بہت سے نوجوان دوست مشورہ کرتے ہیں کہ ہم نے درس نظامی کی رسمی تعلیم مکمل کرلی ہے، اب مستقبل میں کچھ سنجیدہ پڑھنا، لکھنا اور فکر و نظر کے میدان میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے احباب سے عرض ہے کہ اپنی علمی اور ملازمتی سرگرمیاں حسب سابق جاری رکھیں، لیکن اس کے ساتھ مطالعے کا ایک باقاعدہ ذوق اور ترتیب بھی پیدا کریں۔
میرا مشورہ ہے کہ ابتدا میں تین چار ایسے مصنفین کو بالترتیب اور بالاستیعاب پڑھیں، جن کے مطالعے سے علم کے ساتھ فکر کی وسعت اور نظر کی گہرائی بھی پیدا ہو۔
ابتدائی طور پر یہ تین نام خاص طور پر اہم ہیں
۱۔ مولانا مناظر احسن گیلانی
۲۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی
۳۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی
بے شک مولانا مناظر احسن گیلانی سے آغاز کریں۔ ان کی کتب محض سرسری طور پر نہیں بلکہ ٹھہر ٹھہر کر، غور و فکر کے ساتھ پڑھیں۔ جب ان کی بیشتر اہم تصانیف کا مطالعہ مکمل ہوجائے تو مولانا ابوالحسن علی ندوی کی طرف بڑھیں، اور پھر سید ابوالاعلیٰ مودودی کو پڑھیں۔
ان تینوں اہل قلم کے ہاں علمی مزاج، تاریخی شعور، دینی فکر، تہذیبی بصیرت اور عصر حاضر کے مسائل کو دیکھنے کے مختلف زاویے ملتے ہیں۔ تینوں کو پڑھنے کے بعد، ان سے اتفاق یا اختلاف سے قطع نظر، آپ کے لیے ،ان شاء اللہ فکر و نظر کی نئی راہیں کھلنے لگیں گی اور آدمی محض معلومات جمع کرنے کے بجائے چیزوں کو اپنے زاویۂ نظر سے دیکھنے اور سمجھنے کے قابل ہوگا۔
میری نظر میں رسمی تعلیم کے بعد اصل سفر خود مطالعہ، غور و فکر اور مسلسل علمی تربیت کا سفر ہے۔