آبیل مجھے مار

بالآخر حکومت نے دکانداروں کو ادھ کھلے شٹر پورے کھولنے کی اجازت دیدی۔ حالانکہ اس اجازت کی شاید ان کو ضرورت ویسے ہی نہ تھی۔ کیونکہ وہ تو مختلف قسم کے حیلے بہانوں سے بہت پہلے ہی خود کو دکانیں کھولنے کی اجازت دے چکے تھے۔ حکومت کو بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ لوگ باز آنے والے نہیں کیونکہ ہم وہ قوم ہیں جس کو جس چیز سے منع کرو وہ کرنا تو اپنا لازمی حق سمجھتی ہے۔ اس لئےحکومت نے سوچا کورونا جانے اور عوام جانے۔

خیر میری رائےہے کہ انتظامیہ چاہے تو اب بھی بہت کچھ کرسکتی ہے جس کا ثبوت چار بجے کے بعد تمام دکانیں بند کرنے کے احکامات پر عمل درآمد تھا۔ ذرا کچھ عرصہ پہلے پر نظر دوڑائیں جب کورونا کا پہلا مریض خیبرپختونخوا میں سامنے آیا تو جزوی لاک ڈاون شروع کردیا گیا ۔اس صورتحال سے جہاں ہم سے پہلے سو سے زائد ممالک گزر چکے تھے

ہمارے لوگوں کے پاس خود اور دوسروں کو بھی اس مرض سے بچانے کے بجائے اپنی معمولات زندگی متاثر ہونے کی فکر تھی۔ لوگ اس بات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کررہے تھے کہ ہم پر کتنی بڑی مصیبت آچکی ہے۔ایسا رویہ دیکھ کر یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ شاید کسی دن ایٹم بم کا حملہ بھی ہوا تو ہمارے لوگوں کو اپنی دکانیں بچانے، کھانا کھانے، شادی بیاہ کی تقریبات روکنے ، کاروبار تباہ ہونے کا زیادہ غم ہوگا نہ کہ مصیبت کا۔ یہی طرزعمل اب کورونا وبا میں بھی ہے۔ حکومت، انتظامیہ، میڈیا سب کہہ کہہ کر تھک گئے کہ کچھ دن گھر بیٹھیں اللہ نے رزق کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن خود کو اور دوسروں کو اس آفت سے بچائیں۔ لیکن ہمیں اس بات کا احساس ہی نہیں۔

سرمایہ دار اپنے کارخانے کھولنے کے لیے فکرمند ہیں،دکانداروں عید کے سیزن میں ڈبل منافع نہ کمانے کا غم کھائے جا رہا ہے اور مزدور کو اپنے گھر والوں کی بھوک ستا رہی ہے۔ انہیں اللہ پر یہ بھروسہ تو ہے کہ وہ اسے کورونا سے بچا لے گا لیکن اس بات کا یقین نہیں کہ اگر وہ اپنے اور دوسروں کے لیے گھر بیٹھا تو خدا رزق کا بھی کوئی وسیلہ بنا لے گا۔ آئیے ذرا ان اعداد و شمار پر بھی نظر ڈالتے ہیں جس کی بنیاد پر اس وقت پاکستان دنیا میں کورونا صورتحال میں کہاں کھڑا ہے۔

چین میں جب کورونا کا پہلا مریض سامنے آیا تو اس کے بعد دنیا میں کورونا متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچنے میں 67 روز لگے۔ لیکن اس کے بعد اگلے 11 روز میں تعداد 2 لاکھ ہو گئی جبکہ چار لاکھ تک ہونے میں صرف چھ دن لگے اور اب چار ماہ میں تعداد تقریبا چالیس لاکھ ہو چکی ہے۔اب پاکستان کو ہی دیکھیں تو یہاں کورونا کا پہلا مریض 27 فروری کو سامنے آیا جس کے بعد تعداد ایک ہزار تک پہنچنے میں تقریب ایک ماہ کا عرصہ لگا۔ اس دوران نئے کیسز کی اوسط روزانہ 100 رہی لیکن آج یہ تعداد 26 ہزار تک پہنچنے میں صرف ایک ماہ اور 11 دن لگے جبکہ اوسط روزانہ ایک ہزار ہو چکی ہے۔ ایسے میں حکومت کی ایسی کیا مجبوری ہو گئی تھی کہ خوفناک حالات میں اتنا سنگین فیصلہ کرنا پڑا۔

دنیا کے وہ ممالک جنہوں نے کورونا کی صورتحال کو ابتداء میں آسان سمجھا ان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جس میں اٹلی، انگلستان ، امریکہ ، فرانس شامل ہیں۔ جہاں تباہی کے بعد مجبورا سخت لاک ڈاون کرنا پڑا ۔اللہ ہم پر اپنا رحم فرمائے اگر کوئی معجزہ نہ ہوا تو ہماری صورتحال ان سے زیادہ مختلف نہ ہوگی۔ یہ وقت بحیثیت قوم بھی ہمارے لیے امتحان ہے جس میں اب تک ہم بری طرح ناکام واقع ہوئے ہیں۔

شاید ہم اس قدر آزادی پسند ہو چکے کہ ہمیں اپنی بھلائی بھی قید لگنے لگی ہے۔ تبھی اس خوفناک صورتحال میں ہمیں صرف اپنی آزادی ہی چاہئے۔ لیکن اس صورتحال کے ذمہ دار صرف عوام ہی نہیں بلکہ حکومت بھی ہے جسے عوام کی حفاظت سے زیادہ 2023 کے انتخابات میں کسی صورت اپنی ہار نہ دیکھنے کی خواہش ہے۔ ہفتہ کے روز سے تمام بازار کھل جائیں گے۔ زندگی معمول پر آجائے گی ۔ لیکن ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں یہ نرمی مستقبل قریب میں سختی کا باعث نہ بن جائے اور پھر ہم سب ہاتھ ہی ملتے رہ جائیں۔

حکومت نے تو گیند عوام کے کوٹ میں پھینک دی ہے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ کیسے خود کو اور پورے ملک کو اس سے بچا سکتے ہیں۔چائنہ میں مرض پھیلا تو لوگوں نے رضاکارانہ طور پر خود کو گھروں تک محدود کر لیا کسی لاک ڈاون کی اتنی ضرورت نہیں پڑی،چلو اپنی حکومت کی تو ہم نہیں مانتے مگر ہماری عادت ہے دوسروں کی نقل کرنا تو کم از کم اپنے قریبی دوست ملک چین کے ڈگر پر چل پڑیں۔ جس میں ہماری انا بھی مجروح بھی نہیں ہو گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے