"ہمارا ہیرو کون؟”

آئے دن ہمارے ہاں بعض لوگ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کےلئے یہ بحث چھیڑ دیتے ہیں کہ ہمارا اصل ہیرو کون ہے، راجہ داہر یا محمد بن قاسم؟ یہ لوگ کچھ کمزور روایات کی بنیاد پر ایک طرف فاتح دیبل محمد بن قاسم کو قاتل اور ظالم کہتے ہیں تو دوسری طرف راجہ داہر کو مقامی ہونے کے ناطے اپنے مٹی کا سپوت کہہ کر ہیرو قرار دیتے ہیں۔

[pullquote]سوال یہ ہے کہ آخر یہ لوگ اس بحث میں کیوں اتنی دلچسپی رکھتے ہیں اور ان کی اس روش کے پیچھے کون سی ذہنیت کار فرما ہے؟[/pullquote]

وہ کیوں اس بحث کو اتنی شد ومد سے بڑھاوا دیتے ہیں اور اس سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ ان کی دلیلوں میں کتنا اخلاص اور کتنا کھوٹ ہے؟ آئیے مل کر انہی سوالوں کا جواب تلاش کرتے ہیں۔

پہلا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا محمد بن قاسم کی سندھ آمد سے متعلق جو پس منظر ہم تاریخ اور مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں اپنے بچپن سے پڑھتے آئے ہیں وہ سراسر من گھڑت اوربغیر کسی مستند روایت کے ہے؟ اس کا جواب نہیں میں ہے۔ بلاذری نے اپنی کتاب "فتوح البلدان” میں محمد بن قاسم کی آمد کی وہی معروف وجہ بیان کی ہے جس کے مطابق وہ راجہ داہرکی قید سے کچھ مسلم خواتین کو بازیاب کروانے کے لیے یہاں بھیجا گیا تھا۔ بلاذری کی صدیوں قبل لکھی گئی یہ کتاب ظاہر ہےکہ ہمارے کسی ٹیکسٹ بک بورڈ کا کارنامہ نہیں کہا جا سکتا۔ اب منطقی طور پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہےاگر کوئی شخص غیر معتبر تاریخی روایات کو درست تسلیم کرتے ہوئے محمد بن قاسم جیسے فاتح مسلم سپہ سالار سے نفرت کرنے پر بضد بھی ہو تو اس سے راجہ داہر نام کے توہم پرست اور بدکردار ہندور راجہ سے محبت کا جواز کیسے پیدا ہو جاتا ہے؟

آپ کو شاید یاد ہو گا کہ ان لوگوں کی جانب سے چند ماہ قبل اس طرح کی بحث سید احمد شہید کی تحریک جہاد سے متعلق بھی چھیڑی گئی تھی اور رنجیت سنگھ کو ہیرو قرار دیا گیا تھا۔ وہی رنجیت سنگھ جس اپنی مسلم رعایا پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تھےاور اس کی مذہبی رواداری کا یہ عالم تھا کہ اس نے لاہور کی بادشاہی مسجد کو اپنے گھوڑوں کے اصطبل میں بدل دیا تھا۔ اسی طرح محمود غزنوی کے مقابلے میں جے پال کو بھی ہیروکہنے کی رسم چل نکلی ہے۔ اور تو اور سلطان ٹیپو اور احمد شاہ ابدالی کو بھی ظالم کہہ کر مرہٹوں سے اظہار ہمدردی کیا گیا ہے۔

