گلگت کا مفتی عبدالقوی

دوسری شادی یا کثرتِ ازواج میرا البیلا ٹاپک ہے۔ عمومی اور خصوصی محافل جب پھیکا پن کا شکار ہوجائیں تو پھر دوسری شادی کا عنوان چھیڑ دیتا ہوں اور محفل کو کشتِ زعفران بنا دیتا ہوں۔

بلاشبہ دینی، سماجی اور علمی موضوعات پر ہزاروں تحریریں لکھی ہیں، لیکن ہمارے بہت سارے کرم فرماؤں کو کبھی ان تحاریر پر تبصرہ یا اختلافی نکتۂ نظر پیش کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ تاہم جیسے ہی فیس بک پر دوسری شادی کا کوئی چٹکلہ چھیڑ دوں تو بہت سارے احباب کی رگِ ظرافت جاگ جاتی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے باقی تمام موضوعات تو صرف علمی مشق تھے اور اصل انتظار اسی عنوان کا تھا۔

پچھلے سال پڑی بنگلہ کی ایک فوتگی کی محفل میں اچانک حافظ حفیظ الرحمن صاحب اپنی پوری سیاسی ٹیم کے ساتھ وارد ہوئے۔ علیک سلیک کے بعد مجھے اپنے ساتھ بٹھایا اور دیر تک فکری موضوعات پر گفتگو کرتے رہے، کچھ تحریروں پر عالمانہ تبصرہ کیا۔

اچانک حاضرینِ محفل سے کہا

"حقانی صاحب خوب لکھتے ہیں، ہم سے بھی اختلاف کرتے ہیں لیکن اختلاف میں بھی شائستگی کا دامن نہیں چھوڑتے۔”

یہ سن کر کچھ لوگوں نے تائید کی، کچھ خاموش رہے اور ہمارے کرم فرما برکت جمیل صاحب نے فوراً موقع غنیمت جانتے ہوئے کہا

"حقانی صاحب دوسری شادی کے سوا لکھتے بھی کیا ہیں؟”

یہ سنتے ہی حفیظ صاحب نے کہا کہ میں نے تو ان کی کئی فکر انگیز تحریریں پڑھی ہیں اور کچھ ذمہ دار شخصیات کو سینڈ بھی کی ہیں۔

میں دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ شکر ہے کم از کم ایک آدمی نے میری دوسری شادی کے علاوہ بھی کچھ پڑھ رکھا ہے، ورنہ میری پوری علمی زندگی دو نکاحوں کے بیچ معلق سمجھی جاتی!

ہمارے ایک دوست منیر ایڈوکیٹ صاحب نے ایک دن تبصرہ فرمایا

"ہم دوسری شادی کے سوا بھی کچھ سننا چاہتے ہیں۔”

ہم نے عرض کیا "آپ نے ان چٹکلوں کے سوا اور کوئی تحریر پڑھی ہوتی تو یہ تبصرہ نہ فرماتے۔”

یعنی مسئلہ میری تحریروں کا نہیں، آپ کے مطالعاتی انتخاب کا ہے!

آج ہمارے برادرِ مکرم بھائی مرتضیٰ صاحب کے پاس سلام کرنے پہنچے تو کسی من چلے نے کہا کہ

"حقانی تو دوسری شادی کی تبلیغ کرتا ہے۔”

انہوں نے ارشاد کیا

"یہ تو گلگت کے مفتی قوی ہیں!”

ہم نے کہا، کہاں مفتی قوی اور کہاں ہم!

دل میں خیال آیا کہ مفتی قوی صاحب تو کترینہ کیف سے لے کر سینکڑوں اداکاراؤں اور حسیناؤں کو اپنے نکاح میں رکھنے یا ہونے کے مدعی رہے ہیں اور کہاں ہم! بمشکل دو ہی ہمارے نکاح میں ہیں اور تیسری کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

بہت سال پہلے ہمارے ایک اور کزن پروفیسر جمشید علی نے بھی اسی ٹائٹل سے نوازا تھا۔

بہرحال بہت سارے کرم فرما احباب ہیں جنہوں نے کبھی کسی سنجیدہ تحریر پر تبصرہ نہیں کیا، لیکن دوسری شادی کے عنوان پر ہمیشہ پھبتیاں کستے رہتے ہیں۔

بعض احباب شاید میری ہر نئی تحریر کھولنے سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کہیں اس میں "دوسری شادی” کا ذکر تو نہیں، اگر نہ ہو تو خاموشی سے واپس، اور اگر ذکر مل جائے تو فوراً تبصرہ حاضر! 😄

بھائی لوگو!

تمہیں کیا پتہ، ہم آپ جیسے فرسٹریشن اور ایگزاٹی کے شکار احباب کو خوش رکھنے کے لیے عقدِ ثانی کے چٹکلے چھوڑ دیتے ہیں، تاکہ آپ کے چہروں پر تبسم کے آثار نظر آئیں۔ ورنہ ہم بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ دوسری شادی تمہارے بس کا روگ نہیں۔

بلکہ سچ پوچھیں تو شاید دوسری شادی کا موضوع ہماری تحریروں سے زیادہ آپ کی مسکراہٹ کا موضوع ہے۔

سو ہم لکھتے رہیں گے، آپ ہنستے رہیں گے۔

ہم چٹکلے چھوڑتے رہیں گے، آپ پھبتیاں کستے رہیں گے،
اور یوں ہماری فیس بک دوستی بھی چلتی رہے گی اور آپ کی "علمی تشنگی” بھی پوری ہوتی رہے گی! 😄 اور محفلیں بھی آباد ہوتی رہیں گی۔

آخر میں صرف اتنا عرض ہے،

میری تحریروں کا مطالعہ دوسری شادی سے شروع کرکے دوسری شادی پر ختم نہ کیا کریں،😜 درمیان میں بھی کچھ صفحات ہوتے ہیں، ان کو بھی پڑھ لیا کریں، کھبی کھبی ہم درد دل کھول کر رکھتے ہیں، کھبی جھنجھوڑتے ہیں ، کھبی آپ کو سوال اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں تو کبھی مذاق مذاق میں وہ سب کچھ بھی کہہ جاتے ہیں جس کے کہنے کے لیے بڑے بڑے لوگ ہمت نہیں کر پاتے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے