6 ستمبر پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار دن ہے۔ اس دن پوری پاکستانی قوم نے اپنے وطن کے دفاع کے لیے اتحاد، بہادری اور قربانی کا بے مثال مظاہرہ کیا۔ 6 ستمبر کو ہم یومِ دفاعِ پاکستان کے طور پر مناتے ہیں اور اپنے ان بہادر شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس تاریخی موقع پر جہاں پاک فوج کے جوانوں کی بہادری قابلِ تحسین ہے، وہیں پاکستانی خواتین کا کردار بھی نہایت اہم اور قابلِ فخر ہے۔
1965ء کی جنگ کے دوران پاکستانی خواتین نے اپنے حوصلے، صبر اور حب الوطنی کا شاندار مظاہرہ کیا۔ ماؤں نے اپنے بیٹوں کو وطن کی حفاظت کے لیے خوش دلی سے روانہ کیا اور انہیں بہادری سے لڑنے کی تلقین کی۔ بہت سی ماؤں نے اپنے لختِ جگر کی شہادت کی خبر سن کر بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ ان ماؤں کا حوصلہ پوری قوم کے لیے ایک مثال بن گیا۔
بہنوں اور بیٹیوں نے بھی اپنے بھائیوں اور والدین کا حوصلہ بڑھایا اور مشکل وقت میں قومی جذبے کو مضبوط کیا۔
جنگ کے دوران خواتین نے صرف گھروں تک محدود رہنے کے بجائے مختلف عملی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔ خواتین ڈاکٹروں اور نرسوں نے زخمی فوجیوں اور شہریوں کی خدمت کی۔ انہوں نے اسپتالوں میں دن رات کام کیا اور زخمیوں کی دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی خدمت، ہمدردی اور قربانی نے جنگ کے مشکل حالات میں قوم کو سہارا دیا۔ بہت سی خواتین نے رضاکارانہ طور پر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور ضرورت مند لوگوں تک خوراک، کپڑے اور دیگر ضروری سامان پہنچایا۔
اس دور میں خواتین نے قومی جذبہ بیدار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ریڈیو اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے ملی نغموں، قومی ترانوں اور حوصلہ افزا پیغامات نے عوام کے جذبۂ حب الوطنی کو مزید مضبوط کیا۔ خواتین نے ان سرگرمیوں میں حصہ لے کر قوم کو اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا۔ ان کی آواز نے لوگوں کے دلوں میں وطن سے محبت کا جذبہ پیدا کیا اور انہیں مشکل وقت میں ثابت قدم رہنے کی ترغیب دی۔
پاکستانی خواتین کا کردار صرف 1965ء کی جنگ تک محدود نہیں۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک خواتین نے ملک کی تعمیر و ترقی میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ تعلیم، طب، سائنس، فوج، پولیس، سیاست، صحافت اور دیگر شعبوں میں پاکستانی خواتین اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ اور باصلاحیت عورت نہ صرف اپنے خاندان کی تربیت کرتی ہے بلکہ ایک مضبوط اور ترقی یافتہ قوم کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یومِ دفاع ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ وطن کا دفاع صرف سرحدوں پر ہتھیار اٹھانے سے نہیں ہوتا بلکہ ہر شہری اپنی ذمہ داری پوری کرکے ملک کی خدمت کر سکتا ہے۔ خواتین اپنے بچوں کی اچھی تربیت، تعلیم کے فروغ، قومی یکجہتی اور معاشرتی خدمت کے ذریعے وطن کو مضبوط بنا سکتی ہیں۔ اگر خواتین اور مرد مل کر اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیں تو پاکستان مزید ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
آخر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یومِ دفاعِ پاکستان میں خواتین کا کردار قربانی، حوصلے، خدمت اور حب الوطنی کی روشن مثال ہے۔ پاکستانی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، ڈاکٹروں، نرسوں اور رضاکاروں نے ثابت کیا کہ وطن کی محبت کسی ایک طبقے یا جنس تک محدود نہیں۔ ہمیں ان عظیم خواتین کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور ان کے جذبۂ حب الوطنی سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے وطن پاکستان کو ہمیشہ امن، سلامتی اور ترقی عطا فرمائے۔ آمین۔