یہ سب دیکھ کر یہ سوال پیدا ہونا ایک فطری امر ہے کہ اگرایک محمد بن قاسم سے یہ نفرت محض کچھ تاریخی حقائق کا ہی نتیجہ ہے تو نفرت کا یہ رویہ برصغیر کے تمام مسلم فاتحین اور حکمرانوں کے لیے عام کیوں ہے؟ اگر ہمارے سیکولر اور لبرل عناصر کی یہ نفرت محمد بن قاسم سے مخصوص ہوتی تو ہم بلا شبہ اس مغالطے کا شکار ہو سکتے تھے کہ شاید اس کے پس پردہ عوامل میں کچھ نہ کچھ ان تاریخی روایات کا بھی دخل ہوگا جو محمد بن قاسم سے منسوب کی جاتی ہیں، لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایک طرف اس بحث کا محرک نام نہاد سیکولر طبقہ محمود غزنوی، احمد شاہ ابدالی، سلطان ٹیپو اور سید احمد شہید جیسے تمام مسلم ہیروز کے ساتھ یکساں برتاؤ کرتا دکھائی دیتا ہے، اور دوسری طرف راجہ داہر اور جےپال سے لے کر رنجیت سنگھ تک آنے والے ہر اسلام دشمن اور ظالم حکمران کو بلا تفریق اپنا ہیرو قرار دیتا ہے تو اس ابہام کا کافی حد تک ازالہ ہو جاتا ہے۔

اس صورت میں ہمارے لیےاس نتیجے پر پہنچنے کے سوا کوئی چارا باقی نہیں رہتا کہ اس بحث کے محرک عناصر برصغیر میں اسلامی تاریخ کے ہر نشان کو مٹانے کے در پے ہیں اور اسلام دشمنوں کی ہر برائی سے صرف نظر کر کے انہیں ہیرو قرار دینے میں ان کے کوئی اور مذموم مقاصد کار فرما ہیں۔

ایک اور اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس طرز عمل کے پیچھے محض اپنی مٹی کی محبت ہی کارفرما ہے تومسلم فاتحین کے خلاف نفرت پھیلانے والے اپنی توپوں کا رخ صرف ان تک کیوں محدود رکھتے ہیں اور دیگر بیرونی حملہ آوروں کی، بشمول آریائی،انگریز اور فرانسیسی حملہ آور، مذمت کرنا کیوں بھول جاتے ہیں۔ وہ یہ حقیقت بھی کیوں بھلا دیتے ہیں کہ ان کے ممدوح ہندوستان کے راجے مہا راجے آریہ نسل سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے وسطی ایشیا سے یہاں وارد ہوکر یہاں کے مقامی دراوڑ باشندوں کو محکوم بنا کر شودر اور اچھوت کا درجہ دے دیا تھا۔ اگر وہ مقامی اور غیر مقامی کی تقسیم میں ہی دلچسپی رکھتے ہیں اور صرف اسی کو معیار حق مانتے ہیں تو پھر خود راجہ داہر اور جے پال جیسے باہر سے آئے ہوئے لوگ ان کی نظر میں معتوب کیوں نہیں ٹھہرتے اور شودروں کے حق میں جو یہاں کے اصل مقامی باشندے تھے کوئی آواز کیوں نہیں اٹھتی؟

ان سب سوالوں کا جواب نامور مصری صحافی محمد حسین ہیکل کی کہی ہوئی اس بات میں موجود ہے کہ عالمی استعمار کےلئے یہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے کہ وہ ہمارے اصل ہیروز کو زیرو بنا کر پیش کردے اور پھر ہمارے دشمنوں کو ہی ہمارے لیے مصنوعی ہیرو کے روپ میں پیش کردے۔ ہمارے ساتھ بھی یہی مکروہ کھیل کھیلا گیا ہے۔ کسی بھی قوم کےلئے اس کی تاریخ ایک نظریاتی اساس اور "سورس آف انسپائریشن” فراہم کرتی ہے۔ قومیں اپنی ماضی کی تابناک روایات کے سائے تلے زندہ رہتی ہیں۔ تاریخی شناخت ہجوم کو قوم میں بدلتی، اسے وجود بخشتی اور زندہ رکھتی ہے۔

اگر تحریک پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ پاکستان نے دو قومی نظریے یعنی مسلمانوں کے جداگانہ قومی تشخص کی بنیاد پر جنم لیا اور یہی وہ چیز ہے جو اس کے وجود کو قائم رکھ سکتی ہے اور دوام بخش سکتی ہے۔ تقسیم کے وقت پاکستان اور ہندوستان سے محض مذاہب کی بنیاد پر کروڑوں لوگوں کی نقل مکانی ہی اس حقیقت کی ناقابل تردید شہادت فراہم کردیتی ہے کہ دو قومی نظریہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ پاکستان میں جہاں مختلف لسانی اور نسلی پس منظر کے لوگ آباد ہیں صرف مشترکہ دینی پس منظر اور اس سے جڑی ہوئی قومی زبان اردو ہی وہ جوڑنے والی طاقت یا "بانڈنگ فورسز” ہیں جنہوں نے تمام تر نامساعد حالات کے باوجود اب تک ہمیں جوڑے رکھا ہے۔

بدقسمتی سے روز اول سے ہی ہمارے دشمن ان "بانڈنگ فورسز” کو کمزور کرنے اور ہماری دینی شناخت کو مٹانے کےلئے کوشاں رہے ہیں اور ان کی مدد کیلئے ہمارے نام نہاد سیکولر اور مذہب بیزار لوگوں کا ایک طبقہ بھی سرگرم رہا ہے۔ مشرقی پاکستان میں ان عناصر کو خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی جس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہاں پر صنعتی اور تعلیمی میدان میں ہندوؤں کی اجارہ داری تھی اور تعلیمی اداروں میں بیشتر اساتذہ ہندو آبادی سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد جنم لینے والی پوری نسل کی تربیت انہی خطوط پر کی جس میں ان کے ہیروز بدل دیئے گئے تھے۔

ہمارے نام نہاد سیکولر دانشوروں نے جانے انجانے میں اغیار کی اسی ذہنیت کو پروان چڑھایا ہے۔ ایک صاحب نے جن کو سورة اخلاص بھی نہیں آتی "انڈس ساگا” نامی کتاب لکھ کر یہ باور کروانے کی کوشش کی تھی کہ پاکستان ہزاروں سال سے ایک الگ جغرافیائی شناخت رکھتا تھا لہذا اسے کسی نئی شناخت کی ضرورت نہیں تھی۔ اغیار کے مذموم ایجنڈے کو پروان چڑھانے کا ہی نتیجہ ہے کہ ایک مشترک دین اور قومی زبان کی "بانڈنگ فورس” کمزور پڑنے سے لسانیت اور علاقیت کو ہوا ملی ہے۔ کہیں پر بلوچ لبریشن گروپ سرگرم ہیں تو کہیں پی ٹی ایم کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ کہیں سندھو دیش کا نعرہ لگتا ہے تو کہیں جنوبی پنجاب کے استحصال کا رونا رویا جاتا ہے۔ باقی رہ گیا وسطی پنجاب تو اس میں بھی رنجیت سنگھ والی خالص پنجابی شناخت کو ابھارنے کی سرتوڑ کوشش ہو رہی ہے۔

ذرا جامعات کے ماحول اور طلباء کی سرگرمیوں پر نظر کریں تو تہ چلتا ہے کہ لسانیت اور علاقائیت کو فروغ دینے کےلئے پورا ماحول تخلیق کیا جا رہا ہے اور ہمارا ہیرو کون کی یہ بحثیں عام ہو گئی ہیں۔ دوسری طرف اسلامی تشخص اور قومی زبان کے حامیوں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔ بیرونی امداد اور فنڈنگ سے یہ سارا مکروہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ہم ایک ایسی ریاست بنتے جا رہے ہیں جہاں ہر کوئی اس کی جڑیں کاٹنے اور بنیادیں کمزور کرنے میں مصروف ہے۔ اگر ہم واقعی اپنی قومی سالمیت کا تحفظ چاہتے ہیں تو اب بھی وقت ہے کہ اپنا قبلہ درست کیا جائے اور اپنی بنیادی قومی اساس اور قدر مشترک یعنی دین مبین اوراس دینی شناخت سے جڑی ہوئی قومی زبان اردو کے فروغ پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ہرمنفی پراپیگنڈے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے