ایک شہر کتنے گاؤں کھا جاتا ہے؟

کیا کبھی آپ نے سوچا نیا شہر بستے بستے کتنی بستیاں کھا جاتا ہے؟ اسلام آباد میں گھومتے پھرتے کبھی کبھی یہ سوال دستک دیتاہے اور دل کی دنیا اداس کر جاتا ہے۔

شاہراہ دستور پر، ایوان صدرسے چند قدم کے فاصلے پر سڑک کے کنارے دو قبریں ہیں۔ جگمگاتے شہر میں ان قبروں پر کوئی دیا نہیں جلتا۔ یہاں سے گزرتا ہوں تو سوالات میرے ہمراہ ہو لیتے ہیں۔یہ کن کی قبریں ہین، یہ کون لوگ تھے، کب فوت ہوئے، کیا یہاں کوئی بستی ہوا کرتی تھی جو پامال کر کے یہ شہر آباد ہوا، وہ بستی والے کہاں گئے، ان قبروں پر ایک دیا اور دو پھول ہی کوئی رکھ جایا کرے۔کیا شہر ایسے بسائے جاتے ہیں کہ ان کی چکا چوند میں پرانی تاریخ کا کوئی حوالہ ہی نہ ملے؟ قبروں کے پاس ہی سیکرٹریٹ ہے جہاں بیوروکریسی کا شہر آباد ہے۔ زندہ لوگوں کا آبادقبرستان کہہ لیجیے۔ کبھی کسی محکمے کو خیال نہیں آیا ایک کتابچہ ہی مرتب کر دے کہ اسلام آباد سے پہلے یہاں کی دنیا کیسی تھی، کتنے گاؤں تھے، کتنی بستیاں تھیں۔

اسلام آباد میں تین بوڑھے برگد کئی کہانیاں سناتے ہیں لیکن شہر والوں کے پاس وقت کہاں ہیں ان کی چھاؤں میں جا بیٹھیں، کچھ اپنی کہیں، کچھ ان کی سنیں۔شاہراہ دستور کے آخر میں، پنجاب ہاؤس کے پاس جا کر سڑک بائیں جانب مڑتی ہے۔یہ خیابان اقبال ہے۔ ساتھ ہی ٹریل فائیو ہے۔اس کی دہلیز پر ایک برگد کا ضعیف درخت ہے۔ حکومت کا ایک خستہ سا کتبہ بتاتا ہے اس کی عمر چار سو سال ہے۔ اس کے نیچے بھی کئی قبریں ہیں۔ یہ کن کی قبریں ہیں، یہ لوگ کہاں سے آئے تھے، کون تھے؟ ان کے بارے میں کتبہ بھی خاموش ہے اور تاریخ بھی۔ شہر اقتدار میں، لوگوں کے سوچنے کو اور بڑے مسائل ہیں، ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں کون وقت ضائع کرے۔

خیابان اقبال پر تھوڑا آگے جائیں، ٹریک تھری اور مارگلہ کرکٹ گراؤنڈ سے آگے دائیں جانب برگد کا ایک اور درخت ہے۔ اس کے نیچے بھی ایک آدھ قبر موجود ہے۔ یہ تو معلوم نہیں یہ کس کی قبر ہے لیکن یہاں ایک غیر معمولی اہتمام کیا گیا ہے اور سڑک کا رخ موڑ کر اس برگد اور قبر کو بچایا گیا ہے۔ اس اہتمام سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ قبر کسی معزز اور بزرگ شخصیت کی رہی ہو گی اور جب مقامی زمینوں کی زمینیں لے کر یہ شہر بنایا جا رہا ہو گا تو شایدلوگوں نے شرط رکھی ہو گی اس قبر کا احترام کیا جائے۔

برگد کا ایک درخت ایف ایٹ میں بھی موجود ہے۔ اسلام آباد کچہری کے پہلو میں۔ یہاں بھی اس کے نیچے چند قبریں ہیں اور یہاں بھی وہی اہتمام نظر آتا ہے کہ برگد کے درخت اور قبروں کو بچانے کے لیے سڑک کو موڑا گیا ہے۔یہ دونوں برگد یوں سمجھیے کہ سڑک کے بیچ میں کھڑے ہیں اور سڑک ان کے احترام میں ایک طرف سے ہو کر گزر جاتی ہے۔ان قبروں میں کون ہے؟ معلوم نہیں۔

شکر پڑیاں سے تھوڑا آگے قدیم زمانوں کی ایک نشانی ہوا کرتی تھی۔ اسے Lotus lake یعنی کنول جھیل کہا جاتا تھا۔ درختوں کے بیچوں بیچ ایک راستہ اس جھیل تک جاتا تھا۔ زمانہ طالب علمی میں کتنی شامیں یہاں گزریں۔ اب اس کا کہیں نام و نشان نہیں رہا۔ کبھی آپ لوک ورثہ گئے ہوں تو وہاں ایک خوبصورت عمارت اور اس کے جھروکے آدمی کو دم بخود کر دیتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں لوک ورثہ میں حکومت نے یہ عمارت خود تعمیر کروائی ہے۔ میں بھی یہی سمجھتا رہا۔ بھلا ہو سجاد اظہر صاحب کا یوں قدیم زمانوں سے روشناس کراتے رہتے ہیں۔مجھے ان سے معلوم ہوا یہ عمارت تو راجہ اللہ داد خان کی حویلی تھی۔روایت ہے کہ یہاں ایک پورا گاؤں آباد تھا۔ پھر ایک دن حکم ہوا، گاؤں خالی کر دیا جائے اور راجہ صاحب نے بھی حویلی خالی کر دی۔ حویلی خالی ہو گئی۔شکر پڑیا ں کے دونوں تکیے ویران ہو گئے۔گاؤں وقت کی دھول بن گیا۔کنول جھیل بھی شاید اسی گاؤں کی ایک یاد گار تھی۔ گاؤں اجڑ گیا تو جھیل کب تک آباد رہتی۔اسے بھی اجڑنا ہی تھا۔

لوک ورثہ کے بالکل سامنے ایک حسین گوشہ ہے۔اسے 1969 کہتے ہیں۔ کہنے کو یہ ایک ہوٹل ہے لیکن آپ اس میں چلے جائیں تو محسوس ہو گا آپ واقعی 2020میں نہیں، 1969 میں زندہ ہیں۔ روشن دانوں میں لگے ڈھیروں رنگوں کے شیشے، بجلی کے وہی پرانے بٹن اور وہی قدیم وائرنگ۔ آج ہم میں سے کتنے لوگوں کو معلوم ہے وہ جس ہوٹل میں بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہیں یہ بھی راجہ اللہ داد خان کی حویلی تھی۔حکومت کا کیا جاتا ہے، یہاں ایک بورڈ ہی نصب کر دے، لوگ اس شہر کی قدیم تہذیب سے تو واقف رہ سکیں۔

فیصل مسجد کے پہلو سے جو ٹریل سکس اوپر جاتا ہے، ہمارے لیے یہ محض تفریح ہو گی لیکن ایک زمانے میں یہ راستہ تھا جو کلنجر نامی گاؤں کو جاتا ہے اور جہاں فیصل مسجد ہے، سجاد ظہر بتاتے ہیں کہ یہاں ٹیمبا نام کا گاؤں تھا۔سید پور، مل پور، بارہ کہو، گولڑہ شریف، کری وغیرہ تو آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں لیکن کٹاریاں، سنبل کورک، گھج ریوٹ، روپڑاں، پتن، بھیگا سیداں، مچھریالاں، پہالاں، بھانگڑی جابو جیسے کتنے ہی گاؤں اجڑے تب جا کر اسلام آباد، آباد ہوا۔آج کس کو معلوم ہے آبپارہ کی جگہ کبھی باغ کلاں نام کا گاؤں آباد تھا اور ای سیون کسی زمانے میں ڈھوک جیون ہوتا تھا۔

ٹریل فائیو بھی محض ایک ٹریل نہیں،یہ پوری تہذیب ہے۔شاید کبھی اس کی کہانی بھی لکھ سکوں۔اسلام آباد میں ہر پت جھڑ سالوں کاقصہ کہتی ہے۔ بس سننے والے کم کم ہیں۔احمد مشتاق یاد آ گئے:
یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے
اسے دیکھیں یا اس میں ڈوب جائیں

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے