گینگ ریپ: جرم، انصاف اور قانون کی حکمرانی کا سوال

جب کسی معاشرے میں عورت کا جسم میدانِ جنگ بنا دیا جائے اور انصاف کے دروازے بھی بند ہونے لگیں تو یہ المیہ محض ایک جرم نہیں رہتا بلکہ پورے نظام کے لیے سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ جنسی تشدد کسی عورت کے جسم، عزت اور ذہن پر حملہ ہی نہیں بلکہ ریاست اور معاشرے کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔

حال ہی میں پشاور کے علاقے تھانہ رحمان بابا کی حدود میں دو خواتین سے مبینہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ رپورٹ ہوا۔ پولیس کے مطابق چار مبینہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔ نتیجتاً چاروں مبینہ ملزمان مارے گئے، جبکہ پولیس اہلکار محفوظ رہے۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت اور محرکات کا تعین کیا جا رہا ہے۔

یہ واقعہ کئی سوالات اٹھاتا ہے، مگر سب سے اہم سوال قانون کی حکمرانی کا ہے۔

اگر کسی شخص پر اجتماعی زیادتی جیسے سنگین جرم کا الزام ہو تو قانون کا تقاضا ہے کہ اس کی غیر جانب دارانہ تفتیش کی جائے، شواہد محفوظ کیے جائیں، گواہوں کے بیانات قلم بند ہوں، فرانزک شواہد کا جائزہ لیا جائے اور ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرکے اپنے دفاع کا حق دیا جائے۔ جرم ثابت ہو تو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور الزام ثابت نہ ہو تو ملزم کو بری کردیا جائے۔

پاکستان کا آئین بھی ہر شہری کو منصفانہ سماعت اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کا حق دیتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 10-اے کے تحت فوجداری الزام کا سامنا کرنے والے شخص کو منصفانہ سماعت اور قانونی طریقۂ کار کا حق حاصل ہے۔ قانونِ شہادت کا بنیادی اصول بھی یہی ہے کہ الزام یا دعوے کو شواہد کے ذریعے ثابت کیا جائے۔

اس لیے جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، قانون سے ماورا سزا انصاف نہیں بلکہ ایک خطرناک مثال بن جاتی ہے۔ اگر کسی ملزم کو عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی کسی مسلح کارروائی میں قتل کردیا جائے تو اس کے خلاف عدالتی عمل ختم ہوجاتا ہے اور کئی سوالات ہمیشہ کے لیے جواب طلب رہ جاتے ہیں۔ اگر وہ مجرم تھا تو اس کے خلاف شواہد عدالت میں پیش ہونے چاہیے تھے اور اگر بے گناہ تھا تو اسے اپنا دفاع پیش کرنے کا حق ملنا چاہیے تھا۔ اسی لیے ایک مہذب ریاست میں انصاف بندوق سے نہیں، عدالت سے ہوتا ہے۔

تاہم اس واقعے کا سب سے تکلیف دہ پہلو ان خواتین کا ہے جو مبینہ طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بنیں۔ ان کے لیے انصاف صرف ملزمان کی گرفتاری کا نام نہیں بلکہ تحفظ، طبی سہولت، قانونی معاونت، نفسیاتی مدد اور معاشرتی احترام بھی ضروری ہے۔ متاثرہ خواتین کو دوبارہ بدنامی، سماجی دباؤ اور غیر ضروری سوالات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض اوقات جرم کا بوجھ بھی مظلوم کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ عورت سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ وہاں کیوں گئی، کس کے ساتھ گئی، کس وقت گئی یا اس نے مزاحمت کیوں نہیں کی۔ ایسے سوالات اصل مجرم سے توجہ ہٹا کر مظلوم کو ہی کٹہرے میں کھڑا کردیتے ہیں۔ یہ رویہ بدلنا ہوگا۔

جرم کا ذمہ دار مجرم ہوتا ہے، مظلوم نہیں۔

ریاست کی ذمہ داری صرف جرم کے بعد ملزمان کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ جرم کی روک تھام بھی ہے۔ اگر کسی علاقے میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم بڑھ رہے ہوں تو پولیسنگ کے نظام کا جائزہ لینا ہوگا۔ کیا پولیس بروقت کارروائی کرتی ہے؟ کیا متاثرہ شخص بلاخوف مقدمہ درج کراسکتا ہے؟ کیا تفتیش جدید سائنسی طریقوں سے ہوتی ہے؟ کیا فرانزک سہولتیں دستیاب ہیں؟ کیا متاثرین اور گواہوں کو تحفظ حاصل ہے؟

کمزور تفتیش صرف مجرم کو فائدہ نہیں پہنچاتی بلکہ بعض اوقات بے گناہ افراد کو بھی مشکلات میں ڈال دیتی ہے۔ فوجداری قانون گرفتار شخص کے حقوق اور عدالتی نگرانی کے اصول بھی تسلیم کرتا ہے۔ گرفتار شخص کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے اور مخصوص حالات میں عدالتی اجازت کے بغیر طویل حراست سے تحفظ حاصل ہے۔

خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے گھر، اسکول، ہسپتال اور دیگر اداروں میں حفاظتی نظام بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ بچوں کو عمر کے مطابق یہ شعور دینا ضروری ہے کہ اگر کوئی انہیں غلط طریقے سے چھونے، ڈرانے یا کسی نامناسب عمل پر مجبور کرے تو وہ فوراً کسی قابلِ اعتماد بڑے کو اطلاع دیں۔ اسکولوں میں بچوں کے تحفظ کے واضح اصول اور شکایات کا محفوظ نظام ہونا چاہیے۔

معاشرے کا کردار بھی اہم ہے۔ اگر کسی عورت یا بچے کے ساتھ زیادتی ہو اور لوگ یہ سوچ کر خاموش رہیں کہ ’’ہمیں کیا‘‘ تو یہ خاموشی مجرم کو مزید طاقت دیتی ہے۔ لیکن جرم کے خلاف آواز اٹھانے کا مطلب قانون کو ہاتھ میں لینا نہیں۔

جرم پر غصہ فطری ہے، مگر غصے کو قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔

سوشل میڈیا نے ہر شخص کو رائے دینے کی طاقت دی ہے۔ کسی واقعے کی خبر سامنے آتے ہی لوگ ملزمان کو مجرم قرار دے دیتے ہیں، نام اور تصاویر پھیلاتے ہیں اور بعض اوقات تشدد کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ خبر، الزام، تفتیش اور عدالتی فیصلے کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ کسی شخص کو ملزم کہنا ایک قانونی حیثیت ہے، مگر اسے مجرم قرار دینا عدالت کا اختیار ہے۔

پولیس پارٹی پر حملہ بھی اپنی جگہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ اس کی مکمل اور شفاف تفتیش ہونی چاہیے۔ حملہ آور کون تھے؟ ان کا مقصد کیا تھا؟ کیا انہیں معلوم تھا کہ پولیس کے ساتھ مبینہ ملزمان موجود ہیں؟ کیا یہ کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا؟ ان سوالات کے جواب قیاس آرائیوں سے نہیں بلکہ شواہد کی بنیاد پر تلاش کیے جانے چاہییں۔

ہمیں ایسا نظام چاہیے جہاں عورت پولیس اسٹیشن جانے سے نہ ڈرے، بچہ اپنی شکایت بیان کرتے ہوئے خوف محسوس نہ کرے، گواہ سچ بولنے پر خود کو غیر محفوظ نہ سمجھے اور مجرم کو یہ یقین نہ ہو کہ وہ طاقت یا اثر و رسوخ کے ذریعے قانون سے بچ سکتا ہے۔

ریاست کو چاہیے کہ ایسے واقعات کی مکمل، شفاف اور سائنسی بنیادوں پر تفتیش کرے، متاثرہ خواتین کو قانونی، طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کرے، پولیس اور عدالتی نظام کو مضبوط بنائے اور قانون کو ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی کرے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ انصاف صرف مجرم کو سزا دینے کا نام نہیں؛ مظلوم کو تحفظ، عزت اور اعتماد دینے کا نام بھی ہے۔

اگر ہم نے قانون کی حکمرانی کو کمزور ہونے دیا تو کل کسی اور گھر کی عزت، کسی اور ماں کی امید اور کسی اور بچے کا مستقبل خطرے میں ہوگا۔ ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہے جہاں قانون طاقتور ہو، مظلوم محفوظ ہو، عورت باعزت ہو، بچہ بے خوف ہو، تفتیش شفاف ہو اور مجرم قانون سے فرار نہ ہوسکے۔

کیونکہ کسی قوم کا مستقبل صرف اس کی بلند عمارتوں میں نہیں ہوتا، بلکہ اس بات میں محفوظ ہوتا ہے کہ اس کے بچے کتنے محفوظ ہیں اور اس کی عورتیں خود کو کتنا محفوظ سمجھتی ہیں۔

انصاف کمزور ہوگا تو معاشرہ محفوظ نہیں رہ سکتا، اور قانون کی حکمرانی کے بغیر امن صرف ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے