پاکستان میں شناختی دستاویزات کی فراہمی کا واحد مجاز ادارہ نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) ہے، جو کہ 2000 میں قائم ہوا اور آج دنیا کے سب سے بڑے بائیو میٹرک ڈیٹابیسز میں سے ایک کا حامل ہے۔ اس کا بنیادی کام شہریوں کی رجسٹریشن، شناخت کی تصدیق اور قانونی دستاویزات کا اجراء ہے، تاہم پیدائشی ریکارڈ کی کمی، زندگی کے بنیادی واقعات یعنی پیدائش، نکاح، طلاق اور وفات کی بروقت رجسٹریشن میں غفلت کا ارتکاب نیز پرانے دستی نظام شناخت میں موجود پیچیدگیوں کے سبب اب بھی لاکھوں شہریوں کے لیے شناختی دستاویزات کے حصول میں پریشانی کا سامنا ہے۔ نادرا شہریوں کو درپیش ایسی پریشانیوں اور مسائل کا ادراک کرتے ہوئے انہیں دور کرنے کے لیے موثر اقدامات کر رہا ہے۔
نادرا کا قیام مارچ 2000 میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف رجسٹریشن اور نیشنل ڈیٹابیس آرگنائزیشن کے انضمام سے عمل میں آیا، جس کا مقصد دستی رجسٹریشن کو کمپیوٹرائزڈ نظام میں تبدیل کرنا تھا۔ 2001 میں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) کے اجرا کے ساتھ پاکستان دنیا کے سب سے بڑے دستی نظام سے جدید ترین ڈیجیٹل رجسٹریشن میں منتقل ہوگیا۔ آج نادرا کے ڈیٹابیس میں 223 ملین سے زائد افراد رجسٹرڈ ہیں، جن میں 116 ملین مرد اور 107 ملین خواتین شامل ہیں، اور ادارے کے 966 اندرون ملک قائم مراکز، 10 بیرون ملک قائم مراکز اور 237 موبائل رجسٹریشن وینز نیز سینکڑوں مین فیک یونٹس (نادرا کا پیدل رجسٹریشن عملہ) دن رات ایک کر کے شہریوں کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
شہریت کے استحقاق کے لیے نادرا کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ درخواست گزار کی پاکستانی شہریت اور خاندانی تعلق کی تصدیق ہو۔ 18 سال کی عمر مکمل ہونے پر CNIC لازمی دستاویز ہے جو کہ سرکاری، مالی، سفری اور نجی اداروں میں شناخت کے بنیادی ثبوت کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ نادرا صرف CNIC ہی نہیں بلکہ بچوں کے لیے چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (CRC، اب اس کو کارڈ کی صورت میں بھی جاری کیا جاتا ہے جس کو جوینائل کارڈ کہا جاتا ہے)، خاندانی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC)، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے NICOP جبکہ پاکستانی نژاد غیر ملکیوں کے لیے پاکستان اوریجن کارڈ (POC) بھی جاری کرتا ہے۔
شناختی دستاویزات کے حصول کا باقاعدہ طریقہ کار عام طور پر یہ ہے کہ درخواست گزار نادرا رجسٹریشن سینٹر جاتا ہے، بائیومیٹرک تصدیق (انگلیوں کے نشانات، تصویر اور حال ہی میں آئیرس بھی شامل) کرواتا ہے، اور مطلوبہ دستاویزات جمع کرواتا ہے۔ پہلی بار کارڈ بنوانے والے نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مکمل دستاویزات کے ساتھ نادرا مرکز جائیں، کیونکہ نامکمل معلومات کی وجہ سے اکثر دستاویزات کے حصول میں تاخیر یا پریشانی ہوتی ہے۔ اب گھر بیٹھے آن لائن درخواست کی سہولت بھی PakID موبائل ایپ کے ذریعے دستیاب ہے، لیکن بعض صورتوں میں بائیو میٹرک تصدیق کے لیے نادرا مرکز جانا لازمی رہتا ہے۔
اس عمل میں درپیش سب سے سنگین مسئلہ پیدائشی سرٹیفکیٹ کی عدم دستیابی ہے۔ سندھ میں 2018-19 کے دوران ایک سروے کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے صرف 34 فیصد بچوں کی پیدائش رجسٹرڈ تھی، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح صرف 17 فیصد تھی۔ یہ بچے بڑے ہو کر شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ اور رسمی ملازمت سے محروم رہتے ہیں۔ نادرا نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے 2026 میں ایک عارضی سہولت متعارف کروائی ہے جس کے تحت 31 دسمبر 2026 تک پیدائشی سرٹیفکیٹ کے بغیر بھی، خاندان کے رجسٹرڈ افراد کی بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے CNIC جاری کیا جا سکتا ہے۔
اس سہولت سے مستفید ہونے کے لیے درکار شرائط میں فرق ہے مثلاً 18 سال یا اس سے زائد عمر کی شادی شدہ خواتین کے لیے نکاح نامہ، والدین یا شوہر کا کارڈ اور بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہے، جبکہ غیر شادی شدہ خواتین کے لیے والدین کا کارڈ اور بائیو میٹرک تصدیق کافی ہے۔ اس طرح 24 سال سے زائد عمر کے مردوں کے لیے والدین اور کم از کم ایک بہن یا بھائی کا نادرا کارڈ ہونا اور والد یا والدہ کی بائیو میٹرک تصدیق ضروری ہے۔ تاہم تنقید یہ ہے کہ 24 سال سے کم عمر کے مرد اس سہولت سے مستفید نہیں ہو سکتے، حالانکہ وہ بھی اسی مسئلے کا شکار ہیں۔
شناختی کارڈ کے حصول میں دوسرا بڑا مسئلہ پرانے اور زیادہ عمر کے درخواست گزاروں کی ریکارڈ تصدیق میں تاخیر ہے۔ نادرا کے ترجمان کے مطابق، نادرا کے قیام سے قبل کا دستی ریکارڈ تلاش کرنے میں ایک یا دو دن یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے، کیونکہ ایسے افراد کی شناخت اور خاندانی تعلق کی تصدیق کے لیے پرانے سرکاری ریکارڈ سے مدد لی جاتی ہے۔ یہ عمل اگرچہ شہریت کی درست تصدیق کے لیے ضروری ہے، لیکن عوام کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نادرا ہر چھ ماہ کے بعد اپنے قوائد و ضوابط پر نظر ثانی کر رہا ہے تاکہ ان لوگوں کی شکایات کا ازالہ کیا جائے جن کو شناختی دستاویزات کے حصول میں مسائل پیش آتے ہیں۔
تیسرا چیلنج رجسٹریشن کی مجموعی شرح میں موجود کمی ہے۔ نادرا کے مطابق بالغ آبادی کی رجسٹریشن تقریباً 98.3 فیصد مکمل ہو چکی ہے، لیکن باقی 1.7 فیصد زیادہ تر خواتین اور ان اضلاع میں ہیں جہاں سول دستاویزات کا نظام بوجوہ کمزور ہے۔ یہ کمی ظاہر کرتی ہے کہ محض مراکز کی تعداد بڑھانا کافی نہیں، بلکہ دور دراز علاقوں میں پیدائش کے اندراج کے نظام کو بھی مضبوط اور مربوط کرنا ہوگا۔
نادرا نے ڈیجیٹل خدمات کے میدان میں بھی موثر پیش رفت کی ہے۔ PakID موبائل ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل شناخت اور تصدیق کی سہولت دی جا رہی ہے، اور 2025 میں Nishan Pakistan کے نام سے پورٹل متعارف کروایا گیا جو کہ اداروں کے لیے شناخت کی تصدیق کو معیاری اور آسان بناتا ہے۔ یہ اقدامات شہریوں کے لیے کارڈ بنوانے کے عمل کو کافی حد تک آسان کرتے ہیں، لیکن بنیادی رکاوٹیں یعنی پیدائشی ریکارڈ کی کمی اور پرانے دستی ریکارڈ کی پیچیدگیاں اب بھی موجود ہیں۔
ان مسائل کا پائیدار حل یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں پیدائش کے اندراج کے نظام کو بہتر اور آسان بنائیں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، تاکہ مستقبل میں شہریوں کو شناختی کارڈ کے لیے پیدائشی سرٹیفکیٹ کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ساتھ ہی نادرا کو چاہیے کہ وہ 24 سال سے کم عمر مردوں کے لیے بھی متبادل تصدیق کا کوئی واضح اور شفاف طریقہ کار وضع کرے، اور پرانے ریکارڈ کی ڈیجیٹل منتقلی کو تیز کرے تاکہ شناختی کارڈ کے حصول تاخیر کم سے کم ہو۔
نادرا کا شناختی نظام پاکستان کی گوڈ گورننس اور ڈیجیٹل معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، لیکن اس کی رسائی اور کارکردگی کا انحصار اس بات پر ہے کہ پیدائشی رجسٹریشن کا بنیادی ڈھانچہ کتنا مضبوط اور وسیع ہے۔ 2026 کی عارضی سہولت گوں ایک مفید اقدام ہے، مگر اس مقصد کے لیے طویل المدتی حل کے لیے سول رجسٹریشن کے نظام اور نادرا کے ڈیٹابیس کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور دیہی علاقوں تک رسائی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