قبائلی اضلاع انضمام کے دو سال بعد بھی ترقیاتی فنڈ کے ثمرات سے محروم

قبائلی اضلاع انضمام کے دو سال بعد بھی ترقیاتی فنڈ کے ثمرات سے محروم ، سینکڑوں ترقیاتی منصوبے سرکاری مشینری نہ ہونے اور افسر شاہی کے سرخ فیتے کے باعث کاغذوں تک محدود ہوکر رہ گیا۔ بجٹ پاس ہوئے دس ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا، قبائلی اضلاع کے ترقیاتی فنڈز کا صرف 15فیصد ہی مشکل سے خرچ کیا جاسکا۔ بیشتر سرکاری محکموں نے ترقیاتی فنڈ استعمال کرنے کےلئے فائلیں تک نہیں کھولیں اور قبائلی اضلاع سے متعلق وفاق اور صوبے کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

[pullquote] قبائلی اضلاع کے ترقیاتی فنڈ کا طریقہ کار کیا ہے؟؟۔۔۔ [/pullquote]

مئی 2018ء میں سات قبائلی ایجنسیاں اور چھ ایف آرز کی خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد پہلی مرتبہ فیصلہ ہوا کہ 2019-20ءکا بجٹ قبائلی اضلاع کےلئے وفاق کی بجائے خیبرپختونخوا حکومت پیش کریگا۔ گزشتہ سال جون میں 2019-20ءکے بجٹ میں قبائلی اضلاع کےلئے 83ارب روپے کی ترقیاتی فنڈ کی منظوری دی گئی تاہم طے ہوا کہ 83ارب روپے میں سے 72ارب روپے وفاق وزارت ترقی و منصوبہ بندی کے ذریعے خیبرپختونخوا حکومت کو اداکریگا اور گیارہ ارب روپے خیبرپختونخوا حکومت اپنی تئیں قبائلی اضلاع کی ترقی پر خرچ کریگا، تاہم قبائلی اضلاع میں تمام ترقیاتی کام وفاق سے منظوری لینے کی بجائے خیبرپختونخوا حکومت کریگا۔ وفاقی حکومت دس سال تک خیبرپختونخواحکومت کو قبائلی اضلاع کی ترقی کےلئے سالانہ 100ارب روپے سے زائد کی ادائیگی کریگا اور دس سالوں کے دوران مجموعی طورپر 1350ارب روپے سے زائد ترقیاتی فنڈ خرچ کیا جاسکے گا۔

[pullquote]ترقیاتی فنڈ خرچ کیوں نہیں ہورہا؟؟۔۔۔ [/pullquote]

رواں مالی سال کے بجٹ میں قبائلی قبائلی اضلاع کےلئے 83 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ کی منظوری دی گئی۔ خیبرپختونخوا حکومت نے گیارہ ارب روپے میں سے ایک پائی بھی جاری نہیں کی جبکہ وفاق نے وزرات ترقی و منصوبہ بندی کے ذریعے دس ماہ کے دوران 32ارب 85کروڑ روپے جاری کئے۔ قبائلی اضلاع میں انضمام کے بعد سب سے زیادہ ترقیاتی فنڈز سرکاری عمارتوں اور سڑکوں کی تعمیر پر خرچ کیا جاناتھا لیکن ٹرانسپورٹ ، آئی ٹی، تحقیق، بہبود آبادی، زرعی یونیورسٹی، معدنیات، قانون، لائیو سٹاک، اوقاف، ریونیو، ماحولیات اور ایکسائز جیسے 12محکموں کے نہ تو قبائلی اضلاع میں دفاتر ہیں اور نہ کسی قسم کا عملہ ، جس کے باعث یہ ادارے اور محکمے ترقیاتی فنڈز خرچ نہ کرسکے۔ محکمہ تعلیم مختص 3ارب 68کروڑ کے ترقیاتی فنڈز میں سے دس ماہ کے دوران 54کروڑ اور محکمہ صحت ایک ارب 75کروڑ کے ترقیاتی فنڈ میں سے محض 37کروڑ روپے ہی خرچ کرسکی۔ سب سے زیادہ ترقیاتی فنڈز دس سالہ منصوبوں کے تحت سات ارب 34کروڑ روپے خرچ کئے جاسکے۔ مجموعی طور پر 83ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز میں سے صرف 12ارب 72کروڑ یعنی صرف 15فیصد ہی خرچ کئے جاسکے۔

[pullquote]کیا قبائلی اضلاع کا فنڈ ضائع ہوجائےگا؟؟۔۔۔[/pullquote]

محکمہ خزانہ کے اعلیٰ افسر کے مطابق مئی تک جو بھی محکمہ ترقیاتی فنڈ استعمال نہیں کرتا وہ اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ جون کے پہلے ہفتے تک غیر استعمال شدہ ترقیاتی فنڈ سرینڈر یا واپس کرے اور یہی طریقہ کار قبائلی اضلاع کے متعلق بھی اپنایا گیا ہے اگر حکومت کی دلچسپی ہوئی تو جون میں سڑکوں اور بلڈنگز کی تعمیر کےلئے ٹینڈرز کا اجراء کرکے ترقیاتی فنڈز کو استعمال کرسکتی ہے، لیکن کورونا کے باعث اس وقت بیشتر سرکاری محکموں کے ترقیاتی فنڈز کو منجمد کرکے کورونا کے لئے بحالی اور امدادی سرگرمیوں کےلئے استعمال کیا جارہاہے۔ قبائلی اضلاع میں فنڈ کو دوسرے مدوں میں استعمال کرنے سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے ، لیکن فنڈز استعمال نہ ہونے کے باعث عدالتوں اور کئی دیگر اہم سرکاری دفاتر کی تعمیر التوا کا شکار ہوگئی ہے۔ خدشہ ہے کہ اگلے مالی سال کے دوران کورونا کے باعث ترقیاتی فنڈز پر بہت بڑا کٹ لگے گا ، جس کی وجہ سے قبائلی اضلاع کے ترقیاتی کام مزید متاثر ہونگے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے