پاکستان (حمزہ احسان ) کی سیاست میں ایک مرتبہ پھر آئینی ترامیم کے حوالے سے اہم پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں لندن میں اہم سیاسی شخصیات کے درمیان ملاقاتوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے لندن میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے اہم ملاقات کی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملاقات میں 18ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے تیار کیے گئے مبینہ مسودے پر پاکستان پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کے معاملے پر گفتگو کی گئی۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان مشاورت کا عمل آگے بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ بعض اہم آئینی و سیاسی امور پر پیپلز پارٹی کی قیادت کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کو بھی جلد از جلد لندن پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔
لندن میں اس وقت پاکستان کی اہم سیاسی شخصیات کی موجودگی نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف رواں ہفتے لندن میں موجود ہیں، جبکہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی پہلے ہی لندن پہنچ چکے ہیں۔
دوسری جانب 18ویں آئینی ترمیم پاکستان کے آئینی و سیاسی نظام میں ایک انتہائی اہم ترمیم تصور کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں صوبائی خودمختاری اور اختیارات کی منتقلی سمیت متعدد بنیادی تبدیلیاں آئین کا حصہ بنیں۔
تاہم 18ویں ترمیم کے نئے مسودے، اس کے مندرجات اور لندن میں ہونے والی مبینہ ملاقات کے ایجنڈے کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ سرکاری اعلامیہ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ان دعوؤں کو فی الحال ذرائع سے منسوب کرکے ہی رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
لندن میں جاری سیاسی رابطوں کے تناظر میں آئینی ترامیم، صوبائی خودمختاری اور وفاق و صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم آئندہ دنوں میں سیاسی منظرنامے کا اہم موضوع بن سکتی ہے۔