استاد متروک اور منطق کا مسودہ

صبح کا وقت تھا۔ میں چائے کی پیالی سے محظوظ ہونے اور اخبار کے اوراق الٹنے میں مصروف تھا کہ اچانک دروازے کی گھنٹی نے سکونِ صبح کو تہہ و بالا کر دیا۔

میں نے سوچا صبح صبح کون آ گیا۔

گھنٹی دوبارہ بجی۔

میں نے بادلِ ناخواستہ دروازہ کھولا تو سامنے استاد مشرف متروک کھڑے تھے۔

انہیں سامنے دیکھتے ہی دل میں ایک ہی خیال آیا کہ میں نے دروازہ کھولا ہی کیوں۔

اگر مجھے ذرا سا بھی علم ہوتا کہ باہر استاد مشرف متروک کھڑے ہیں تو میں گھنٹی کی آواز کو بھی دنیا کی بہت سی دوسری آوازوں کی طرح نظرانداز کر دیتا۔

مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔

دروازہ کھل چکا تھا۔

میں خود ان کے سامنے آ چکا تھا۔

استاد متروک کا حلیہ بھی ایسا تھا کہ آدمی انہیں دیکھتے ہی اندازہ کر لیتا تھا کہ آج کی ملاقات چند لمحوں کی نہیں۔

فرینچ کٹ داڑھی۔ سر پر ترکی ٹوپی۔ کندھے پر ایک ایسا تھیلا جس میں بظاہر آدھی لائبریری سما سکتی تھی۔ بغل میں کاغذوں کا ایک موٹا سا دستہ اور مسکراہٹ ایسی کہ چونے سے بھرے ہوئے دانت دور ہی سے اپنی موجودگی کا اعلان کر رہے تھے۔

میں نے سلام کیا اور عرض کیا:

استاد محترم! صبح صبح؟ خیریت تو ہے؟

استاد متروک نے فرمایا:

جناب! سحر کی ساعتیں اگر اہلِ فکر و نظر کی صحبت سے معمور نہ ہوں تو پھر وہ صبح کیا اور وہ سحر کیا۔ ہم تو اس غرضِ خیر سے تشریف لائے ہیں کہ آپ کے ذوقِ علم کو ایک تازہ تحفۂ فکر سے بہرہ مند کریں اور آپ کی فہم و فراست کو ایک نئی آزمائش سے آشنا فرمائیں۔

یہ گفتگو ابھی گیٹ ہی پر کھڑے کھڑے جاری تھی کہ استاد متروک نے اچانک اندر جھانکا اور فرمایا:

جناب! آپ نے مہمانوں کو آستانۂ خانہ میں بٹھا کر اپنے دسترخوانِ عنایت سے لذیذ و خوش ذائقہ چائے سے ضیافت فرمانے سے کب سے اس قدر احتراز شروع کر دیا ہے؟

میں نے عرض کیا:

نہیں استاد محترم ایسی بات نہیں۔ دراصل ابھی…

فرمایا:

پس پھر اس توقف و تاخیر کا موجب کیا ہے؟

اور اس سے پہلے کہ میں کسی نئے عذر کی تخلیق فرماتا استاد متروک نے مجھے ایک طرف کیا اور خود اندر تشریف لے آئے۔

چند ہی لمحوں بعد وہ ڈرائنگ روم میں پوری شانِ استحقاق کے ساتھ براجمان تھے۔

میں نے دل میں کہا کہ جس شخص کو گیٹ پر روکنے میں ناکام ہو چکا ہوں اسے اب ڈرائنگ روم سے نکالنے کی سعی کرنا اپنی عقل کے خلاف ہوگا۔

میں نے چائے کا پوچھا۔

استاد متروک نے مسکراتے ہوئے فرمایا:

اب آئیے اصل مدعا کی جانب۔

میں نے ان کے ہاتھ میں دبے ہوئے کاغذوں کے دستے کی طرف دیکھا۔

یہ کیا ہے؟

فرمایا:

یہ چند اوراقِ پریشاں نہیں بلکہ شب و روز کی ریاضت۔ فکر و تدبر کی کاوش اور غور و خوض کی مشقت کا ثمرِ شیرین ہے۔ منطق کے دقیق مسائل۔ استدلال کے باریک نکات اور عقل و خرد کے پوشیدہ گوشوں کو یکجا کرنے کی ایک عاجزانہ سعی ہے۔

میں سمجھ گیا کہ مصیبت اب ڈرائنگ روم تک پہنچ چکی ہے۔

میں نے عرض کیا:

استاد محترم! آج کل طبیعت کچھ ایسی موافق نہیں۔

فرمایا:

اگر مزاجِ گرامی علم کی طلب سے کچھ مضمحل ہے تو اسے مطالعۂ علم کی صحبت سے مہمیز دیجیے۔ طبیعت سنورے گی۔ فکر کو جلا ملے گی اور ذہن کو تازگی نصیب ہوگی۔

میں نے عرض کیا:

"دراصل آج کل مصروفیت کچھ زیادہ ہے۔”

فرمایا:

اشتغالِ روزگار اہلِ عذر کے لیے بہانہ ہو سکتا ہے مگر اہلِ عزم کے لیے حجت نہیں۔

میں نے کہا:

آج وقت نہیں ہے۔

فرمایا:

فردا سہی۔

میں نے کہا:

فردا بھی مصروف ہوں۔

فرمایا:

پس روزِ دگر غنیمت جانیے۔

میں نے کہا:

وہ بھی مشکل ہے۔

فرمایا:

ہفتۂ آئندہ میں کوئی ساعت مختص فرما دیجیے۔

مجھے اندازہ ہو گیا کہ اگر میں مزید عذر تراشتا رہا تو استاد متروک مجھے پورا سال مطالعے کے لیے الاٹ کر دیں گے۔

میں نے کہا:

آنکھیں بھی کچھ کمزور ہیں۔ زیادہ مطالعہ دشوار ہو جاتا ہے۔

فرمایا:

حروفِ درشت اختیار فرما لیجیے۔

میں نے کہا:

سر میں درد رہتا ہے۔

فرمایا:

وقفہ بہ وقفہ مطالعہ فرمائیے۔

میں نے کہا:

کمر میں بھی درد ہے۔

فرمایا:

استراحت کی حالت میں مطالعہ فرمائیے۔

میں نے کہا:

لیٹ کر بھی پڑھنے کی عادت نہیں۔

فرمایا:

پس قیام کی حالت میں مطالعہ فرمائیے۔

میں نے دل میں کہا کہ منطق کی کتاب سے زیادہ خطرناک اس کا مصنف ہے۔

میں نے آخری حربہ آزمایا:

استاد محترم! میں نے منطق باقاعدہ پڑھی ہی نہیں۔

فرمایا:

جنابِ من! منطق محض کتبِ درسگاہ کی اسیر نہیں۔ یہ میزانِ فکر ہے۔ زبانِ عقل ہے اور پاسبانِ استدلال ہے۔ جو شخص غور و فکر کی صلاحیت رکھتا ہے وہ کسی نہ کسی درجے میں منطق سے رشتہ ضرور رکھتا ہے۔

میں نے عرض کیا:

پھر کسی ایسے شخص سے تبصرہ تحریر کرا لیجیے جو منطق کا استاد ہو۔

فرمایا:

اہلِ منطق سے منطق پر اظہارِ رائے کرانا امرِ معمول ہے۔ ہمیں تو وہ نگاہ مطلوب ہے جو معمول سے ماورا ہو۔ وہ فکر درکار ہے جو رسمی قاعدوں کی اسیری سے آزاد ہو اور وہ قلم چاہیے جو الفاظ کے پردے میں مفہوم کی حقیقت کو آشکار کرنے کا ہنر رکھتا ہو۔

میں نے کہا:

لیکن ایسے لوگ تو بہت ہیں۔

فرمایا:

کثرت معتبر ہونے کی دلیل نہیں۔ ہر صاحبِ قلم صاحبِ نظر نہیں ہوتا۔ ہر صاحبِ مطالعہ صاحبِ فہم نہیں ہوتا اور ہر صاحبِ فہم صاحبِ بصیرت نہیں ہوتا۔

میں نے کاغذوں کا دستہ ان کی طرف بڑھایا۔

استاد محترم! یہ آپ رکھیں۔ میں بعد میں لے لوں گا۔

فرمایا:

اب یہ محض آپ کے ہاتھ میں نہیں رہا۔ آپ کے ذمے ہے۔ اسے واپس کرنا آسان ہے مگر ذمہ داری سے گریز دشوار۔

میں نے کہا:

اگر کتاب میری سمجھ ہی میں نہ آئی تو؟

فرمایا:

جہاں فہم درماندہ ہو وہاں تدبر کو پکاریے۔ جہاں تدبر بھی تھک جائے وہاں مطالعے کو مکرر فرمائیے اور جہاں مطالعہ بھی جواب دے جائے وہاں ہم سے استفسار فرمائیے۔ مگر قلم کو خاموش نہ کیجیے کہ خاموش قلم سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں۔

میں نے کہا:

اور اگر تبصرہ آپ کی توقع کے مطابق نہ لکھ سکا تو؟

فرمایا:

ہمیں مدح و ثنا مطلوب نہیں۔ ہمیں دیانت دارانہ اظہارِ رائے درکار ہے۔

میں نے کہا:

اچھا استاد محترم۔ کوشش کروں گا۔

فوراً فرمایا:

کوشش نہیں جناب۔ تحریر فرمائیے۔ کوشش میں احتمال پوشیدہ ہوتا ہے اور تحریر میں انجام آشکار ہوتا ہے۔

میں نے کہا:

اچھا لکھ دوں گا۔

فرمایا:

یہ ہوئی نا اہلِ قلم کی بات۔

پھر انہوں نے چائے کی پیالی سے ایک گھونٹ نوش فرمایا اور ایسے مطمئن ہوئے جیسے تبصرہ بھی تحریر کرا لیا ہو اور چائے بھی نوش فرما لی ہو۔

کچھ دیر بعد وہ رخصت ہوئے۔

میں انہیں دروازے تک چھوڑنے آیا۔ ترکی ٹوپی آہستہ آہستہ دور ہوتی گئی۔ کندھے کا تھیلا جھولتا رہا اور میں سوچتا رہا کہ استاد متروک صرف کاغذوں کا ایک دستہ نہیں لائے تھے بلکہ میری صبح۔ میری چائے اور میری ساری فرصت بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

میں اندر آیا۔

میز پر مسودہ رکھا۔

ٹھنڈی ہوتی ہوئی چائے کو دیکھا اور دل میں کہا:

یہ منطق کی کتاب ہے یا میری زندگی کا مسئلہ؟

پھر چائے دوبارہ گرم کی۔

آخر منطق بھی کوئی چیز ہے۔

مگر ٹھنڈی چائے کے سامنے میری منطق پہلے ہی جواب دے چکی تھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے