"ترکی کی آزادی میں ایک مولوی کا کردار "

پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر جب "خلافت عثمانیہ "ٹوٹ گئی اور کئی ریاستوں میں بٹ گئی تھی ، اس وقت فاتح قوتوں نے ترکوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عہد کرلیا تھا،یا پھر اس کو اپنے ماتحت رکھنا چاہتی تھی ،تیسرا کوئی آپشن نہیں تھا، لیکن پھر انہوں نے چند شرائط پر ترکی کو ایک آزاد ریاست تسلیم کرلیا، سو سال تک کے لئے ایک معاہدہ ہوا جو معاہد لوازن کے نام سے مشہور ہے۔

معاہدہ کے چند اہم دفعات:

1..اسلامی خلافت ختم کی جائے گی اور اس کی جگہ سیکولر ریاست قائم ہو گی۔

‏2..عثمانی خلیفہ کو ان کے خاندان سمیت ملک بدر کیا جائے گا۔

3..خلافت کی تمام مملوکات ضبط کر لی جائیں گی جن میں سلطان کی ذاتی املاک بھی شامل ہوں گی۔

4..ترکی پٹرول کے لیے نہ اپنی سر زمین پر اور نہ ہی کہیں اور ڈرلنگ کرسکے گا، اپنی ضرورت کا سارا پٹرول اسے امپورٹ کرنا ہو گا۔

‏5..باسفورس عالمی سمندر شمار ہوگا اور ترکی یہاں سے گذرنے والے کسی بحری جہاز سے کسی قسم کا کوئی ٹیکس وصول نہیں کر ے گا۔

یہ شرائط ترکی کے اس وقت کے حالات کے لئے موزوں تھے، چاروناچار انہیں یہ شرائط قبول کرنے تھے ورنہ ان کی ریاست مٹادی جاتی یا پھر وہ مقبوض رہتے،
کیا آپ کو پتہ ہے ترکی کی آزادی ایک مولوی سیاستداں کی مرہون منت ہے،

جس وقت مولانا عبیداللہ سندھی مرحوم شیخ الہند رح کے مشن پر کابل گئے تھے، وہاں افغانستان کے بادشاہ امیرامان اللہ خان نے ایک رات حضرت سندھی رح کو طلب کرکے فرمایا "میرے پاس تار آیا ہے کی یورپین حکومتیں اور انگریزحکومتیں ترکی کو حکم برداری (فرمانبردار )رکھنا چاہتی ہیں، اگر ترکی کو حکم برداری کے تحت رکھا گیا تو ہمیں بھی بھی حکم برداری کے تحت رکھا جائے گا، کوئی تجویز دیں کیا کرنا چاہیے؟؟؟

مولانا نے فرمایا تین خط لکھیں ایک جاپان کے بادشاہ کے نام، ایک فرانس کے بادشاہ کے نام اور ایک اٹالین کے نام، اس میں یہ لکھیں "اگر ترکوں کو جو ایک زندہ قوم ہے حکم برداری کے تحت رکھا گیا تو اس سے بڑی شورش پیدا ہوجائے گی اس کے ذمہ دار تم ہی قرار دئیےجاؤ گے”

چنانچہ افغانستان کے بادشاہ نے وہ خطوط لکھ کر روانہ کردیئے ان خطوظ کا اثر تھا کہ قابض قوتوں نے چند شرائط کے ساتھ ترکی کو ایک آزاد ریاست تسلیم کرلیا تھا ۔۔

عبیداللہ سندھی کے اس عظیم کارنامے کا تذکرہ جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک نے بھی کیا تھا وہ کہتے ہیں "ہندوستانی مسلمان کتنے سچے اور پکے مسلمان ہیں،انھوں نے عظیم الشان کام کئیے، کابل آکر انھوں نے جو کوششیں کی اس سے ہماری سلطنتِ ترکی آزاد ہوئی، ورنہ ہم آج حکم برداری ("فرمانبرداری ) کے ماتحت ہوتے”.

معاہدہ لوازن کے سوسال اختتام پر ہیں،2023 بالکل قریب ہے ، ترکی کو اردگان کی صورت میں ایک زبردست قائد ملا ہے، دنیا کے نقشے پر وہ ایک بار پھر زبردست اور طاقتور مسلم ریاست بن کر ابھرے گا، اللہ اس کا حامی وناصر ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے