اس بحث کا آغاز معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل کے ان کلمات سے ہوا جس پر انہوں نے غیر مشروط معافی مانگ لی ۔ مولانا طارق جمیل سے یہی توقع تھی کہ وہ ہمیشہ بحث اور الجھاؤ سے دور رہتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر ابھی تک یہ بحث بڑی شدت سے جاری ہے ۔دو انتہاؤں کے درمیان دلیل اور تہذیب کی بات کم ہی دیکھنے میں ملتی ہے ۔ایسے میں استاد محترم پروفیسر طاہر ملک کی تحریر پڑھنے کا موقع ملا یہ تحریر میڈیا کے حق میں لکھی گئی تھی تاہم غیر دانستہ طور پر وہ بھی مولانا طارق جمیل کے موقف کی تائید کر گئے کیونکہ میڈیا کے حوالہ سے یہ لکھناکہ وہاں سب سچ ہی لکھا اور دکھایا جاتا بہت مشکل ہے۔ خود حامد میر کے ایک پرانی ویڈیو گردش کررہی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ میڈیا صرف دس فیصد سچ دکھاتا ہے اب صرف دس فیصد سچ اور نوے فیصد جھوٹ دکھانے والوں کو اگر آپ جھوٹا نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے اس کا جواب واضح ہے ۔اگرچہ حامد میر نے صحافی سبوخ سید سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ اس کی وجہ مختلف قسم کے دباؤ ہیں لیکن یہ بھی ایک طرح سے تائید ہی تھی کیونکہ وجوہات کیا ہیں یہ الگ ایشو ہے ۔
میڈیا میں ہر ایک کا اپنا ایجنڈا ہے سچ دکھاتے ہوئے بھی اپنے انداز میں ( جسے ہم اینگلنگ کرنا یا اینکرنگ کرنا کہہ سکتے ہیں ) اس کو پیش کرتا ہے ۔ چونکہ استادِ محترم نے بھی ایک واقعہ پیش کیا ہے جس پر انہوں نے اعتراف کیا کہ ایک خبر کو صرف ایک اخبار نے ٹھیک شائع کیا باقی سب نے جھوٹ لکھا اسی وجہ سے میں نے لکھا کہ انہوں نے مولانا طارق جمیل کے موقف کی تائید کردی۔
یہاں میں بھی کچھ واقعات کا ذکر کرنا چاہوں گا تاکہ کچھ منظر نامہ واضح ہو جائے ۔اسلام آباد میں ایک صحافی ( نام لینا مناسب نہیں) بھارتی اخبار کے لیے کام کرتے تھے انہوں نے ایک دفعہ ایک ایسی شخصیت کا فرضی انٹرویو شائع کردیا جس سے ان کی ملاقات ہی نہیں ہوئی تھی ۔میں نے لاہور فون کیا تو پتا چلا کہ یہ صاحب تو کبھی ملے ہی نہیں جبکہ انہوں نے ون ٹو ون انٹرویو شائع کیا تھا اور سوال جواب کے ساتھ شائع کیا تھا ۔میں نے اس کا تذکرہ رانا عاصم قدیر ( جو پریس کلب کے جنرل سیکرٹری بھی رہ چکے تھے اور میری اس صحافی سے ملاقات ان کے ذریعے ہی ہوئی تھی) سے کیا انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ باقاعدہ درخواست دیں ہم اس پر پی ایف یو جے کی کمیٹی بناتے ہیں اور معاملہ کی تحقیق کرتے ہیں ۔میں نے درخواست دی جس پر ایک کمیٹی بھی بنا دی گئی ۔ اس صحافی نے بھی نجی ملاقات میں اعتراف کیا کہ یہ ان سے غلطی ہوئی ہے ۔تاہم اب چونکہ جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا تھا کیونکہ بھارت اس شخصیت کے بیانات کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا تھا اس لیے اب تیر تو کمان سے نکل چکا تھا اس لیے الجھنے کی بجائے اس معاملہ کو ایسے ہی چھوڑ دیا گیا بعدازاں اس صحافی نے ایک معروف سیاستدان کے ذریعے معذرت بھی کرلی۔لیکن اس انٹرویو کا ازالہ تو نہیں ہو سکتا تھا۔
اسی طرح ایک دفعہ راولپنڈی میں ایک جماعت کے خلاف وال چاکنگ کرتے ہوئے دو لڑکے پکڑے گئے ۔شہر میں وال چاکنگ پر پابندی تھی اور وہ وال چاکنگ بھی نفرت انگیز نعروں پر مبنی تھی انہیں گرفتار کرکے چالان پیش کر دیا گیا ۔جس پر اب سے بڑے انگریزی اخبار نے خبر لگائی جس میں جس تنظیم کے خلاف وال چاکنگ تھی اسی کے بارے میں لکھا گیا کہ ان کے کارکن نفرت انگیز وال چاکنگ کرتے پکڑے گئے۔ میں روزنامہ ڈان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ آپ کے رپورٹر نے خبر غلط فائل کی ہے اور انہیں ایف آئی آر دکھائی انہوں نے بڑے شائستہ انداز میں معذرت کی اور مجھے کہا کہ آپ اسی رپورٹر کو اپنی طرف سے وضاحتی بیان دے دیں ۔
میں نے گزارش کی کہ چونکہ یہ آپ کے رپورٹر کی غلطی ہے اور اس کی وجہ سے چند دوسری اخبارات میں بھی یہی خبر چلی اس لیے آپ کو معذرت بھی کرنی چاہیے اور درست خبر بھی دینی چاہیے لیکن موصوفہ نے صاف انکار کر دیا کہ اس طرح ہماری کریڈیبلٹی متاثر ہوتی ہے میں نے گزارش کی کیا جھوٹی خبر دینے سے کریڈیبلٹی متاثر نہیں ہوگی ، لیکن ظاہر ہے الجھنا مناسب ہی نہیں تھا سو میں معذرت کرکے واپس آگیا۔ اسی طرح کا ایک تیسرا واقعہ ہے کہ ایک دوست نے مجھے فون کیا اور ایک خبر کے بارے میں پوچھا میں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ آپ اپنا موقف دے دیں میں نے کہا کہ جب ایسی بات ہی نہیں ہے تو میں کیسے موقف دے دوں انہوں نے کہا کہ میں تو یہ خبر فائل کرنے والا تھا میں نے کہا جب ایسا کچھ ہوا ہی نہیں ہے تو آپ خبر کیوں دیں گے ۔ابھی ان سے بات ختم ہوئی تھی کہ۔
مجھے لاہور سے فون آگیا کہ آپ کے نام سے یہ خبر لگی ہوئی ہے ۔مجھے افسوس ہوا میں نے کہا کہ میری ابھی بات ہوئی ہے وہ تو کل کے لیے خبر کہہ رہے تھے ۔ لیکن خبر شائع ہونے کے بعد مجھ سے پوچھنا اور موقف لینا کیا معنی رکھتا ہے ۔میں نے انہیں دوبارہ فون کیا تو موصوف کہنے لگے میں نے خبر لکھی ضرور تھی لیکن فائل نہیں کی تھی کیونکہ آپ نے خبر کی تردید کردی تھی میں نے کہا کہ آپ نے تو میرے نام سے خبر لگائی ہے۔کہنے لگے کہ یہ ایڈیٹر کی غلطی ہے میرا خیال تھا کہ آپ سے پوچھ کر آج خبر فائل کروں گا لیکن ایڈیٹر نے میرے فولڈر سے خبر اٹھا لی اور لگا دی۔
ایسے اور بھی کئی واقعات ہیں لیکن مقصد صرف یہ ہے کہ میڈیا میں مفادات ایجنڈا سیٹنگ بہت زیادہ ہے جس کا اعتراف خود آپ کو صحافی بھی کرتے نظر آئیں گے. اس لیے انکو ٹھیک کرنا چاہیے تاہم یہ بھی درست ہے کہ سب ہی برا نہیں ہے البتہ مالکان کے مفادات اور سپانسر کے ایجنڈہ سیٹنگ ایک اچھے صحافی کی سچی سٹوری کو بھی بری طرح متاثر کر جاتے ہیں ۔ اب میڈیا کمرشل ہو چکا ہے ۔مولانا طارق جمیل کی تنقید کے باوجود میڈیا مجبور ہے کہ اپنی ریٹنگ کے لیے ان کے پروگرام کروائے اور مولانا طارق جمیل صاحب مجبور ہیں کہ وہ اپنی بات پہنچانے کے لیے میڈیا کا سہارا لیں ۔ اس سلسلہ میں مختلف آرا ہو سکتی ہیں جن سے آپ اختلاف بھی کرسکتے ہیں اور اتفاق بھی کر سکتے ہیں اسی طرح جزوی اتفاق یا اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے باوجود مہذب انداز اور دلیل سے بات کر ی چاہیے ۔ایک دوسرے کی رائے کو سننے کی ہمت ہونی چاہیے تاکہ اپنی بات بھی سنائی جا سکے ۔