اسلام آباد: احتجاج کے سائے میں

اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے، وہ شہر جہاں ریاست کے اہم ترین ادارے، پارلیمنٹ، عدالتیں، سفارت خانے اور انتظامی مراکز قائم ہیں۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے یہ شہر ایک اور پہچان بھی اختیار کرتا جا رہا ہے.سیاسی احتجاج، ریلیوں، دھرنوں اور راستوں کی بندش کا مرکز۔

یہ صورتِ حال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے. کیا اسلام آباد صرف حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کا میدان ہے یا اس شہر میں رہنے والے عام شہریوں کے بھی کچھ حقوق ہیں؟

جمہوری معاشرے میں احتجاج کوئی جرم نہیں۔ اختلافِ رائے، سیاسی اجتماع اور پُرامن احتجاج شہری آزادیوں کا حصہ ہیں۔ پاکستان کا آئین بھی شہریوں کو پُرامن اور غیر مسلح اجتماع کا حق دیتا ہے، اگرچہ عوامی نظم و ضبط کے مفاد میں قانون کے تحت معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب احتجاج کا حق دوسرے شہریوں کے حقوق سے متصادم ہونے لگے۔

ایک مریض کو اسپتال پہنچنا ہو، طالب علم کو امتحان دینا ہو، وکیل کو عدالت پہنچنا ہو، ملازم کو دفتر اور تاجر کو اپنی دکان تک پہنچنا ہو۔ ان میں سے کسی کا سیاسی تنازع سے کوئی تعلق نہیں، لیکن سڑکوں کی بندش، کنٹینرز، ٹریفک کی معطلی اور راستوں کی غیر یقینی صورتِ حال کا سب سے زیادہ اثر انہی لوگوں پر پڑتا ہے۔

دوسری طرف احتجاج کرنے والے بھی اسی ملک کے شہری ہیں۔ ان کے سیاسی مطالبات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن محض اختلاف کی بنیاد پر ان کے پُرامن اجتماع کے حق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہی جمہوریت کا اصل امتحان ہے۔

ریاست کی ذمہ داری صرف احتجاج روکنا نہیں بلکہ احتجاج کے حق اور شہری نظم کے درمیان توازن قائم کرنا بھی ہے۔ اگر کوئی احتجاج قانون کے دائرے میں ہے تو اسے مناسب قانونی طریقۂ کار کے ذریعے منظم کیا جانا چاہیے، اور اگر کوئی شخص یا گروہ قانون توڑتا ہے تو کارروائی بھی قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔

اسلام آباد میں اجتماعات اور احتجاج کو منظم کرنے کے لیے Peaceful Assembly and Public Order Act, 2024 بھی موجود ہے۔ اس قانون کا مقصد پُرامن اجتماع کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی نظم، شہریوں کی نقل و حرکت اور املاک کا تحفظ کرنا ہے۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ مسئلہ قانون کی عدم موجودگی کا ہے یا اس کے مؤثر، شفاف اور یکساں نفاذ کا؟

ہماری سیاسی تاریخ میں احتجاج اور دھرنے کوئی نئی چیز نہیں۔ سیاسی جماعتیں حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، وقت کے ساتھ ان کا احتجاج کے بارے میں مؤقف تبدیل ہوتا رہا ہے۔ جو جماعت اقتدار میں ہوتی ہے وہ سڑکوں کی بندش کو عوامی مشکلات قرار دیتی ہے، جبکہ اپوزیشن اسی احتجاج کو عوامی آواز کا نام دیتی ہے۔

یہ تضاد ہماری سیاسی ثقافت کا ایک اہم مسئلہ ہے۔

جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں۔ جمہوریت کا حسن یہ بھی ہے کہ اقتدار میں موجود شخص اختلاف سننے کا حوصلہ رکھتا ہو اور اختلاف کرنے والا قانون کی حدود کا احترام کرے۔

احتجاج کرنے والوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کا حق وہاں ختم ہوتا ہے جہاں دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق غیر ضروری طور پر متاثر ہونے لگیں۔ ایمبولینس کا راستہ روکنا، اسپتالوں تک رسائی متاثر کرنا، سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانا یا پورے شہر کو مفلوج کر دینا کسی بھی سیاسی مقصد کو اخلاقی یا جمہوری جواز فراہم نہیں کرتا۔

لیکن ریاست کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ہر احتجاج کو سڑکوں کی بندش، طاقت یا وسیع پیمانے پر پابندیوں کے ذریعے ختم کرنا مستقل حل نہیں۔ اختلاف کو دبانے سے اختلاف ختم نہیں ہوتا؛ بعض اوقات وہ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج کے لیے واضح اور قابلِ عمل ضابطہ موجود ہو۔ ایسے مقامات مقرر کیے جائیں جہاں سیاسی جماعتیں اور شہری پُرامن اجتماع کر سکیں، جبکہ اسپتالوں، عدالتوں، تعلیمی اداروں اور اہم شہری راستوں تک رسائی ہر صورت برقرار رہے۔

انتظامیہ احتجاج سے پہلے ٹریفک کے متبادل انتظامات کرے، شہریوں کو بروقت معلومات فراہم کرے اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں بلاامتیاز کارروائی کرے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی کہ ان کا احتجاج عام شہری کے لیے سزا نہ بن جائے۔

اسلام آباد کو نہ احتجاج سے خوفزدہ شہر بنانا چاہیے اور نہ ایسا شہر جہاں ہر سیاسی اختلاف کا اختتام سڑکوں کی بندش پر ہو۔

دارالحکومت میں اختلاف کی آواز بھی سنائی دینی چاہیے اور عام شہری کی زندگی بھی رواں رہنی چاہیے۔

اصل کامیابی یہ نہیں کہ احتجاج ختم ہوگیا؛ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ احتجاج کا حق بھی محفوظ رہے، قانون کی حکمرانی بھی قائم ہو اور عام شہری کے حقوق بھی پامال نہ ہوں۔

اسلام آباد ریاست کا دارالحکومت ہے، کسی ایک جماعت، حکومت یا گروہ کی ملکیت نہیں۔ یہ ہر پاکستانی کا شہر ہے—اور اس شہر کو سیاست کے ساتھ ساتھ شہری زندگی کے لیے بھی محفوظ، پُرامن اور قابلِ رسائی رہنا چاہیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے