کسوٹی

اس وقت کورونا وائرس، کووڈ۔۱۹ کے خلاف جدوجہد اقوام عالم کیلئے قومی جنگ کی حیثیت اختیار کرچکی ہے ۔ مختلف ممالک اور اقوام اس جنگ کے مختلف مرحلوں پر موجود ہیں ۔ جہاں ایک طرف بہت سے ممالک اس آزمائش میں لڑکھڑاگئے ہیں، وہاں اس جنگ میں فتح یاب ہونے والے ممالک کی فہرست میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ مختلف ممالک کی جدوجہد کی نوعیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کونسا ملک ،ترقی ، بہتر ڈھانچے ، قومی اتحاد، اعلی قیادت ، معیشت ، طویل اور قلیل المیعاد پالیسیوں اور دیگر بے شمار پیمانوں کے اعتبار سے کہاں کھڑا ہے۔ بیشک یہ ایک کسوٹی ہے جس سے مختلف ممالک کی کارگردگی کو پرکھا جاسکتاہے ۔

میں نے کچھ عرصہ قبل َ کورونا ،مثبت کیا ہے ِ کے عنوان سے ایک کالم تحریر کیا تھا جس میں ذکر کیاتھا کہ کورونا کے کیا مثبت پہلو ہوسکتے ہیں ۔ٓ کووڈ۔۱۹کی آزمائش کے دوران مختلف ممالک کی کارکردگی ابھر کر سامنے آرہی ہے ۔ اس دوران یہ ثابت ہوچکاہے کہ چینی حکومت اور عوام کی یکجہتی اپنی مثال آپ ہے، یہاں ایک مضبوط نظام عوام کی خوشحالی اورتحفظ کا ضامن ہے۔ جرمنی کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی ٹیسٹنگ کی پالیسی نے اسے یورپ کے دوسرے ممالک سے ممتاز کردیا ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے ایک مرتبہ پھر اپنی قیادت کا لوہا منوایا ہے ۔ جنوبی کوریا نے بھی اپنا نام کامیاب ممالک کی فہرست میں لکھوا دیاہے۔

دوسری طرف کووڈ ۔۱۹کی آزمائش کے دوران امریکی قیادت بری طرح ایکسپوز ہوگئی ہے۔ آج پوری دنیا میں ان کا مذاق بن گیاہے ۔ امریکی قیادت کی طرف سے ایسے ایسے بیانات آئے ہیں جو لطیفوں کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ دانشوروں کی ایک بڑی تعداد یہ کہہ رہی ہے کہ کسی نے محضوظ ہونا ہو تو کووڈ۔۱۹سے متعلق وائٹ ہاوس کی پریس بریفنگز دیکھیں۔ برطانیہ کی کارکردگی بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

ایک صحافی کے طور پر مجھے ہمیشہ سکسس سٹوریز کنفلکٹ سٹوریز کی نسبت زیادہ اچھی لگتی ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین کی کووڈ۱۹ کیخلاف جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوچکی ہے اس وقت چین کی توجہ کووڈ۱۹ کے سلسلے میں دنیا کے ساتھ تعاون ، معمولات زندگی اور معیشت کی بحالی پر مرکوز ہے ۔ تاہم کورونا کیخلاف جدوجہد کی کامیاب کہانیوں کے منظر عام پر آنے کا سلسلہ جاری ہے ۔

ووہان، چین میں انسداد وبا کی جدوجہد کا سب سے اہم اور فیصلہ کن میدان جنگ رہا۔ ووہان میں کووڈ-۱۹کے مریضوں کی صحت یابی کی شرح چورانوے فیصد رہی ۔ تقریباً نوے فیصد شدید بیمار معمول کی زندگی کی طرف لوٹ چکے ہیں۔ عوام کی زندگی اور صحت کو مقدم رکھنا ، حاملہ خواتین ، بچوں اور معمر افراد جیسے کمزور گروہوں کو ترجیحی بنیاد پر دیکھ بھال فراہم کرنا اور ہر جان کی قدر کرنا، وہ رہنما تصورات ہیں جن کے بدولت چینی عوام نے ووہان میں وبا کے خلاف جنگ میں نئے باب رقم کئے۔

ووہان میں موجود نیو نیو نامی بچہ بدقسمتی سے پیدائش کے صرف 17 دن بعد نوول کورونا وائرس سے متاثر ہوا۔اس وقت اس کو بخارتھا اور سانس لینے میں دشواری پیش آرہی تھی ۔ طبی عملے نے اس ننھی جان کا بھرپور انداز میں خیال رکھا اور اینٹی وائرل اور غذائیت سے اس کا علاج شروع کیا ۔ڈاکٹر زاور نرسز 24 گھنٹے انکیوبیٹر کے پاس رہ کر نیو نیو کی دیکھ بھال کرتے رہے ۔ تین ہفتے کی مسلسل دیکھ بھال کے نتیجے میں نیو نیو صحت یاب ہوگیا۔
صرف یہ نہیں 8 اپریل تک کی ڈیٹا کے مطابق، صرف ووہان چلڈرن ہسپتال میں نوول کورونا وائرس سے متاثرہ اور مشتبہ متاثرہ 779 بچوں کا کامیاب علاج کیا گیا، اس دوران 2283 نئی زندگیاں محفوظ طور پر پیدا ہوئیں اور ہسپتال میں بچوں اور حاملہ خواتین کے درمیان ایک دوسرے سے انفیکشن کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

کووڈ-۱۹ کے مریضوں میں ، بزرگ سب سے کمزور گروپ ثابت ہوئے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں پہلے سے دیگر عارضے بھی لاحق ہوتے ہیں۔ چین میں ڈاکٹروں کو ان کے علاج میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے علاج کے لئے زیادہ طبی وسائل کی ضرورت تھی۔ تاہم حکومت نے اس حوالے سے تمام ممکنہ سہولیات کا اہتمام کیا۔

لو جیانگ کی عمر ستر سال ہے ۔ان کا تقریباً تین مہینے تک علاج کیا گیا ۔ان کے علاج کے دوران دو مرتبہ ” ای سی ایم او "کا استعمال کیا گیا۔ ان کے علاج پر چودہ لاکھ یوآن لگ بھگ تین کروڑپاکستانی روپے سے زائد کا خرچہ آیا ، لیکن ان کے علاج کے تمام اخراجات چینی حکومت نے برداشت کئے اور آخرکار ان کی جان بچا لی گئی۔

ووہان میں صحت یاب ہونے والے مریضوں میں 3600 ایسے مریض ہیں جن کی عمریں 80 سال یا اس سے زیادہ ہے اور اس عمر کے افراد میں صحت یاب ہونے کی شرح 70 فیصد رہی۔

اگر وہ کرسکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ آج پاکستان کو بھی کووڈ۔۱۹کا سامنا ہے۔ آئیے اس آزمائش کی کسوٹی پر پورا اترنے کی کوشش کریں کووڈ۔۱۹ کیخلاف جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں، اور ان اقوام اور ممالک کی صف میں شامل ہو اپنا وقار بلند کریں، جو کووڈأ۱۹ کیخلاف جدوجہد میں کامیابی کے راستے پرگامزن ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے