وہ میری ہرکامیابی کے پیچھے کھڑی ہے.

ماں کی محبت و ممتا عالم میں ایک مثال ہے،ماں کی محبت وہ گہرا سمندر ہے،جس کی گہرائی کو آج تک کوئی ناپ نہ سکانہ ناپ سکے گا۔ماں کی محبت وہ ہمالیہ پہاڑ ہے کہ جس کی بلند یوں کو کوئی آج تک چھو نہ سکانہ چھو سکے گا۔ماں کی محبت وہ سدا بہار پھول ہے جس پر کبھی خزاں نہیں آتی۔ اللہ نے ماں کا رشتہ کیا سوچ کر بنایا تھا، شاید اس دنیا کی تلخیوں میں یہ رشتہ یہ محبت ضروری تھی۔ اگر ماں نہ ہوتی تو پیار کا آغاز ہوتا کیسے، کیسے بہن بھائیوں میں آپس میں محبت ہوتی۔ کیوں کہ ماں ہی وہ واحد رشتہ ہے جو باقی سب رشتوں کو جوڑ کر رکھتا ہے۔ آج ” ماں کا عالمی دن ” ہے۔ مگر میرے لیے تو ہر دن ” ماں” کا ہی دن ہوتا ہے جس نے ہماری اس قدر اچھی تربیت کی اور ہمیں اپنی محبت سے نوازا۔

میں سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں ، میرے والد صاحب تبلیغ سے وابستہ ہیں۔ ان کے زندگی کا اکثر حصہ تبلیغی اسفار ، تبلیغی جماعتوں کے نصرت یا مسجد میں گذرتا ہے ۔ میں سترہ سال کے عمر میں رشتہ ازدواج سے جڑجانے کے بعد تعلیم ، گھر اور اپنے بچوں کے ذمہ داریوں کو سنبھالنے میں مصروف ہوگیا ، اس دوران کئی بار کافی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ، مجھے جب بھی کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے تو میں اس دوران پریشانی ختم ہونے اور مسئلے کے حل تک گھر سے باہر رہنے کو ترجیح دیتا ہوں تاکہ میری والدہ اور والد کو میری پریشانی کا علم نہ ہوسکے ۔میرے والد صاحب اکثر بے خبر رہ جاتے ہیں ، لیکن پوری کائنات میں میری والد ہے جو میرے انگ انگ اور رگ رگ سے واقف ہے۔

میرے شادی کو دس سال ہوگئے لیکن میری اہلیہ اب تک میری مزاج سے اتنی واقفیت حاصل نہ کرسکی جتنی میری والدہ۔میں کسی بھی تکلیف اور پریشانی کا شکار ہوجاؤں تو وہ میرے اٹھنے بیٹھنے انداز گفتگو سے ہی میری پریشانی محسوس کرلیتی ہے۔ اور مجھ سے زیادہ وہ پریشان رہتی ہے۔ دو تین ہفتے قبل مجھے سخت بخار شروع ہوگیا اور سر میں درد بھی ہونے لگا ، کرونا وبا عام تھا اس لیے میں کسی کو بھی بتائے بغیر اپنے کمرے میں قرنطین ہوگیا ، تنہائی اختیار کرلی اس بناء پر کہ خدا نخواستہ کہیں اگر یہ وہ بیماری ہو تو بچوں یا گھر کے دیگر افراد کو لاحق نہ ہوجائے۔میں نے پورے گھر سے ترک تعلق شروع کردیا۔ کسی کو اپنے قریب آنے نہیں دیتا۔ زیادہ تر وقت کتب کے مطالعے یا سوتے ہوئے گذارتا۔

میری والدہ بار بار میری اہلیہ سے میرے صحت کے بارے میں پوچھتی میں انہیں کہتا کہ آپ میرے پاس آنے کی زحمت نہ کریں بس میں ٹھیک ہوں، یا بہانہ کردیتا کہ میں سو رہا ہوں ، یہ رات کا کوئی پہر تھا کہ بخار شدت اختیار کرگیا ، میں سو رہا تھا لیکن بخار کے شدت سے نیند نہ ہونے کے برابر تھی ، میری والدہ چھپکے سے میرے کمرے میں داخل ہوئی ، میرے سر پر ہاتھ رکھا اور ایک دم اللہ اکبر کہہ کر بولی میرے بچے کو اتنا شدید بخار اور تم لوگ مجھے کچھ بتاتے نہیں ۔ موڑی اور ڈھیر ساری ٹیبلٹ لاکر مجھے فوری حکم دیا کہ بیٹا میں بسم اللہ کرو اور یہ کھاؤ ، اس دوران ماں نے مسئلے کا رخ کیا اور کچھ صلوٰة حاجت پڑھ کر دعائیں مانگنا شروع کردیا۔ میری والدہ کے دعا میں اتنا اثر اور خلوص تھا کہ میرا بخار آہستہ آہستہ اترنا شروع ہوگیا اور ایک دو دن بعد میں مکمل صحتیاب ہوکر دفتر ڈیوٹی کیلئے بھی جانا شروع کردیا۔ یہ تو مشت نمونہ از خروار ونہ میری والدہ کی میرے ساتھ محبت اور خلوص کی کہانیاں ہزاروں اوراق کی طلب گار ہیں۔

یومِ ماں ، ماں کا عالمی دن، یوم مادر یا ماں کا دن ہر سال یہ دن مختلف ممالک میں منایا جاتا ہے، عالمی طور پر اس کی کوئی ایک متفقہ تاریخ نہیں، یہ دن مختلف ممالک میں مختلف تاریخوں کو منایا جاتا ہے۔ پاکستان اور اطالیہ سمیت اکثر ممالک یہ دن مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔۔ اور کئی ایسے ممالک بھی ہیں جو یہ دن جنوری ،مارچ ،نومبر یا اکتوبر میں مناتے ہیں۔ اس دن کو منانے کا مقصد اپنی والدہ کی اہمیت کا احساس کرنا، ان کی خدمت کرنا اور انہیں خوشی دینا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس وقت ماں تجھے سلام، مدرز ڈے، مدرز ڈے اسپیشل ہیش ٹیگز بھی ٹاپ ٹرینڈز ہیں۔سوشل میڈیا پر صارفین سمیت سیاسی، سماجی اور شوبز شخصیات غرض کے ہر کوئی ‘مدزر ڈے’ مناتے ہوئے اپنی والدہ کے لیے جذبات کا اظہار کر رہا ہے اور ان کے ساتھ لی گئی یادگار تصویر شیئر کررہا ہے۔
پاکستان میں اس دن کے حوالے سے لوگ دوطبقوں میں تقسیم نظرآتے ہیں، ایک وہ جو اس دن کو ماں کی عظمت کے لیے اہم قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسرے طبقے کا کہنا ہے کہ ماں سے محبت کے لیے ایک دن مختص کرنے کا کیا جواز جبکہ ماں جیسی عظیم ہستی ہمیشہ محبت وتکریم کے لائق ہے۔ماں کے عالمی دن کے موقع پر ہمیںیہ یادرکھنا چاہیے کہ والدین ایک سائے کی طرح ہیں جن کی ٹھنڈک کا احساس ہمیں اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک یہ سایہ سر پر موجود رہتا ہے، جونہی یہ سایہ اٹھ جاتا ہے تب پتہ چلتاہے کہ ہم کیا کھو بیٹھے ہیں۔

مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اس دن کو منانے سے دور رہنا چاہیے اور قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی ماں کو عقیدت ، عزت اور رتبہ دینے کیلئے اپنے ہر دن اور ہر لمحہ کو ماں کے عالمی دن جیسا گزارنا چاہیے۔میرے لیے تو ہر دن ماں سے محبت کا ہے اور ہر اگلے دن میری ماں سے محبت بڑھتی ہے اور ماں کے شفقت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔میں آج کچھ بھی ہوں یہ والدہ کی دعا ؤں اور تربیت کا ثمرہ ہے ، میری تربیت میں والد سے زیادہ ہاتھ والدہ کا ہے۔ اللہ ہمیں اپنے والدین کی کماحقہ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے