سعودی عرب: ایئرپورٹس پر کریم اور اوبر سروس پر پابندی

جدہ : آن لائن ٹیکسی سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کریم اوراوبر پر سعودی عرب کے تمام ایئرپورٹس سے مسافروں کو اٹھانے پر پابندی عائد کردی گئی۔

سعودی عرب کے محکمہ ٹریفک کے عہدیدار کرنل طارق علی ربانی کے مطابق ایئرپورٹ حدود سے مسافروں کو اٹھانے پرعائد پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیورز کو محکمہ ٹریفک سزائیں دے گا۔

سعودی اخبار’المدینہ‘ نے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ٹریفک کے ترجمان کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا کہ کریم اور اوبر کو سعودی عرب کے ایئر پورٹس سے مسافروں کو اٹھانے سے روک دیا گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ حکام نے ایئرپورٹ قوانین کو سخت کر دیا ہے جبکہ ملک میں تیزی سے مقبول ہونے والی موبائل ایپس کمپنیوں کے ڈرائیورز کو روک سروس کی فراہمی سے روکا ہے۔

اس سے پہلے بھی خلیجی ممالک میں انتظامیہ اور اوبر کے درمیان کشیدہ تعلقات دیکھے گئے تھے، اوبر نے گزشتہ ماہ ہی سعودی عرب کے قریبی ملک دبئی سے طویل عرصے تک قیمتوں کے تعین اور دیگر معاملات کا معاہدہ کیا تھا۔

سعودی عرب نے اوبر اور اس کی حریف کمپنی کریم کو ملک میں آنے کی اجازت دی، جب کہ وژن 2030 کو وسعت دینے کے لیے دونوں کمپنیوں نے سرمایہ کی بھی کی، کیوں کہ سعودی حکومت وژن کے تحت مقامی افراد اور خاص طور پر خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بڑھاناچاہتی ہے۔

سعودی عرب میں جہاں خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی عائد ہے،اور نجی ڈرائیورز زیادہ مہنگے پڑتے ہیں، وہاں 80 فیصد خواتین سفری سہولیات کے لیے اوبر اور کریم کی سروس کو استعمال کرتی ہیں۔

سعودی عرب کے سرکاری پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے جون 2016 میں 3 ارب 50 کروڑ ڈالر کی بولی دے کر اوبر کو خریدا، جب کہ ریاستی ادارے سعودی ٹیلی کام کمپنی (ایس ٹی سی) نے دسمبر میں کریم میں 100ملین ڈالر سرمایہ کاری کی۔

دوسری جانب حکام سعودی مردوں کو روزگار حاصل کرنے کے لیے ایپس کے استعمال کے لیے بھی ان حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

ادھر یہ رپورٹیں بھی منظرعام پر آئی ہیں کہ گزشتہ برس نومبر میں کریم اور اوبر کی جانب سے سعودی شہریوں کو محدود نوکریاں دی گئیں، جب کہ ان ہی کمپنیوں میں سعودی عرب کے اندر غیر سعودی بھی بطور ڈرائیور رجسٹرڈ ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے