ہمارے ہاں ایک عادت عام ہے جس کا ہم کم ہی اعتراف کرتے ہیں۔ کسی ایک مسئلے پر کوئی ہم سے اختلاف کرے تو ہم چند لمحوں میں اس کی ہر بات رد کر دیتے ہیں۔ پھر معاملہ اور بگڑ جاتا ہے۔ ہم خیال کو چھوڑ کر شخص کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ یہ پختہ یقین کی نشانی نہیں۔ یہ اس ناپختہ ذہن کا رویہ ہے جس نے کبھی اختلاف کرنا سیکھا ہی نہیں۔
ذرا دیکھیے یہ رویہ کن لوگوں میں ملتا ہے۔ صرف کمنٹس میں غصہ نکالنے والا اجنبی ہی نہیں، اکثر وہ لوگ بھی اس کا شکار ہوتے ہیں جن کا کام ہی سوچنا ہے، یعنی اساتذہ، وکلا، مدیر اور سیاسی حکمت کار۔ انھیں تو سب سے بہتر معلوم ہونا چاہیے۔
کسی بھی شعبے کے بڑے ناموں پر نظر ڈالیے۔ تاریخ ایسے ذہین لوگوں سے بھری پڑی ہے جنھوں نے اپنے ہی ہم عصروں سے طریقہ کار اور تعبیر پر سخت بحثیں کیں۔ آج ہم انھیں احترام سے یاد کرتے ہیں، کیونکہ ان میں سے بہترین لوگوں نے بحث اور شخصیت کے درمیان ایک لکیر قائم رکھی۔ وہ ایک نکتے پر لڑے، مگر مخالف کو سچائی کا دشمن قرار نہیں دیا۔ وہ جانتے تھے کہ فرق سمجھ کا ہے، کردار کا نہیں۔ اگر وہ ایک دوسرے سے وہی سلوک کرتے جو ہم آج اپنے مخالفین سے کرتے ہیں تو ہم انھیں بالکل مختلف انداز میں یاد کر رہے ہوتے۔
آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ایک فریق کے لوگ، ماہر ہوں یا عام آدمی، دوسرے فریق کی کسی قابل احترام شخصیت کے لیے، اس کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی، کلمہ خیر کہنے میں ہچکچاتے ہیں۔ کبھی یہ سوچ ہوتی ہے کہ وہ اس کا حق دار نہیں، کبھی یہ ڈر کہ اپنا حلقہ ناراض نہ ہو جائے۔ لاہور میں مختلف جامعات کے اہل علم کے ایک سیشن میں میں نے یہ منظر خود دیکھا۔ ایک محدود مسئلے پر بحث کو اس سوال میں بدل دیا گیا کہ کون درست سوچ رکھتا ہے اور کون دائرے سے باہر ہے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ ہم میں سے بہت سے لوگ دل میں یہ مان بیٹھے ہیں کہ سچائی اپنے گروہ کی حد پر آ کر مکمل ہو جاتی ہے۔ ہم یہ بات زبان سے نہیں کہتے، مگر ہمارا طرز عمل اور مخالف کے لیے ذرا بھی گنجائش نہ چھوڑنا یہی کہہ دیتا ہے۔
اب ایک دوسرا منظر سوچیے۔ مخالف حلقوں سے تعلق رکھنے والی دو بڑی شخصیات، جن کا کسی اہم سوال پر کھلا اختلاف سب کو معلوم ہے۔ ایک دوسرے سے ملنے آتا ہے۔ ملاقات ختم ہوتی ہے تو میزبان مہمان کو گاڑی تک چھوڑنے جاتا ہے اور اس وقت تک کھڑا رہتا ہے جب تک گاڑی روانہ نہ ہو جائے۔ پختہ اختلاف ایسا ہوتا ہے۔ جس نکتے پر فرق ہے اس کا ذکر ضرور کیجیے، مگر جن ننانوے فیصد باتوں پر اتفاق ہے انھیں اپنے لہجے، زبان اور رویے پر غالب رکھیے۔ ہم نے ایک فیصد اختلاف کو معاشروں کی تقسیم کا سبب بنا لیا اور ننانوے فیصد اتفاق کو طاقت نہ بنا سکے۔
اختلاف ایک فیصد ہے یا دس فیصد، یہ بحث ایک طرف رکھیے۔ اصل کام یہ ہے کہ لوگوں کی ایسی تربیت ہو کہ وہ فرق کو انسانی زندگی کا فطری حصہ سمجھیں۔ تنوع قدرت میں بھی ہے اور انسانوں میں بھی۔ دو ذہن ایک جیسے نہیں بنتے اور آج تک کوئی ایسی دنیا بنی ہی نہیں جہاں سب ایک طرح سوچتے ہوں۔ عجیب بات ہے کہ ہم اختلاف مٹانے میں پوری توانائی لگا دیتے ہیں، جو کبھی کامیاب ہونے والا منصوبہ تھا ہی نہیں، اور اسے برداشت کرنا یا دوسروں کے ساتھ رہنے کا حصہ ماننا نہیں سیکھتے۔
دو عادتوں کو رواج دینے کی ضرورت ہے۔ پہلی یہ کہ اختلاف کا جواب دلیل اور علم سے دیا جائے۔ دوسری یہ کہ خود کو اختلافی نکتے تک محدود رکھا جائے اور مخالف کی ذات یا نیت پر حملہ نہ کیا جائے۔ دونوں پر عمل ہو تو صحت مند مکالمہ شروع ہو سکتا ہے اور گروہ بندی کی گرفت ڈھیلی پڑ سکتی ہے۔ تب اختلاف کا انجام سر پھٹول اور گالم گلوچ نہیں ہوگا، ہر ایک کی رائے کا باہمی احترام ہوگا۔