشن سسٹم، مؤثر وینٹی لیشن، حفاظتی آلات، ہنگامی اخراج کے راستے، تربیت یافتہ ریسکیو ٹیمیں اور باقاعدہ حفاظتی آڈٹ کو لازمی قرار دیا جائے۔ ایسی تمام کانیں جو حفاظتی معیار پر پورا نہ اترتی ہوں، انہیں فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔

مزید برآں، ہر مزدور کی رجسٹریشن، لائف انشورنس، ہیلتھ انشورنس اور سوشل سکیورٹی کو قانونی طور پر یقینی بنایا جائے۔ کسی بھی حادثے کی صورت میں محض مالی امداد کافی نہیں ہوتی، بلکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل مالی معاونت، بچوں کی تعلیم، بیواؤں کی کفالت اور بحالی کا جامع نظام ریاستی ذمہ داری کے طور پر قائم کیا جانا چاہیے۔

اسی طرح کانوں کے مالکان اور متعلقہ سرکاری اداروں کو بھی مکمل طور پر جوابدہ بنانا ناگزیر ہے۔ اگر کسی حادثے کی وجہ حفاظتی غفلت ثابت ہو تو صرف محکمانہ کارروائی نہیں بلکہ فوجداری مقدمات بھی درج کیے جائیں تاکہ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے لیے قانون کا مؤثر خوف قائم ہو سکے۔

ضلع شانگلہ سے منتخب ہونے والے اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عوام نے انہیں محض تعزیتی بیانات کے لیے منتخب نہیں کیا بلکہ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مؤثر قانون سازی کریں، شانگلہ کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج حاصل کریں، مقامی روزگار کے مواقع پیدا کریں اور کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے حقوق کے لیے مستقل اور مؤثر آواز بلند کریں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد وقتی بیانات اور نمائشی سرگرمیاں تو دیکھنے میں آتی ہیں، لیکن دیرپا اصلاحات کے لیے سنجیدہ اقدامات کا فقدان برقرار رہتا ہے. ایک مہذب ریاست کی اصل پہچان اس کی عمارتیں یا سڑکیں نہیں بلکہ اس کے مزدوروں کا تحفظ ہوتا ہے۔ اگر ایک مزدور روزی کمانے کے لیے گھر سے نکلے اور اس کے اہلِ خانہ کو اس کی لاش وصول کرنا پڑے تو یہ صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پوری ریاست کے لیے ایک المیہ ہے۔

اب وقت آچکا ہے کہ ان سانحات کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے ان کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ کیا جائے۔ جب تک مؤثر قانون سازی، سخت نگرانی، عملی اصلاحات، شفاف احتساب اور محفوظ روزگار کے مواقع فراہم نہیں کیے جاتے، تب تک شانگلہ سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں کے نوجوان اسی طرح اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہیں گے۔اب مزید محض تعزیت نہیں، بلکہ قانون، احتساب اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہی ان مزدوروں کے خون کا حقیقی انصاف ہے اور یہی پاکستان کے محنت کش طبقے کے ساتھ انصاف کا تقاضا بھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے